جمعرات,  22 اکتوبر 2026ء
صنوعی ذہانت سے سائبر سکیورٹی کی سنگین خامیوں کا انکشاف، دنیا بھر میں ویب سائٹس عارضی طور پر بند

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز): مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک مقبول پروگرامنگ زبان میں سائبر سکیورٹی کی سنگین خامیوں کا انکشاف ہونے کے بعد دنیا بھر میں متعدد سرکاری اداروں اور کمپنیوں نے اپنی ویب سائٹس اور آن لائن سروسز عارضی طور پر بند کردیں تاکہ ممکنہ سائبر حملوں سے بچاؤ کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جاسکیں۔

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی کے یہ مسائل پی ایچ پی نامی پروگرامنگ زبان میں سامنے آئے ہیں، جو دنیا بھر کی بڑی تعداد میں ویب سائٹس چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس میں ورڈپریس اور ڈروپل جیسے مقبول مواد کے انتظام کے نظام بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ایچ پی دنیا کی تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس میں استعمال ہوتی ہے، جس کے باعث ان خامیوں سے ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل نظام متاثر ہوسکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ امن کے داعی ہیں، ایران نے حملہ کیا تو سخت جواب دیا جائے گا، پینٹاگون حکام

برطانوی وزیر الزبتھ لائیڈ نے ہاؤس آف لارڈز کو بتایا کہ حفاظتی اپ ڈیٹس کے دوران برطانوی حکومت کی تقریباً تین درجن آن لائن سروسز دستیاب نہیں تھیں، جبکہ چار دیگر سروسز جزوی طور پر متاثر ہوئیں۔ برطانوی حکومت کے ترجمان کے مطابق اہم عوامی خدمات بڑے پیمانے پر متاثر نہیں ہوئیں، تاہم سکیورٹی کے کام کے باعث بعض محدود سروسز عارضی طور پر بند کی گئیں۔

امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) اور یورپی یونین کی سائبر سکیورٹی ایجنسی نے اداروں اور کمپنیوں کو پی ایچ پی کی خامیوں سے متعلق فوری حفاظتی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ پی ایچ پی فاؤنڈیشن نے ان مسائل کے حل کے لیے سافٹ ویئر پیچ جاری کرتے ہوئے ویب سائٹس کے منتظمین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے نظام جلد از جلد اپ ڈیٹ کریں۔

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق ان خامیوں سے فائدہ اٹھا کر حملہ آور بعض حالات میں ویب سرورز پر اپنی مرضی کا کوڈ چلا سکتے ہیں، نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں اور حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ایسی معلومات میں پاس ورڈز اور صارفین کا دیگر نجی ڈیٹا بھی شامل ہوسکتا ہے۔ ان خامیوں کو مجموعی طور پر ’’پی ایچ پی ٹو شیل‘‘ (PHP2Shell) کا نام دیا گیا ہے۔

مزید خبریں