تحریر / ندیم طاہر:
آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر سمت بے چینی اور غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
عالمی سطح پر بدلتے ہوئے حالات نے انسان کو ایک ایسے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔۔۔۔۔ کہیں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں تو کہیں معاشی بحران شدت اختیار کر رہے ہیں۔
ایسے میں ہر باشعور انسان کے ذہن میں یہی سوال ابھرتا
ہے کہ آخر دنیا کہاں جا رہی ہے؟
صدیوں پہلے کی دنیا اور آج کی دنیا میں تو دنیا جہان کا فرق آ گیا۔
ٹیکنالوجی نے نقشہ بدلا
اور اب لمحوں میں تباہی و بربادی کی طاقت انسان نے حاصل کرلی۔
اور اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایران، اسرائیل، امریکہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی عدم استحکام کا شکار بنا دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ چونکہ دنیا کے تیل کے بڑے ذخائر کا مرکز ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر ہلچل دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کرتی ہے۔
ان حالات میں سب سے زیادہ تشویش ناک مسئلہ پٹرول اور توانائی کی قلت کا ہے۔ تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
یہ ایک ایسا سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر اس اہم راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے یا کشیدگی بڑھ جائے تو اس کے اثرات فوری طور پر پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
تیل کی فراہمی میں معمولی خلل بھی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام انسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل پر پورا کرتا ہے۔ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے یا پٹرول کی قلت پیدا ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر پاکستانی معیشت پر پڑتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش سمیت ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ یوں مہنگائی کا طوفان عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس خطے میں جاری تنازعات نے دنیا کے امن کو مسلسل خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ ایران، خلیجی ممالک اور دیگر طاقتوں کے درمیان کشیدگی نہ صرف سیاسی سطح پر مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ اس کے اثرات معاشی میدان میں بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ اگر خدانخواستہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہو جائے تو دنیا بھر میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور عالمی تجارت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
مسلم دنیا کے لیے یہ صورتحال کسی امتحان سے کم نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک مسلسل بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جنگ اور کشیدگی نے ترقی کے عمل کو سست کر دیا ہے جبکہ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے نظر انداز ہو رہے ہیں۔ وسائل کی موجودگی کے باوجود ان کا درست استعمال نہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے۔
پاکستان کے نوجوان اس بدلتی ہوئی دنیا کے اثرات کو سب سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کے بحران نے ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ ایک متوسط طبقے کا فرد اپنی محدود آمدنی میں گھر کا نظام چلانے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا دکھائی دیتا ہے۔
عالمی سطح پر طاقت کا توازن بھی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے مختلف خطوں میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس دوڑ میں اکثر انسانی اقدار پسِ پشت چلی جاتی ہیں۔ دنیا میں اسلحے پر بے تحاشہ اخراجات کیے جا رہے ہیں جبکہ بھوک اور غربت جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو دنیا میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
ان مشکلات سے دنیا بخوبی واقف ہیں اور دنیا جانتی ہیں کہ دنیا کہاں جا رہی ہیں۔۔۔
لیکن بے بسی، اور ہاتھوں سے نکلتے اختیار کنٹرول نہیں کرسکتے۔
لیکن
انٹرنیشنل میڈیا پر نظریں جمائے دیکھو۔
پاکستان
اس بے بسی میں پاکستان ایک ایسا خطہ ہیں۔
جو اس جنگ میں شامل نہیں ہوا بلکہ سب سے پہلے ان حالات کو جانچتے ہوئے ثالثی کےلیے خود کو پیش کیا۔
ایران بھی کہتا اگر کوئی بات کروا سکتا ہے تو پاکستان۔
سعودی عرب بھی کہتا
جرمنی کے وزیر خارجہ بھی کہتے ہیں۔
سپر پاور امریکہ کے صدر ٹرمپ بھی کہتے ہیں۔
ترکی اور مصر بھی کہتے ہیں۔
پاکستان اس دنیا کو کھنڈرات بننے سے بچا سکتا۔
تیسری عالمی جنگ سے بچا سکتا۔
اور پاکستان پوری کوشش کر رہا ہیں۔
کہ یہ جنگ ہر حال میں رکنی چاہیے۔۔
آخر میں اللہ کے حضور دعا ہے
اللہ کریم دنیا کہاں جا رہی ہے۔۔ تباہی اور بربادی کیطرف
امن اور سلامتی عطاء فرما۔
پاکستان کو دنیا میں سرخرو کر اور ثالثی میں کامیابی عطاء فرما۔
آمین











