جمعه,  10 اپریل 2026ء
انڈیا کا غرور خاک میں ملا!
میں اور میرا دوست

تحریر: ندیم طاہر

پاکستانیو ! یہ بات ہے اسوقت کی
جب بپھرا ہوا سانڈ “اسرائیل اور سپر پاور طاقتیں
تیرے وطن عزیز پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا پریشر ڈال رہے تھے۔ دنیا کے بڑے چوہدری اور ان کے اتحادی مسلسل یہ مطالبہ دہرا رہے تھے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے۔

یہ دباؤ صرف سفارتی نہیں تھا بلکہ معاشی اور سیاسی سطح پر بھی محسوس کیا جا رہا تھا۔ ایسے حالات میں پاکستان نے کیا حکمت عملی اپنائی؟؟؟
کیا پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا؟؟
کیا پاکستان کو معاشی یا سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا؟؟؟

کیا انڈیا کا غرور خاک میں ملا؟؟

آپ کے خیال میں کیا حکمت عملی تھی جہاں دباؤ تھا۔ بلیک لسٹ، نہ جانے کون کون سے لسٹیں سر پر منڈلا رہی تھی۔۔

اور آج انھی بڑے چوہدریوں کا راضی نامہ یا مذاکرات پاکستان کروا رہا ہے۔۔

یہ اچانک نہیں ہوا ۔
دوستو
یہ تیرے ملک کی حکمت عملی اور دور اندیشی ہے۔

آو ملکر خوشی منائیں۔
اور اس امن کے داعی پاکستان کی خیرخواہی میں اپنا کردار ادا کریں۔۔

آج اگر ہم موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو ایک دلچسپ اور قابلِ غور تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ وہی ممالک جو کبھی پاکستان پر مختلف نوعیت کے دباؤ ڈال رہے تھے، اب خطے کے تنازعات کے حل میں پاکستان کے کردار کو اہمیت دینے لگے ہیں۔

ایران اور دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے یا مذاکرات کی فضا قائم کرنے میں پاکستان کا کردار زیرِ بحث آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک سنجیدہ اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

یہ لمحہ صرف جشن منانے کا نہیں بلکہ غور و فکر کا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں عزت اور وقار صرف جذبات سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی، بہترین حکمت عملی اور مضبوط سفارتکاری سے حاصل ہوتے ہیں۔

اگر آج بڑے فیصلوں کی بازگشت تیرے شہر اسلام آباد تک پہنچ رہی ہے
تو اس کے پیچھے برسوں کی محنت، قربانیاں اور پالیسیوں کا تسلسل شامل ہے۔

میرے پاکستانیو، یہ عزم بھی کریں کہ ہم اپنے ملک کو مزید مضبوط، خودمختار اور باوقار بنانے کے لیے متحد رہیں گے۔
کیونکہ
دنیا کے بڑے فیصلے وہاں ہوتے ہیں جہاں قومیں اپنے مفاد کو سمجھتی ہیں، اتحاد قائم رکھتی ہیں اور اپنے مستقبل کی سمت خود متعین کرتی ہیں۔

مزید خبریں