واشنگٹن: امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق خفیہ سرکاری دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد عالمی سطح پر سنسنی پھیل گئی ہے۔ امریکی محکمۂ انصاف نے ایپسٹین کے خلاف جاری تحقیقات سے جڑی تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل فائلیں جاری کی ہیں، جن میں دو ہزار ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد تصاویر شامل ہیں۔ تاہم متعدد حصے خفیہ رکھے گئے ہیں اور کئی صفحات مکمل طور پر سیاہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ دستاویزات ایف بی آئی کی تفتیشی رپورٹس، ای میلز، ایپسٹین کی جائیدادوں کی تفصیلات، اور نیویارک کی جیل میں اس کی موت سے متعلق معلومات پر مشتمل ہیں، جسے اب تک ایک معمہ قرار دیا جاتا ہے۔
ان فائلز میں امریکی عہدیداروں پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل، روس اور متحدہ عرب امارات کے نام ایسے ممالک میں شامل ہیں جن پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے امریکی سیاسی اور مالی حلقوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ اسی سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ اسرائیلی اثر و رسوخ کے باعث ’کمپرومائزڈ‘ ہو چکے تھے، جبکہ ان کے داماد جیرڈ کشنر کو انتظامیہ میں بااثر کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔ دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ جیفری ایپسٹین کے روابط امریکی اور اتحادی انٹیلی جنس اداروں سے رہے اور وہ اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک کے قریب تھا، اور مبینہ طور پر جاسوسی کی تربیت بھی حاصل کر چکا تھا۔
میرا جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے کوئی لینا دینا نہیں، امریکی صدر ٹرمپ
جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور عالمی اشرافیہ سے تعلقات رکھنے کے سنگین الزامات تھے۔ وہ 2019 میں امریکی جیل میں مردہ پایا گیا، تاہم اس کی موت کے حالات آج تک سوالیہ نشان ہیں۔ ایپسٹین فائلز میں عدالت کے نوٹس، گواہی کے ریکارڈ، طیاروں کے سفر کے لاگز، تصاویر، ویڈیوز اور ایپسٹین کے رابطے کی تفصیلات شامل ہیں۔ ان دستاویزات کو شائع کرنے کا مقصد مجرموں کی شناخت، متاثرہ افراد کو انصاف اور مقدمے کی شفافیت کو یقینی بنانا تھا، مگر مکمل فائلز ابھی بھی جزوی طور پر ہی جاری کی گئی ہیں، جس پر عوامی اور سیاسی تنقید شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایپسٹین فائلز مغربی معاشرے میں طاقتور اور امیر افراد کے غیر اخلاقی اور غیر قانونی رویوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ سیاستدان، کاروباری شخصیات اور فنکار اس نیٹ ورک کا حصہ پائے گئے، جس سے واضح ہوا کہ غربت اور استحصال کا شکار افراد کو سیاسی اور معاشرتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ مغربی معاشرہ جو اخلاقیات، انسانی حقوق اور قانون کی پاسداری کے نعرے دیتا ہے، وہی اندرون خانہ کم عمر افراد کے استحصال میں ملوث پایا گیا۔ یہ مسئلہ خاص طور پر جنسی استحصال، انسانی اسمگلنگ اور طاقتور نیٹ ورک کے ذریعے معاشرتی کنٹرول کے ذریعے نمایاں ہوا، جس نے مغربی میڈیا اور بین الاقوامی کمیونٹی میں شدید بحث کو جنم دیا۔
ایپسٹین فائلز نے سیاسی شخصیات، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے مباحث کو بھی بڑھا دیا، حالانکہ کوئی واضح جرم یا نئی تفتیش سامنے نہیں آئی۔ کچھ مباحثے اور قیاس آرائیاں یہ بھی کرتی ہیں کہ فائلز کا مقصد ٹرمپ کو ایران یا دیگر خارجہ پالیسیوں پر دباؤ میں رکھنا تھا، لیکن اس کا کوئی سرکاری یا معتبر ثبوت موجود نہیں۔ اسی طرح بعض حلقوں نے یہودی لابی یا اسرائیلی مفادات کو سازش کے طور پر پیش کیا، تاہم کوئی مستند ثبوت یا سرکاری تصدیق نہیں ملی اور یہ دعوے اکثر اینٹی سیمیٹک نظریات کے زمرے میں آتے ہیں۔
ایپسٹین فائلز نے عالمی سطح پر طاقتور افراد کے غیر اخلاقی نیٹ ورک، انسانی استحصال، اور سیاسی و معاشرتی منافقت کو بے نقاب کیا۔ مغرب میں انسانی حقوق اور اخلاقی اصولوں کے نعرے بلند کرنے والے افراد اور ادارے اکثر اندرون خانہ غیر اخلاقی رویوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے معاشروں میں کم عمر لڑکیوں کی شادیوں پر عالمی مہمات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق پر یکساں معیار لاگو ہونا ضروری ہے۔ عوامی شعور، شفاف عدالتی نظام اور معتبر تحقیق ہی اس طرح کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے اور انصاف قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز نے نہ صرف امریکی معاشرے کے مکروہ پہلوؤں کو اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر دوہرے معیار، سیاسی دباؤ اور انسانی استحصال کے مسائل پر سوالات کو بھی جنم دیا۔ معاشرے، حکومتیں اور عالمی ادارے یکساں اور شفاف معیار کے تحت انسانی حقوق، خصوصاً کم عمر افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔










