لندن(روشن پاکستان نیوز) کشمیری بین الاقوامی تنظیم کے چیئرمین راجہ سکندر خان، جو کہ ڈائیسپورا کی نمائندگی کرتے ہیں، اور معروف تھنک ٹینک گلوبل پاک کشمیر سپریم کونسل کے ممبر نے لندن سٹی میں “سٹاپ دی ہیومن ٹریفکنگ اینڈ ماڈرن ڈے سلیوری” سیمینار میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ اس سیمینار میں دنیا بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور بین المذاہب مقررین نے انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے اپنی تجاویز اور خیالات کا اظہار کیا۔
راجہ سکندر خان نے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی اسمگلنگ ایک اربوں ڈالر کی گھناؤنی تجارت ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں متحد ہو کر انڈرورلڈ مافیا کے خلاف طاقت اور حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسمگلنگ خواتین، بچوں اور مردوں کو جنسی تجارت، جبری مشقت اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہے، جس کا سدباب ضروری ہے۔
راجہ سکندر خان نے “سٹاپ دی ہیومن ٹریفکنگ” کی ٹیم کے منتظمین ڈاکٹر شیخ رمزی، ڈاکٹر صف بخشی اور کیپٹن علی جاوید کی کوششوں کی تعریف کی، جو انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے جرم کے خاتمے کے لیے عوام میں بیداری پیدا کرنے اور اس پر تعلیم دینے میں کوشاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ادارے یا فرد کے لیے انڈرورلڈ مافیا کا مقابلہ کرنے اور اس کا قلع قمع کرنے کے لیے کمیونٹی کی اخلاقی اور مالی مدد ضروری ہے۔ اس لیے انہوں نے تمام شرکاء سے درخواست کی کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف اس جدوجہد میں منتظمین کا ہر ممکن تعاون کریں۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں نیا قانون: پولیس کو بغیر وارنٹ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت
سیمینار میں دیگر مقررین میں ڈاکٹر شیخ رمزی، کیپٹن علی جاوید، سابق ایم پی اور سابق وزیر کیتھ بیسٹ، مارٹن ویٹ مین، نکولا گیرنگٹن، ڈاکٹر فوٹینی گوڈیلا، ایس روزن، ہرمیت شاہ سنگھ، ریو ڈاکٹر سر سمانا سری اور چرچ آف سائنٹولوجی کے ٹریسی کولمین شامل تھے۔
اس سیمینار نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی سطح پر ایک اہم پیغام دیا اور اس گھناؤنے جرم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔