پولیس کے معاشرتی مسائل کا مداوا کون کرے گا۔تحریر شہزاد انور ملک

اسلام آباد پولیس کا ایک ماہ کا راشن الاؤنس 390 روپے ھے عصر حاضر میں اسلام آباد میں رھتے ھوۓ 390 روپے راشن الاؤنس ایک دن کے لئے بھی ناکافی ھے گورنمنٹ آف پاکستان سے اپیل ھے اگر ادارے سے رشوت کو ختم کرنا ھے تو 390روپے کے بجائے راشن الاؤنس کو بڑھا کر باقی کچھ اداروں کی طرح کم از کم 6000روپے کر دیا جاۓ تا کہ ملازمین کو راشن کی مد میں تحفظ کا احساس حاصل ھو اور گورنمنٹ کے وژن کے مطابق کرپشن میں کمی کا زریعہ بنے .
گزشتہ بجٹ میں باقی تمام اداروں کی طرح اسلام آباد پولیس کی تنخواہ میں بھی اضافہ نہیں ہوا تھا جبکہ APCA نے احتجاج کر کے 25% اضافی الاؤنس حاصل کر لیا ھے جن میں زیادہ تر ملازمین وہ ھیں جو گرمیوں میں ائیر کنڈیشن اور سردیوں میں ھیٹر کے نیچے اپنے ڈیوٹی ہاور مکمل کرتے ھیں اور سرکاری گاڑی ان کو گورنمنٹ کی طرف سے الاٹ شدہ کوارٹرز اور ھاوسز میں بروقت چھوڑ کر آتی ھے اور تمام ویکینڈز بشمول سرکاری چھٹیاں اور تہوار اپنے گھروں میں فیملی کے ساتھ گزارتے ھیں اور اسلام آباد پولیس کی تہواروں کے موقع پر چھٹیاں بند اور ڈیوٹیز میں اضافہ ھو جاتا ھے اور اسلام آباد کی سیکیورٹی پر معمور رہتے ھیں یہ تو ایک جھلکی ھے. باقی اداروں اور پولیس کی تمام سہولیات میں کتنا فرق ھے معزز ممبران اسمبلی اور ممبران کبینٹ بہت بہتر جانتے ھیں.
اگر باقی تمام سہولیات اسلام آباد پولیس کو نہیں دی جا سکتیں یا ملک ان کا متحمل نہیں ھو سکتا کم از کم تنخواہ میں اضافہ تو باقی اداروں کی طرح کیا جاۓ.
اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں اور جوانوں نے آئی جی اسلام آباد اور وزارت داخلہ سے اپیل ھے راشن الاؤنس 6000 اور باقی وفاقی اداروں کی طرح 25% الاؤنس ھماری تنخواہ میں شامل کر کے اسلام آباد پولیس کے ملازمین کے زہنی خلفشار کو دور کیا جاۓ تا کہ امتیازی سلوک کا امیج پیدا نہ ھو سکے.
پولیس کی کم تنخواہ کی وجہ سے ”رشوت ستانی“ میں اضافہ ہوا ہے۔ جب کے ایک گھمبیر مسئلہ جو پولیس کی کارکرگی کو بہتر نہیں ہونے دیتا وہ ہے ڈیوٹی ٹائم۔ دنیا بھر میں کسی ملک میں کسی شعبہ میں ڈیوٹی کا دورانیہ 24 گھنٹے نہیں ہے مگر حیران کن طور پر پاکستان میں پولیس کی ڈیوٹی 24 گھنٹے کی ہے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کئی بار شفٹ سسٹم کے نفاذ کا عندیہ دیا گیا ہے مگر تاحال ایسا نہیں ہوا پولیس اپنا اصل کام کرنے کے بجائے اہم شخصیات کی حفاظت کے لئے اور بیرونی ممالک سے آئے VIP اشخاص، سیاستدانوں اور اعلی افسران کے محافظ کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہے، اس سے پولیس کے ادارے اور جوانوں پر بہت برا پڑا ہے اور پولیس اپنے اصل مقصد سے ہٹ گئی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے محکمے کو مزید نمائشی تجربات سے بچایا جائے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پولیس کو وسائل، تربیت، ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ فراہم کیا جائے اور اصلاحات کا عمل شروع کیا جائے۔ ڈیوٹی ٹائم 24 گھنٹے کی بجائے شفٹ کے نظام کے ذریعے کم کیا جائے، سیاسی مداخلت
ختم کی جائے، تحقیق و تفتیش کے شعبہ میں روایتی انداز کی بجائے جدید طریق ہائے کار کو اپنایا جائے، اہلکاران اور افسران کو جسمانی کے ساتھ نفسیاتی تربیت بھی مہیا کی جائے، تنخواہوں میں معقول اضافہ کیاجائے اور سب سے اہم یہ کہ پولیس ایکٹ 2002 کو اس کی اصل حالت میں نافذ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں