تحریر/ندیم طاہر !
حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کی تعریف میں کالم لکھنے پر میرے جو دوست نالاں ہیں، آج میں انہی سے مخاطب ہوں۔
یہ تحریر دراصل اُن بے شمار کمنٹس اور واٹس ایپ پیغامات کا جواب ہے جو مجھے موصول ہوئے۔ آپ سب میرے لیے قابلِ احترام ہیں اور آپ کی رائے میرے لیے ہمیشہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔
کچھ دوستوں نے کہا کہ شاید میرا “سافٹ ویئر اپ ڈیٹ” ہو گیا ہے۔
کچھ نے طنز کیا کہ برطانیہ میں کسی سیاسی قیادت سے روابط کا اثر ہے۔
کسی نے یوٹرن کا الزام لگایا، تو کسی نے لفافہ صحافی تک کہہ دیا۔
شاید کچھ باتیں دل میں بھی کہی گئی ہوں جن کا اظہار نہیں کیا گیا۔
میں اُن دوستوں سے ضرور مخاطب ہونا چاہتا ہوں جو تنقید برائے اصلاح کرتے ہیں، کیونکہ تنقید برائے اصلاح معاشرے کی بہتری کا ذریعہ ہوتی ہے۔ البتہ تنقید برائے تنقید کرنے والوں سے کیسے مخاطب ہوا جاتا ہے، یہ ہنر میں ابھی تک نہیں سیکھ سکا۔
عزیز دوستو!
آج دنیا جس نہج پر کھڑی ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی جنگ ایسی صورت اختیار کر رہی ہے جسے بعض ماہرین تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ اس جنگ کے نتائج صرف تباہی، بربادی اور انسانی المیے کے سوا کچھ نہیں ہوں گے۔
ایک طرف فلسطین، ایران، افغانستان، یمن اور عراق جیسے ممالک ہیں، جبکہ دوسری طرف “گریٹر اسرائیل” کا خواب ہے جسے ایک سپر پاور کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
اور ان سب کے بیچ میرا وطن پاکستان کھڑا ہے۔
پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں ایک طرف افغانستان ہے، دوسری طرف بھارت جیسا ازلی حریف، جبکہ ملک کے اندر دہشت گردی کے خطرات بھی موجود ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک ایک وقت میں ایک محاذ بھی برداشت نہیں کر سکتے، مگر پاکستان نے بیک وقت کئی محاذوں پر مقابلہ کیا اور اپنے وجود کو برقرار رکھا۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ ہمارے جوانوں اور عوام نے اپنے خون سے اس وطن کی حفاظت کی اور دنیا کو یہ دکھایا کہ ہم مشکل ترین حالات میں بھی سنبھلنا جانتے ہیں۔
ایسے حالات میں جب عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہو اور پاکستان کا نام بین الاقوامی سطح پر زیرِ بحث آئے، تو کیا اپنے ملک کی کامیابیوں کا اعتراف کرنا غلط ہے؟
جب پاکستان عالمی سطح پر سفارتی کردار ادا کرے، جب خطے میں امن کے لیے کوششیں کرے، جب دنیا کی نظریں پاکستان کی طرف اٹھیں، تو کیا ایک پاکستانی ہونے کے ناتے ہمیں اپنے اداروں کی مثبت کارکردگی کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے؟
دوستو!
میں نے جو کچھ لکھا، وہ کسی ذاتی مفاد یا دباؤ کے تحت نہیں لکھا۔
میں نے اپنی صحافتی ذمہ داری کو دیانت اور اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق نبھانے کی کوشش کی ہے۔
اگر کسی کو میری رائے سے اختلاف ہے تو وہ اُس کا حق ہے، اور میں اُس اختلاف کا احترام کرتا ہوں۔ لیکن اختلاف رائے کو ذاتی حملوں اور الزامات میں بدل دینا کسی بھی مہذب معاشرے کی روایت نہیں۔
میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ جب ہمارے ملک کے ادارے، ہماری افواج اور ہماری قیادت کوئی مثبت قدم اٹھائیں یا عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن ہو، تو اُس کا اعتراف کرنا حب الوطنی کے دائرے میں آتا ہے، نہ کہ کسی خاص سیاسی وابستگی کے۔
آخر میں، میں اُن تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے تنقید برائے اصلاح کی۔
آپ کی آراء میرے لیے قیمتی ہیں اور میں ہمیشہ انہیں سنجیدگی سے لیتا ہوں۔











