منگل,  10 فروری 2026ء
زہران ممدانی کی والدہ کا نام ایپسٹین فائلز میں شامل ہونے پر امریکا میں نئی بحث، عوامی و سیاسی حلقوں میں تشویش

نیویارک(روشن پاکستان نیوز) زہران ممدانی کی والدہ کا نام ایپسٹین فائلز میں شامل ہونے کی خبروں کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور آن لائن لیکس کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ جیفری ایپسٹین سے متعلق سامنے آنے والی دستاویزات میں زہران ممدانی کی والدہ کا نام بھی درج ہے، تاہم ان دستاویزات میں نام کا آ جانا کسی جرم یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کا براہِ راست ثبوت نہیں سمجھا جا رہا۔

ماہرین قانون اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایپسٹین فائلز میں شامل بہت سے نام ایسے افراد کے بھی ہیں جنہوں نے کسی موقع پر ایپسٹین سے ملاقات کی، کسی تقریب میں شرکت کی یا کسی پیشہ ورانہ یا سماجی رابطے کے تحت اس سے رابطہ رکھا، اس لیے صرف نام کی موجودگی کو الزام یا جرم کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ اب تک زہران ممدانی یا ان کی والدہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ کسی عدالت یا تحقیقاتی ادارے نے بھی ان کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کیا۔

عوامی سطح پر ردِعمل ملا جلا ہے۔ بعض سوشل میڈیا صارفین شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایپسٹین نیٹ ورک سے جڑے تمام افراد کے کردار کو واضح کیا جانا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ دوسری جانب کئی افراد اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بغیر ٹھوس شواہد کے کسی شخصیت یا اس کے خاندان کو بدنام کرنا ناانصافی ہے اور اسے کردار کشی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

نیویارک میں زہران ممدانی کی کامیابی کو ماریہ بی نے صیہونی پروپیگنڈے کی ناکامی اور عالمی فتح قرار دیا

سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ ایپسٹین فائلز کے اجرا کے بعد ذمہ دارانہ صحافت اور محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس قسم کی معلومات عوامی رائے پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک کسی نام کے ساتھ واضح الزامات، شواہد یا عدالتی کارروائی سامنے نہ آئے، تب تک محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنا مناسب نہیں۔

اس معاملے کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ زہران ممدانی حال ہی میں نیویارک کے میئر منتخب ہو چکے ہیں، اور نیویارک ایک ایسا شہر ہے جہاں یہودی آبادی کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ اسی وجہ سے یہ خبر سیاسی اور سماجی طور پر مزید حساسیت اختیار کر گئی ہے اور بعض حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس قسم کی غیر مصدقہ معلومات کو سیاسی مقاصد یا عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ معاملہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ایپسٹین کیس سے جڑی معلومات انتہائی حساس نوعیت کی ہیں اور ان پر بات کرتے وقت حقائق، قانونی پہلوؤں اور انسانی وقار کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان یا تصدیق سامنے آتی ہے تو صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔

مزید خبریں