امریکی ارکان کانگریس نے جوبائیڈن انتظامیہ سے پاکستانی انتخابات نہ ماننے کا مطالبہ کردیا

واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز)امریکا کے چند ارکان کانگریس نے پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کی شفافیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ الہان عمر کا کہنا ہے بدانتظامی کے متعدد الزامات کی قابل اعتماد اور آزادانہ تحقیقات تک امریکی محکمہ خارجہ پاکستانی انتخابات کو تسلیم نہ کرے۔

امریکی قانون ساز الہان عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میں پاکستان میں اس ہفتے ہونے والے انتخابات میں مداخلت کی خبروں سے بہت پریشان ہوں۔

انھوں نے لکھا کہ کسی بھی آنے والی حکومت کی قانونی حیثیت منصفانہ انتخابات پر منحصر ہوتی ہے، جو ہیرا پھیری، دھمکیوں یا دھوکہ دہی سے پاک ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام ایک شفاف جمہوری عمل اور حقیقی نمائندہ حکومت سے کم کے مستحق نہیں ہیں۔

الہان عمر نے کہا کہ میں محکمہ خارجہ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ نتائج کو اس وقت تک تسلیم کرنے سے گریز کرے جب تک بدانتظامی کے متعدد الزامات کی قابل اعتماد اور آزادانہ تحقیقات نہیں کرلی جاتیں۔

امریکی کانگریس کی خاتون رکن جیسمین کروکٹ نے بھی پاکستان کے انتخابات میں بدانتظامی کے الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکی خاتون کانگریس رکن نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام کی خواہشات کا احترام کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی الیکشن کے حوالے سے کانگریس کے رکن گریگ کاسر نے کہا کہ امریکا کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ نتائج کو تسلیم کرنے سے پہلے ایک قابل اعتماد اور آزادانہ تحقیقات مکمل کی جائیں۔

انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھا کہ ہمیں جمہوریت اور عوام کی خواہشات کا تحفظ کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ امریکی رکن کانگریس لیزا میک کلین نے بھی کہا کہ آزاد انہ اور منصفانہ انتخابات کا تقدس دنیا بھر میں جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے اہم ہے۔

کانگریس کی رکن سوزی لی نے بھی اپنی ٹوئٹ میں پاکستان کے حالیہ انتخابات میں بدانتظامی کے الزامات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

اس کے علاوہ امریکا کی ایک اور پارلمنیٹرین مشیل اسٹیل نے بھی انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔