اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) مسلم مسیحی اتحاد کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر جے سالک نے کہا ہے کہ پاکستان ایک کثیرالمذاہب اور کثیراللسانی ملک ہے جہاں مختلف مذاہب اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ امن، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ جمعرات کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، مذہبی فرقہ واریت اور نفرت کے ماحول میں مذہبی ہم آہنگی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جے سالک کا کہنا تھا کہ اگر اسلام اور مسیحیت جیسے بڑے مذاہب ایک صفحے پر آ جائیں تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے آئینِ پاکستان کے تحت اقلیتوں کو حاصل مساوی حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ کا مسیحیوں کے نام میثاق ایک قیمتی دستاویز ہے، جس پر عمل اور اس کی ترویج اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کے عہدنامے کی اہمیت پر ایک کتاب شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مذاہب کے درمیان نفرت اور غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دنیا کے 57 اسلامی ممالک کے سربراہان کو اس کتاب کی ایک کروڑ تعداد میں اشاعت میں مدد کے لیے خط ارسال کر رہے ہیں۔ انہوں نے گھر میں ایک بڑا گلوب بنوایا ہے اور اس کے گرد 57 اسلامی ملکوں کے خوبصورت جھنڈے لگوائے ہیں جو صحافیوں کی توجہ کا مرکز بنے۔ پریس کانفرینس میں ان کی اہلیہ میری سالک بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن وقار بختاوری بھی ان کی رہائشگاہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں جس طرح کی پولرائزیشن ہو چکی ہے اور مختلف حوالوں سے لوگ تقسیم ہوتے جا رہے ہیں، دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان اخوات اور یکجہتی اشد ضروری یے اور کام کا آغاز اسلام آباد سے جے سالک کی سربراہی میں ہو گا۔











