پولیس کو ابتداء میں ہی بچی کے باپ پر شک تھا۔افضال احمد کوثر

اسلام آباد (کرائم رپورٹر )اسلام آباد پولیس نے کہا ہے 12سالہ بچی کی لاش میٹرو اسٹیشن کے واش روم سے ملی تھی ۔تحقیقات کےدوران پہلا مرحلہ بچی کے لواحقین تک پہنچنا اور شناخت کرنا تھا۔ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر نے پریس کانفرنس میں بتایا پولیس کو ابتداء میں ہی بچی کے باپ پر شک تھا کہ وہ اس قتل میں شامل ہے۔انھوں نے کہا بچی کے والد تک سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچنے میں مدد ملی اور اب
ملزم نے بچی کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔ہم نے جب تفتیش کی اور والد کو اعتماد میں لیا تو انہوں نے آخر میں بتا دیا۔باپ نے بتایا کہ وہی مجرم ہے اور اسی نے اپنی بیٹی کو قتل کیا ہے۔دوران تفتیش اس کی جانب سے کافی صفائیاں بھی دی گئیں۔ایک سوال کے جواب میں افضال احمد کوثر نے کہا کے بچی سے زیادتی کی تصدیق ڈی این اے رپورٹ کے بعد ملے گی جبکہ ملزم نعیم کے مطابق گھریلو حالات اور غربت کی وجہ سے یہ بچی اس پر بوجھ تھی ۔انھوں نے کہا کچھ باتیں ایسی ہمارے علم میں آئی ہیں جن کا زکر کرنے سے میں قاصر ہوں اور ملزم کا قتل کا کوئی جواز قابل قبول نہیں ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کے پولیس میں بہتری کی ضرورت ہر وقت رہتی ہے
ہمیں اسمارٹ، پولیسنگ کی طرف جانا ہےاور ہم کامیابی کی طرف گامزن ہیں ۔انھوں نے کہا کے مستقل ناکے سے زیادہ اسنیپ چیکنگ ضروری ہے اس کا دورانیہ بڑھانے کی طرف غور کر رہے ہیں ۔مزید یہ کے یونیورسٹیوں کے بچوں کو انٹرن کے طور پر تھانوں میں لائیں گے۔اس سے پولیس سسٹم میں بہتری لائیں گے۔جبکہ سیف سٹی کمیرے تیس فیصد اسلام آباد کو کور کرتے ہیں اس کو بھی بڑھانے کی اشد ضرورت ہے ۔

ْْ

اپنا تبصرہ بھیجیں