جمعرات,  03 اپریل 2025ء
100 سال قبل کیا گیا مزاق: کالج سے دادا کے چرائے گئے گھڑیال کے کانٹے کو پوتے نے واپس کر دیا

لندن)روشن پاکستان نیوزٌ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے گونویل اینڈ کیئس کالج میں تقریباً ایک صدی قبل ایک طالبعلمی شرارت کے دوران چرایا گیا گھڑیال کا کانٹا واپس کر دیا گیا۔ یہ کانٹا جیوفرے ہنٹر بیکر نامی طالبعلم نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر چرایا تھا اور اس کی جگہ گتے کا ایک نقل شدہ کانٹا لگا دیا تھا، جو بارش ہونے تک درست کام کرتا رہا۔

یہ کانٹا جیوفرے ہنٹر بیکر کی بیٹی ٹرکسی بیکر کو وراثت میں ملا، جن کے والد 1999 میں 83 برس کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں گونویل اینڈ کیئس کالج کا دورہ کیا اور گھڑیال کا کانٹا واپس کر دیا۔

کالج کے آرکائیوسٹ جیمز کاکس نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’میں ٹرکسی بیکر کو کالج میں خوش آمدید کہنے اور گھڑیال کا کانٹا وصول کرنے پر بے حد مسرور ہوں۔‘

یہ کانٹا اب کالج کے تاریخی ذخیرے میں محفوظ کر دیا گیا ہے، جہاں دیگر طلبہ کی روایتی شرارتوں کی یادگاریں بھی موجود ہیں۔

کاکس نے مزید کہا، ’کالج کی تاریخ میں طلبہ کی دلچسپ شرارتوں کا ایک خاص مقام ہے۔ ہم طلبہ کو ایسی سرگرمیوں کی ترغیب نہیں دیتے، لیکن جب برسوں بعد ایسی کہانیاں سامنے آتی ہیں، جہاں کوئی نقصان نہیں پہنچا، تو یہ سن کر خوشی ہوتی ہے۔‘

مزید پڑھیں: پی آئی اے کی حالت زار، برطانیہ میں پابندی برقرار: ناکامی، چیلنجز اور پاکستانیوں کا ردعمل

یہ واقعہ 1934 سے 1937 کے دوران پیش آیا، جب جیوفرے ہنٹر بیکر گونویل اینڈ کیئس میں جدید زبانوں کے طالبعلم تھے۔ اس شرارت میں دونوں طالبعلموں نے گھڑیال کے کانٹے چرائے تھے، تاہم گھنٹہ کانٹا تو واپس آ گیا، مگر منٹ والا کانٹا اب تک لاپتہ ہے۔

گونویل اینڈ کیئس کالج کی بنیاد 1348 میں رکھی گئی تھی، جبکہ 1557 میں اس کا دوبارہ قیام عمل میں آیا۔

اس کالج کی تاریخ طلبہ کی کئی دلچسپ شرارتوں سے بھری پڑی ہے۔ 1958 میں اسی کالج کے انجینئرنگ کے طلبہ نے کیمبرج یونیورسٹی کی سینیٹ ہاؤس کی چھت پر ایک آسٹن سیون وین رکھ دی تھی، جبکہ 1921 میں کالج کے طلبہ نے ایک جرمن توپ چرا کر اسے کیئس کورٹ میں رکھ دیا تھا۔

مزید خبریں