بیجنگ (روشن پاکستان نیوز) چین میں صدر شی جن پنگ کے قریبی ساتھی اور اعلیٰ ترین فوجی جنرل ژانگ یوشیا کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کے وزیرِ دفاع نے ہفتے کے روز کہا کہ چین کے سب سے سینئر جنرل ژانگ یوشیا کے خلاف تفتیش جاری ہے۔ یہ اب تک سینئر فوجی قیادت کے خلاف سب سے نمایاں کارروائی ہے، جو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بیجنگ اپنی مسلح افواج کو جدید بنا رہا ہے اور اپنی فوجی طاقت کے مزید اظہار کی کوشش کر رہا ہے۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جنرل یوشیا کے علاوہ ایک اور سینیئر فوجی افسر جنرل لیو ژینلی کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ تاہم وزارت دفاع کی جانب سے جنرل ژانگ یوشیا کے خلاف الزامات کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔
75 سالہ ژانگ یوشیا صدر شی جن پنگ کے ماتحت سینٹرل ملٹری کمیشن، جو اعلیٰ ترین کمانڈ ادارہ ہے، کے نائب چیئرمین کی حیثیت سے دوسرے نمبر پر فائز ہیں، اور طویل عرصے سے انھیں شی جن پنگ کا سب سے قریبی فوجی اتحادی سمجھا جاتا رہا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ ژانگ یوشیا اور لیو ژین لی، جو سینٹرل ملٹری کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف اسٹاف ہیں، پر نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے شبہے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔
‘چین سے تجارتی معاہدہ کیا تو 100 فیصد ٹیرف لگے گا’، ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی
ژانگ حکمران کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ سطحی ادارے پولٹ بیورو کے رکن بھی ہیں اور ان چند سرفہرست فوجی افسران میں شامل ہیں جن کے پاس عملی جنگی تجربہ موجود ہے۔ خیال رہے کہ چین میں فوج اُن اہم اداروں میں شامل رہی ہے جنھیں صدر شی جن پنگ کی جانب سے 2012 میں شروع کی گئی وسیع بدعنوانی مخالف مہم میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ مہم 2023 میں اُس وقت پیپلز لبریشن آرمی کی اعلیٰ سطح تک جا پہنچی، جب ایلیٹ راکٹ فورس کو نشانہ بنایا گیا۔
ژانگ کی برطرفی 1966 سے 1976 کے ثقافتی انقلاب کے بعد سینٹرل ملٹری کمیشن میں موجود کسی حاضر سروس جنرل کی دوسری برطرفی ہے۔ انھیں آخری بار 20 نومبر کو عوام میں دیکھا گیا تھا، جب انھوں نے ماسکو میں روس کے وزیرِ دفاع سے ملاقات کی تھی۔











