ایران میں قیادت کی تبدیلی، مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر مقرر

تہران(روشن پاکستان نیوز): امریکا اور اسرائیل کے مبینہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں قیادت کی بڑی تبدیلی سامنے آگئی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ماہرین کی مجلس خبرگان رہبری (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 88 رکنی مجلس خبرگان نے بھاری اکثریت سے مجتبیٰ خامنہ ای کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس تقرری کے بعد وہ امام خمینی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔

ایران کے یورینیم پر قبضے کیلیے امریکا کیا کرنے جارہا ہے؟

غیر ملکی خبر رساں اداروں نے بھی ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ طور پر ملک کی اعلیٰ ترین مذہبی اور سیاسی قیادت سونپ دی گئی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای ایک مذہبی عالم ہیں اور انہیں ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے ساتھ قریبی روابط کی وجہ سے طویل عرصے سے اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے حکومتی حلقوں کے بعض بااثر افراد پہلے ہی انہیں قیادت کے لیے موزوں قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر اور دیگر بااثر حلقوں کی حمایت بھی انہیں حاصل رہی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا انقلابی نظام اصولی طور پر موروثی اقتدار کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، تاہم موجودہ صورتحال میں طاقت کے اہم مراکز، بالخصوص انقلابی گارڈز کی حمایت نے مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کو ممکن بنایا۔

مزید خبریں