حافظ آباد کی آواز
تحریر: شوکت علی وٹو
مثال ہے ہاتھی کے دانت دکھانے اور کھانے کے اور،، جس کا عملی مظاہرہ حافظ آباد میں ہوتے دیکھا،جہاں عوام، صحافیوں، و دیگر کو الو بنا دیا گیا، بلے بلے کروا کر شہریوں کو مبینہ لوٹنے کا لائسنس جاری کر دیا گیا.رمضان المبارک کے آخری دنوں میں ضلع بھر کے قصابوں نے ضلعی انتظامیہ، پیرا فورس سمیت دیگر تمام متعلقہ محکموں کو آنکھیں نکالتے ہوئے سرکاری ریٹس جو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دیا گیا تھا بڑا گوشت 900 روپے کلو اور چھوٹا گوشت 1800 روپے کلو دیا گیا ہے پر ضلعی انتظامیہ و پیرا فورس عملدرآمد کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہی قصابوں نے عید الفطر سے پہلے ہی اپنے ریٹس کو بڑھا دیا جو 1500 روپے کلو بڑے گوشت کے اور 3000 روپے کلو چھوٹے گوشت کے مقرر کر کے بیچنا شروع ہو گیے.
سوشل میڈیا پر مجھ سمیت ضلع بھر کے صحافیوں نے آواز بلند کی جس پر حافظ آباد میں پیرا فورس نے 28 دوکانداروں کو پکڑ کر لاک اپ کر دیا بچے قصائیوں نے گھروں میں جانور ذبح کر کے من مرضی کے ریٹس لینا شروع کر دیے، شہر میں یہ بھی پیدل خبر گردش کرتی رہی، انارکلی میں سیما قصائی نے ڈپٹی کمشنر کو کہا وہ 2900 روپے بھی نہیں بیچ سکتا پورے 3000 روپے میں بیچے گا،اور بیچتا رہا ہے 30 رمضان المبارک کو سہہ پہر میں زائد ریٹس جو اس وقت بڑا گوشت 1500 روپے کلو بیچا جا رہا تھا اور چھوٹا گوشت 3000 روپے تک بیچا جا رہا تھا ہر قصاب نے اپنی مرضی کا ریٹ رکھا ہوا تھا پیرا فورس نے دیکھتے ہی دیکھتے متعدد قصابوں تقریباً 28 کے قریب قصابوں کو پکڑ کر تھانہ سٹی کے لاک اپ میں بند کر دیا سفارشی کی لائن لگ گی.
افسران کو فون جانے شروع ہو گے رات گئے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پیرا فورس نے معمولی جرمانے کرنے کے بعد تمام قصابوں کو چھوڑ دیا،اس دوران جب قصابوں نے فوری ریٹ کم کرتے ہوئے 900 روپے کلو گوشت فروخت کرنا شروع کر دیا، مجھ سمیت متعدد صحافیوں و سوشل میڈیا پر صارفین نے ضلعی انتظامیہ و پیرا فورس کو بڑا سراہا کہ شہریوں کو عید پر کنٹرول ریٹ ملے گا لیکن رات گے جب قصابوں کو معمولی جرمانہ کر کے کلین چٹ دے کر کھل شہریوں کو لوٹنے کا مبینہ زبانی کلامی پرمٹ دے دیا گیا قصابوں نے پھر کھل کر شہریوں کو لوٹا اور شہریوں کی آواز تک سننے والا کوئی نہیں تھا شہر میں گردش خبروں کے مطابق پھیلایا گیا کہ پیرا فورس اور ضلعی انتظامیہ نے 1200 روپے کلو بڑا گوشت اور 2200 روپے کلو چھوٹا گوشت فروخت کرنے کی غیر قانونی اجازت دے دی ہے جس کو تقویت اس وقت ملی جب پورے شہر میں قصابوں نے بڑا گوشت 1200 روپے کلو سے لیکر 1500 روپے کلو دھڑلے سے بیچا، چھوٹا گوشت 2500 روپے کلو تک بیچا گیا.
محکمے پنجاب حکومت کے احکامات کے پابند ہوتے ہیں اور جب بھی حکومت کی جانب سے کوئی حکم صادر کیا جاتا ہے تو باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے اس طرح اگر ضلع میں اشیائے خوردونوش و گوشت وغیرہ کے ریٹس کی بات کی جائے تو باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے لیکن اس عیدالفطر پر پر زائد ریٹس پر قصائیوں کو پکڑا گیا لیکن حیرت انگیز طور بعدازاں جس زائد ریٹ پر گوشت کی فروخت پر پکڑا گیا تھا چھوڑ دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر حافظ آباد، پیرا فورس کے پی آر اوز جو میڈیا کو معلومات دیتے ہیں سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کی گی جو فون سن کر اور میسجز دیکھ کر چپ سادھے رہے،شہری لٹتے رہے، پنجاب حکومت کی آنکھیں جو لحمہ بے لحمہ پنجاب حکومت کو روپوٹس کے زریعے آگاہ کرتے ہیں شاید وہ بھی لمبی تان کر سو گے.
پنجاب حکومت کے جو احکامات تھے اور ہیں کیا ان پر عملدرآمد کیا گیا یا آپ ہی بادشاہ سلامت بن کر مرضی کی گی، عید پر قصائیوں کو چند گھنٹے لاک اپ کرنے کے بعد کھلی چھوٹ دینا غیر قانونی عمل تھا. شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی کھلی چھوٹ دینا کسی نوٹیفیکیشن کے بغیر ریٹ دینا قانونی طور پر درست عمل ہے؟ بادشاہت چل رہی ہے قانون مرضی کے بنا کر مخصوص طبقہ کو فائدہ دیا گیا ہے.اپنے ہی دیے گے ریٹس پر عملدرآمد نہیں کروایا جا سکا.پنجاب حکومت کی بدنامی کا باعث بنایا گیا عوام جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے اس عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا گیا سرکاری ریٹ 900 روپے کلو بڑا گوشت جو دھڑلے سے 1200 روپے سے 1400 روپے کلو بیچا گیا اور سرکاری ریٹ چھوٹا گوشت 1800 روپے کلو تھا عید پر قصائیوں کو زبانی 2200 روپے کا شوشہ چھوڑ کر 2500 روپے کلو سے زائد پر بیچا جاتا رہا ہے کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگی، سیاسی حکمران جماعت بھی اس ظلم پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی.
عوام کی چمڑی اتارنے کے مبینہ زبانی احکامات دیے گے شہر میں قصابوں نے مشہور کر دیا کہ ان کو 1200 کلو بڑا گوشت اور 2200 روپے چھوٹا گوشت فروخت کرنے کی زبانی اجازت مل گی ہے حکومتی رٹ کی دھجیاں اڑا دی گی ضلعی انتظامیہ و پیرا فورس قصابوں کے آگے بے بس دیکھائی دیتی رہی عید سے لیکر اگلے دو دن میں کروڑوں روپیہ اضافی رقم جو شہریوں کی جیبوں سے نکلوا لیا گیا ہے کیا اس میں افسران کا بھی مبینہ حصہ تھا جس کی وجہ سے سب کو چھوت دی گی تھی. عید گزر گی شہری لٹ گئے لیکن متعلقہ اتھارٹیز پر بہت سارے سوالات چھوڑ گی، شاید جس کا جواب تو نہ مل پائے گا لیکن اس سے ن لیگ کی پنجاب حکومت کو نقصان دے گی ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اچھے اقدامات کے اثرات بھی عوام تک پہنچنے نہیں دیے جاتے، افسران پنجاب حکومت کی بجائے اپنے فرمان جاری کر کے بدنامی کا باعث بنے ہیں.جہاں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اپنے اختیارات کلرکس و کلاس فور کے ملازمین کو دیکر نوکری پر ہی نہ آئیں جس کی مثال ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ہے جو شوکاز ملنے کے باوجود نوکری پر نہیں آ رہا، وہاں گراں فروشوں کو کھلی چھوٹ ہی ملتی ہے وہاں عوام لٹتی ہی ہے.











