جمعه,  03 اپریل 2026ء
بہار کی اک سہانی شام / ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

بہار کی اک سہانی شام / ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں۔

میں نے جب یہ منظر دیکھا تو گاڑی فورا روک لی کیونکہ پارک کے گیٹ کے ساتھ فٹ پاتھ پر چند آوارہ کتے بڑے اطمینان سے ہاتھ پر ہاتھ اور پاؤں پر پاؤں رکھے بیٹھے اور لیٹے تھے کہ جیسے کئی دنوں کی مشقت کے بعد انہیں اب جا کر آرام کی راحت نصیب ہوئی ہو،
غرائے یا بھونکے بغیر ایک دوسرے کی طرف شکر بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے اور گویا زبان بے زبانی سے کہہ رہے تھے

آج پرانی راہوں سے
کوئی ہمیں آواز نہ دو

کہ ہمیں بھی یہ موسم، یہ رت، یہ ٹھنڈی خوشگوار ہوا انجوائے کرنے دو ۔
ان آوارہ گرد کتوں کے گروپ کو اس بے نیازی کی حالت میں دیکھ کر آتے جاتے راہگیروں میں سے کسی بھی منچلے نے یہ نہیں چاہا کہ ان کے آرام میں مخل ہو۔۔

یہ دیکھیے ،یہ درختوں کی شاخوں پر نئے کھلتے ہوئے پتے اور پھولوں کے پودوں میں نئی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں،
ان کی تازگی اور رنگ دیکھ کر احساس ہوتا ہے جیسے انہیں اس بہار سے بڑی امیدیں وابستہ ہے۔

ارے واہ آج تو پھول بھی بہت خوش ہیں کیونکہ میں نے جیسے ہی پھولوں سے لدی ڈال کو اپنے ہاتھ سے چھوڑا ہے وہ اپنی جگہ تک واپس پہنچتے ہوئے فضا میں خوشبو بکھیر گئی ہے۔
اور ویسے بھی پھول تو اپنی خوشبو اور رنگ سے ہی رونق بخشا کرتے ہیں ۔۔

آج ان پودوں میں کانٹے نظر نہیں آتے کیونکہ ڈالیں تو جا بجا پھولوں اور بڑے پتوں سے بھری پڑی ہیں اور انہوں نے کانٹوں کو اپنے وجود میں چھپا لیا ہے کیونکہ یہ بہار ہے دوستو، یہاں تکلیف سہنا تو دور ،کانٹے دیکھنا بھی منع ہے

آپ دیکھئے کہ دو مینا پارک کے اندر حفاظتی ریلنگ پر مخالف رخ پر سینے سے سینہ ملائے بیٹھی ہیں اور ایک دوسرے کے ہم سفر ہونے پر جیسے ایک دوسرے کی شکر گزار ہیں۔
بلبلیں ایک شاخ سے دوسری، دوسری سے تیسری اور تیسری سے ہوتی ہوئی پھر پہلی شاخ پر رقص کرتی ہوئی نظر آتی ہیں
جبکہ چند پدی چڑیاں ہوا میں معلق، اپنی چونچ خاص قسم کے پھولوں کے بدن میں چبھو کر ان کا رس پی رہی ہیں

کہیں دور درختوں میں پرندوں کے جھنڈ کی ملی جلی آوازیں جو واضح طور پر ان پرندوں کی نسلوں کو تقسیم کرتی ہیں سنائی دے رہی ہیں اور ان کی چہچہاہٹ میں کسی بڑے شکاری پرندے کے شکار ہو جائے کا خوف نہیں بلکہ خوشی کی جھنکار ہے۔
ان کے لیے بھی یہ دن سب کی طرح لطف اندوز ہونے کے ہیں۔

یہ جگہ جو کبھی پارک ہوا کرتی تھی، موسم بہار میں آج باغ بن چکی ہے۔
سر سبز و شاداب، نرم و ملائم گھاس ،مختلف انواع و اقسام کے پھول کھلے ہیں۔ حیوان اور انسان سبھی خوش ہیں۔

آپ بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ باغ کے اطراف میں لوہے کی باڑ پر بھاری پھولوں سے لدی، دلکش و دلفریب بیلیں ایسے ایستادہ ہیں
جیسے کہ قرآنی آیتیں لکھی ہوں
اور ان بیلوں میں سے تو کچھ موقع پا کر ایک طرف کی دیوار کے سہارے کافی اوپر تک پہنچ چکی ہیں جیسے کہ آسمان تک پہنچ کر خدا کے حضور اپنی حاضری کو یقینی بنانا چاہتی ہوں۔

اس باغ کے ایک کونے میں آپ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جہاں کچھ روز پہلے، کچھ نئے پودے لگانے کے لیے کھدائی کی گئی تھی وہاں مٹی کے بڑے ڈھیر کے پاس، بڑی بڑی پھرتیلی چونٹیاں بھاگتی دوڑتی نظر آ رہی ہیں، انہیں میں کچھ پر لگی چونٹیاں بھی موجود ہیں جن کی چال ڈھال اور اطوار سے لگتا ہے کہ وہ باقی چیونٹیوں کی حاکم ہیں۔

ابھی میں نے دیکھا کہ دور سے کسی کا بھولا بھٹکا بیل اسی طرف آ رہا ہے، اسے دیکھ کر دورسے ہی پتا چلتا ہے کہ بہت کمزور اور تھکا ہوا ہے اور پہلی فرصت پر ہی جہاں مناسب جگہ ملے گی ڈھیر ہونے کے لیے تیار ہے اور وہ نیچے سڑک کی طرف اور دائیں بائیں گردن گمھا کر دیکھتے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے کہ جیسے یہ فیصلہ کر رہا ہو کہ کہاں جائے پناہ لے۔

سڑک کے اس پار مقامی علاقے کے کچھ کووں کی ایک بے وقف سی نسل جو غالبا خوراک کے ایک ٹکڑے کی خاطر ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہی ہیں اور ان کی کائیں کائیں نے چند لمحوں کے لیے میری توجہ کا رخ اپنی طرف موڑ لیا ہے۔ مجھے ان کووں کے مسلمان ہونے کا گمان ہوتا ہےکیونکہ ایسا ہی ہم مسلمان بھائی ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔

اتنے میں دو گھگیاں کہیں سے اڑتے ہوئے آئی ہیں ۔
ایک اونچے درخت کی شاخ پر بیٹھ کر انہوں نے اپنے پر پھڑ پھڑ ائے ہیں ۔
ان میں سے ایک نے گردن اٹھا کر آگے پیچھے، دائیں بائیں دیکھا ہے، شاید اپنی سیکیورٹی کا جائزہ لے رہا ہو۔
اس کے بعد دونوں نے پیار سے اپنی چونچیں لڑائی ہیں ۔
معلوم ہوتا ہے کہیں سے ہنی مون کر کے لوٹے ہیں۔

ایک دو رنگے، پیلے/ سبز بڑے پتے پر ،دو رنگیلے کھٹمل نما کیڑے جن کے چھوٹے چھوٹے پر ،سلو موشن میں کھلتےاور بند ہو رہے ہیں اور ان میں سے ایک، دوسرے کے کان میں سرگوشیاں کر رہا ہے جیسے کہ آج کی رات کو رنگین بنانے کی درخواست کرتا ہو۔

دو طوطے جن کی گردنوں پر لال رنگ بنا ہے دو تین جگہیں تبدیل کر چکے ہیں، اب یہ جگہ شاید ان کے دلوں کو بھا گئی ہے اور وہ بڑے پروقار انداز سے مخالف سمت منہ کر کے، مگر اپنے نرم گرم وجود کو ایک دوسرے میں سمو کر خاموشی سے بیٹھے ہیں اور تھک ہار کر تھوڑا سستا لینا چاہتے ہیں۔

قدرت کا ہر مظاہر اپنے ہی کیف میں مست ہے،
کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہے دوستو ،تو کیوں نہیں آپ لوگ بھی یہیں پہنچ جاتے ہیں اور خود کو بہار کے ہم آغوش کرتے ہوئے خدا کی مخلوقات کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں ۔
چلیں ،اٹھیں، نکلیں گھروں سے،نیچر سے ملیں اور خدا کا شکر ادا کریں ۔

اب میں درختوں کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تو آپ دیکھئے کہ ان کے سائے لمبے ہوتے جا رہے ہیں۔
اب مجھے یہاں کس چیز کا انتظار ہے؟
بس حسن قدرت نے مجھے یہاں روک رکھا ہے۔

کافی دیر تک مخلوق خدا سے لطف اندوز ہونے کے بعد، شام کے دھندلکے میں دو بچوں کو کسی جلتی بجھتی اور اڑتی شہ کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تو چشم زدن میں ان کی جگہ خود کو موجود پایا ،جب میں جگنوؤں کو پکڑنے کے لیے دیوانہ وار ان کے پیچھے بھاگا کرتا تھا اور جب وہ میری مٹھی میں بند ہو جاتے تو بڑے احتیاط سے مٹھی بند کر کے گھر آتا تاکہ باقیوں کو دکھا سکوں اور پھر انہیں ایک چھوٹی سی شیشے کی بوتل میں قید کر لوں ،پر تھوڑی دیر بعد ہی ان کے پروں کی حرکت اور روشنی ماند پڑ چکی ہوتی تھی اور وہ دم توڑ دیا کرتے تھے۔

اب آپ میری اس آخری لائن سے ،
جس میں میں نے جگنو کی موت کا ذکر کیا ہے یہ جان سکیں گے
کہ ضروری نہیں کہ
ہماری
ہر شروعات کا انجام بخیر ہو

مزید خبریں