جمعه,  09 جنوری 2026ء

استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ

اسلام آباد : ملک میں موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز کیلئے باضابطہ پالیسی کا نفاذ کردیا گیا ، ابتدائی طور پر یہ لائسنس 15 سال کے لیے جاری کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق جدید اور سستی موبائل سروسز فراہمی کے اہداف میں اہم پیشرفت سامنے آئی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز کے لیے باضابطہ پالیسی فریم ورک جاری کر دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ایم وی این اوز بغیر اسپیکٹرم کے موجودہ نیٹ ورک آپریٹرز کے تعاون سے اپنی موبائل سروسز فراہم کر سکیں گے، ابتدائی طور پر یہ لائسنس 15 سال کے لیے جاری کیے جائیں گے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مسابقت، جدت، اور صارفین کے لیے بہتر انتخاب کے مواقع میں اضافہ ہوگا، جبکہ ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور یہ قدم ڈیجیٹل پاکستان وژن کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔ پی ٹی اے نے اعلان کیا ہے کہ ایم وی این او لائسنس کے اجرا کا عمل جلد شروع کیا جائے گا اور لائسنس مسودہ ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا ہے، جس میں تمام واضح شرائط شامل ہوں گی۔
استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی حکومت نے نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-33 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کا اعلان پیر کے روز وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے