حکومت کے پاس پالیسیوں کا فقدان ہے۔شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد(شہزاد انور ملک سے )سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کا وزیراعظم اور اس کے وزراء جھوٹ بولتے ہیں، یہ صرف عوام کو دھوکا دے رہے ہیں اور جو ان کے جھوٹ کا مقابلہ کرے اس پر یہ چڑ جاتے ہیں ۔سابق وزیر اعظم نے کہا ہے ملک میں ایسے حالات پہلے کبھی نہیں آئے،60 فیصد شہری حکومت کی مدد کےمنتظر ہیں۔ اخراجات پورے نہیں کرسکتے،3 روز میں عام گھر پر جس میں 6 افراد ہوں 3 ہزار روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔جہاں اس مسئلے کے حل کی بات ہوسکتی ہے، وہ ایوان آج مفلوج ہے، آج مہنگائی اور غربت کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہے، یہ کام اپوزیشن کا ہے، لیکن اپوزیشن کیا بات کرے جہاں پر زبان بندی ہے۔سابق وزیراعظم خاقان عباسی نے روشن پاکستان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کون کہتا ہے ہم نے بے ایمانی کی ہے یہ جھوٹ بولتے ہیں ثابت تو کرنے نہیں سکتے لیکن بہتان تراشی اور جھوٹ کے علاوہ یہ لوگ کچھ نہیں جانتے ان کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے یہ عوام کے دکھوں کا مداوا کیسے کر سکتے ہیں ان کے پاس پالیسیوں کا فقدان ہے اور یہ ہمیں مافیا کہتے ہیں ۔مسلم لیگ نواز عوامی جماعت ہے اور ہم اپنے قائد میاں محمد نواز شریف جو کے ملک کے تین دفعہ وزیراعظم رہ چکے ہیں ان کے ووٹ کو عزت دو بیانیے کو تقویت دینے کے لیے کوشاں ہیں انھوں نے مزید کہا کے اس وقت ملک میں مہنگائی سے عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے ۔ملک مشکل میں ہے، ایسے حالات ہوں تو حل ڈھونڈنا پڑتا ہے، مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ عوام کو پھر اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا جائے۔
ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ ملکی مسائل کا واحد حل فوری اور شفاف الیکشن میں ہے، ان حالات میں لوگ کیسے گزارا کریں گے، کسی کے پاس جواب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل کا حل جھوٹے وعدے اور یو ٹرن نہیں بلکہ ان مسائل کا حل ملک کے روپے کو بہتر کرنے میں ہے، 40 فیصد چینی کے مالک کابینہ میں بیٹھے ہوئے ہیں ان کی اقرباء پروری کا کون احتساب کرے گا۔
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کا وزیر اعظم عالمی برادری میں بے عزتی کا باعث بن رہا ہے، یہ انتقام میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ انہیں ملک کی کوئی پروا نہیں۔جو کہتے ہیں ہم جھوٹ بولتے ہیں وہ ثابت کریں ہم خدمت کی سیاست پر یقین کرتے ہیں سلیکشن والی سیاست پر نہیں۔
یاد رہے گذشتہ روز اسلام آباد میں کامیاب جوان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران نے کہا کہ یہ لوگ ایک کاغذ نہیں دکھاسکے لندن کے چار فلیٹس کس پیسے سے خریدے۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آڈیو ٹیپس نکل رہی ہیں ججز کے نام آرہے ہیں، آڈیو ٹیپس کا ڈرامہ ہورہا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ لاہور کے پروگرام میں چیف جسٹس کو بلایا جاتا ہے، ادھر مجرم تقریر کرتا ہے، وہ تقریر کرتا ہے جو ملک سے جھوٹ بول کر بھاگا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 25 سال پہلے سیاست میں آیا تو کہا تھا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، قومیں غریب تب ہوتی ہیں جب ملک کا سربراہ،وزراء پیسہ چوری کرتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ میں توبرا بھلا ہوں ہی یہ مجھے کہتے ہیں میں بہت ظالم ہوں، یہ مجھے بھی سپریم کورٹ لے کرگئے میں نے ایک ایک چیز دی،سپریم کورٹ نے مجھ سے 40 سال پرانے کاغذ مانگے میں نے دیے، یہ ایک کاغذ بھی نہیں دکھا سکے کہ لندن فلیٹس کس پیسے سے خریدے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سسٹم کو ٹھیک کرنے میں تھوڑا وقت لگ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں