منگل,  13 جنوری 2026ء
پینٹا گون نے صدر ٹرمپ کو ایران پر حملوں کا منصوبہ پیش کردیا

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) پینٹا گون نے صدر ٹرمپ کو ایران پر حملوں کا منصوبہ پیش کردیا۔

نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل سائٹس  حملوں کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں  ، سائبر حملہ یا اندرونی سیکیورٹی اداروں کونشانہ بنانا بھی ممکنہ آپشن ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے میں تعینات امریکی فوجی کمانڈرز نے واشنگٹن کو آگاہ کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل فوجی پوزیشنز کو مستحکم کرنے اور دفاعی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے وقت درکار ہوگا، تاکہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا جا سکے۔

برطانوی اخبار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دی جانے والی بریفنگ میں تہران میں موجود غیر فوجی اہداف اور ایرانی نظام کے سیکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام مختلف منظرناموں پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں متعدد بار ایران کو خبردار کر چکے ہیں اور ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے باعث اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج اہداف کے تعین کے لیے امریکی فضائی حملوں کی معاونت کر سکتی ہیں۔ تاہم اگر اسرائیل امریکا کے ساتھ مل کر براہِ راست کارروائی نہ بھی کرے تب بھی ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی حملوں میں اسرائیل کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ موجود ہے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں ہفتے کی شب جرمنی سے امریکی فضائیہ کے دو ’سی 17 اے‘ فوجی طیاروں کی مشرقِ وسطیٰ روانگی کا انکشاف بھی کیا گیا ہے، جس کے بعد ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد کیوبا نے امریکا کیساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کردیا

نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام اس امر پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ انتہائی احتیاط سے کیا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہرے عوامی حمایت میں تبدیل نہ ہو جائیں۔

ایران کی اعلیٰ قیادت متعدد بار یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ حالیہ احتجاج دشمن عناصر کی سازش کا نتیجہ ہیں۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے حالیہ بدامنی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کریک ڈاؤن پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدامنی، قتل و غارت اور توڑ پھوڑ میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے۔

مزید خبریں