هفته,  04 اپریل 2026ء
ہماری بے حسی و بے شرمی ملاحظہ فرمائیے

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

ہماری بے حسی و بے شرمی ملاحظہ فرمائیے

آج میں ہماری بے حسی و بے شرمی کے دو واقعات آپ کی نظر کرنا چاہتا ہوں۔

اس وقت آپ جانتے ہیں کہ چھوٹے لیول پر تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے ۔
اسرائیل اور امریکہ ہمارے برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ایران پر میزائل اور بموں کی بارش برسا رہے ہیں اور ایرانی افواج اس کے رد عمل میں اسرائیل اور خلیجی مسلمان مالک، جہاں امریکہ نے اپنے فوجی اڈے ایران کو نیست و نابود کرنے کے لیے بنا رکھے ہیں، وہاں میزائل برسا رہا ہے۔
کئی اسلامی ممالک، ایران کے خلاف اپنی سرزمین امریکہ کو دے کر اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔
ایسے موقع پر جب اسلامی ممالک بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں، ہمیں بحیثیت قوم اور حکومت انہیں مالی امداد فراہم کرنا چاہیے۔
کیونکہ جنگ زدہ ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ہم سے زیادہ ان آفات کو کون جانتا ہے ،جب پاکستان میں مختلف اوقات میں سیلاب، زلزلے آتے رہے اور اربوں ڈالر کا نقصان کر کے جاتے رہے رہیں۔
جب جب ہم کسی مشکل میں آئے ،ہمیں بیرونی دنیا جیسا کہ یورپ، کینیڈا اور خاص طور پر ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سے ہرطرح کی مالی امداد، اشیائے خردو نوش اور روز مرہ استعمال کی ضروریات، جہازوں میں بھر بھر کر پہنچائی گئیں ۔
ظاہر ہے یہ سب بلا معاوضہ تھیں اور اکثر اوقات ہمیں مشکل حالات سے نکلنے کے لیے مالی امداد بھی مہیا کی گئی۔
اب ہم یہاں مسلمانوں۔ خاص طور پر پاکستانیوں کی واردات ملاحظہ کرتے ہیں
جب میں نے یہ خبریں پڑھیں تو شرمندگی سے سر جھک گیا۔
میں پاکستانی کہلانے کے لائق نہیں رہا ،
اتنے شدید غصے کے باوجود میں کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن آپ سے وہ خبر ضرور شیئر کر سکتا ہوں جس نے میرا دل دہلا دیا۔

ادھر مشرق وسطی میں جنگ کے باعث معیشت تباہ ہو رہی ہے اور ادھر ہمارے سرمایہ کار، تاجر و کاروباری حضرات، جنگ سے بھی معاشی فوائد حاصل کرنے کے مواقع کس طرح ڈھونڈ لیتے ہیں وہ ملاحظہ کیجئے۔

گزشتہ روز فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینیر شاہد عمران نے ایران جنگ کے باعث خلیجی ممالک میں پیدا ہونے والے نئے معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستانی تجارتی اداروں اور برامدگان کو فوری طور پر بہترین حکمت عملی اپنانے کا کہا ہے۔
ان کا نام مت بھولیے گا، میں نے نام لیا اس بے حس بے شرم، شیطان ذہنیت آدمی شاید عمران کا ۔
اب خبر کو میں اگے بڑھاتا ہوں۔
اس میں ایک اور بھی بے ضمیرہ، بے شرم انسان احمد حنیف ہے جو برامدگان کے ایک وفد کے ہمراہ شاہد عمران سے گفتگو کر رہا تھا جہاں شاہد نے کہا کہ پاکستان اپنی مضبوط زرعی بنیاد اور غذائی پیداوار کی وجہ سے خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔

ذرا ملاحظہ کیجئے بے شرموں کا لیول، وہاں جنگ سے مسلمان ممالک تباہ ہو رہے ہیں، یہ ان کو غذائی اجناس، اشیائے خرد و نوش مفت بھیجنے کے بجائے ان کی مشکل سے معاشی فائدے اٹھانا چاہتے ہیں ۔
اس نے مزید کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کو چاول، گوشت، پھلوں،سبزیوں اور پروسیسڈ فوڈ سمیت اسنیکس کی مانگ میں واضح اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو خلیجی ممالک کی طرف سے ہے۔
اور اگر اس صورتحال کو دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ سنبھالا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ خلیجی ممالک کے لیے قابل اعتماد اور طویل المدتی غذائی سپلائر کے طور پر اپنی شناخت بھی قائم کر سکتا ہے۔

اب میں اس خبر کے بعد اس وفد کی قیادت کرنے والے نثار احمد حنیف اور خوراک کے کنوینیر شاہد عمران پر ہزار بار لعنت ہی بھیج سکتا ہوں اور میں کیا کر سکتا ہوں؟
آپ اگر بھیجنا چاہیں تو آپ بھی بھیج لیں لیکن آپ دیکھ لیں کہ یہ کتنی مردہ دل قوم ہےاور ہم نے سن رکھا تھا کہ تاجر اور سرمایہ کار کے سینے میں دل نہیں ہوتا آج اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا ۔
ایک اور نابغہ روزگار شخصیت سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان تجارت کے فروغ اور معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرے تو جنگ زدہ علاقوں کو تجارتی راہداریوں تبدیل کر سکتا ہے جس سے خوشحالی اور استحکام کو فروغ ملے گا۔
یہ شخص جس خوشحالی اور استحکام کا ذکر کر رہا ہے وہ اس نے جنگ زدہ علاقوں سے ان کی مجبوریوں اور مشکلوں کو اپنے معاشی فائدے میں بدل کر حاصل کرنا ہے
اور یہ معاشی استحکام و خوشحالی بھی صرف ان تاجروں کو نصیب ہوگی، پاکستانی عوام کو نہیں۔

میں آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ میں نے خبریں خود نہیں بنائیں بلکہ یہ نیشنل میڈیا پر چلی ہیں۔
جی ہاں نیشنل میڈیا کا مطلب ہے قومی نشریاتی ادارے،
سرکاری قومی نشریاتی اداروں پر یہ خبریں چلی ہیں اور جس جس ملک میں جس جس نے بھی خبر سنی ہوں گی اس نے ہم پاکستانیوں پر کتنی لعنت ملامت کی ہوگی
لیکن ان کو کیا پتا کہ اس ملک میں میرے اور آپ جیسے حساس اور درد دل رکھنے لوگ بھی بستے ہیں لیکن ہم بھی ان بے غیرتوں کے باعث رسوا ہو رہے ہیں اور برے بھلے کہے جاتے ہیں۔
ہمارے حکمران اور تاجر اس قدر ظالم اور سفاک لوگ ہیں کہ انہیں کسی پر ترس بھی نہیں آتا ۔
ترس سے مجھے ایک واقعہ یاد آگیا ۔
چھوٹا سا واقعہ ہے پتا نہیں اس میں کتنی حقیقت ہے لیکن میسج بہت واضح ہے۔

چنگیز خان سے کسی نے پوچھا کہ کیا تمہیں کبھی کسی انسان پر ترس آیا ۔
چنگیز خان بولا ہاں میں نے دیکھا کہ نہر میں ایک بچہ ڈوب رہا تھا اور کنارے پر کھڑی ماں اسے بچانے کے لیے چیخ و پکار کر رہی تھی۔
میں نے وہ بچہ نیزہ مار کر باہر نکالا اور ماں کے حوالے کر دیا۔

مزید خبریں