استبول(روشن پاکستان نیوز) ترک صدر رجب طیب اردوان نےکہا ہےکہ ترکیے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران نہایت محتاط اور دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے، برادرانہ اور ہمسایہ تعلقات کو بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق انقرہ میں کابینہ اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نےکہا کہ ہم اپنے لیے بچھائےگئے جال میں نہیں پھنس رہے اور ہم پرعزم ہیں کہ آگ کے اس دائرے سے دور رہیں۔
ترک صدر نےکہا کہ گزشتہ 25 دنوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ اسرائیل کی ہے مگر اس کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے، یہ نیتن یاہو کی بقا کی جنگ ہے لیکن اس کا بوجھ 8 ارب انسان اٹھا رہے ہیں، خطے کے امن اور انسانیت کے مفاد میں نیتن یاہو کی قیادت میں چلنے والے قتل عام کے اس نظام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
ترکیہ، پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا، اے ایف پی
انہوں نے زور دیا کہ ہر ملک کو جرات مندانہ اور فعال مؤقف اختیار کرنا ہوگا، اسرائیل کے غیر لچکدار، حد سے زیادہ مطالبات پر مبنی اور سخت رویے سے سفارتی حل کی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
رجب طیب اردوان نےکہا کہ ترکیے ایران میں امن کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کام جاری رکھےگا، امریکا اسرائیل کی ایران جنگ نے خطے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، جنگ سے توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جنگ کے باعث ترک معیشت کو ہونے والے نقصان کے سدباب کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔











