جمعه,  20 مارچ 2026ء
یا اللہ اب مجھے بےشمار حرام رزق دے/ رزق حلال بہت دیکھ لیا

 تحریر: سید شہریار احمد

ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

یا اللہ اب مجھے بےشمار حرام رزق دے/ رزق حلال بہت دیکھ لیا

سارے بچپن میں والدین سے،

بزرگوں سے، دانا اور فہیم لوگوں سے یہی تلقین سنتے آئے ہیں

کہ اپنی بیوی کو حلال رزق کھلانا تاکہ وہ تمہاری تابعدار ہو اور تم سے محبت کرے۔

اپنی اولاد کے لیے رزق حلال کا حصول دریافت کرنا تاکہ اولاد، تمہاری فرمانبردار رہے اور تم سے محبت کرے۔

اور پھر ایسا ہی کیا جیسا کہ بزرگوں نے ہمیں تلقین کی تھی

اور یہ بھی کہا تھا کہ جس پیٹ میں حلال کا لقمہ جائے اس جسم پر جہنم کی آگ حرام کر دی جاتی ہے ۔

بس پھر کیا تھا اس بات کو اپنے پلو سے باندھ لیا اور زندگی کا سفر شروع کیا۔

جس کام میں، جس کاروبار میں ،جس نوکری میں، ہلکا سا بھی شائبہ ہوا کہ یہاں براہ راست یا بالواسطہ طور پر رزق حرام کی آمیزش ہو سکتی ہے اسے بلا تامل خیر باد کہا ۔

جہاں گئے رزق حلال عین عبادت ہے کہ مترادف، حلال کی تلاش کی۔

آج جب میں دیکھتا ہوں کہ عمر کے اس حصے میں پہنچ چکا ہوں جہاں مجھے روپوں کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اب مجھے اور میری شریک حیات کو گاہے بگاہے ہسپتال اور ڈاکٹروں کے کلینکس کے چکر لگانے ہیں۔ اب میں ڈاکٹروں کو یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں نے رزق حلال کمایا ہے تو آپ ہماری فیس معاف کر دیں یا کسی دوا فروش کو اپنی مظلومیت کا واسطہ دے کر مفت دوائی نہیں اٹھا سکتا ۔

اب میں یہ بھی دیکھتا ہوں میری بچیاں جوان ہو گئی ہیں ماشاءاللہ۔

یونیورسٹی جانے لگی ہیں۔ ان کی فیسیں دینی ہیں۔

پھر ان کے لیے دعا گو ہوں کہ انہیں اچھے رشتے ملیں اور وہ ایک اچھی، خوشیوں سے بھرپور اور پرسکون زندگی گزار سکیں لیکن ان منظور شدہ رشتوں کو شادی کے بندھن میں باندھنے کے لیے بھی لاکھوں روپے کی ضرورت ہوگی اور میرے بینک اکاؤنٹ میں تو کچھ بھی نہیں سوائے رزق حلال کے سرٹیفیکیٹس کے۔

پھر بیٹا چھوٹا ہے اس نے ابھی پڑھنا ہے۔

ہائر ایجوکیشن لینی ہے ۔

کیا پتا بیرون ملک تعلیم مکمل کرنے کی خواہش کا اظہار کرے۔

تو میں سوچتا ہوں کہ میں یہ سب کچھ کیسے کر پاؤں گا ۔

میں ساری زندگی جن لوگوں سے ملتا رہا،

پولیس والوں سے،

ڈاکٹروں سے،

صحافیوں اور وکیلوں سے تعلقات رہے،

مختلف سرکاری اداروں میں آنا جانا رہا ،

تو جو لوگ اوپر کی آمدنی سے اپنا گزارا کیا کرتے تھے میں ان سے دل ہی دل میں بہت نالاں رہتا تھا

اور انہیں کہا کرتا تھا کہ لوگوں کا حق مار کر اپنی بیوی بچوں کا پیٹ مت پالو کیونکہ کل یہی رشتے تمہارے خلاف ہو جائیں گے لیکن آج میں سوچتا ہوں کہ وہ سب لوگ مجھ سے زیادہ سمجھدار تھے جنہوں نے اپنی زندگی کی آخرت کے لیے کچھ پس انداز کر لیا تھا۔

ان کے بچے پڑھ گئے اور ان کی شادیاں بھی ہو گئیں ۔

اس دوران سارے کیریئر میں اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ،کبھی کسی نے ان سے نہیں پوچھا کہ آپ نے اپنی بیٹی کی شادی پر جو لاکھوں روپے لگایا ہے وہ کہاں سے آیا ۔

ان لوگوں سے کبھی یہ سوال نہیں ہوا کہ آپ نے اپنے بچوں کو بیرون ملک لاکھوں روپے کی تعلیم کیسے دلوائی؟

کبھی کسی کی جرات نہیں ہوئی کہ ان سے پوچھیں کہ آپ کی تنخواہ میں تو گھر کا گزارا نہیں ہوتا تھا، آپ ایک معمولی سرکاری آفیسر تھے، یہ عالی شان کروڑوں روپے کا بنگلہ کیسے بنا لیا؟

تو آج میں سوچتا ہوں کہ جو میں اس وقت سوچتا تھا وہ سب غلط تھا ۔

میں اپنے آپ سے قیاس آرائیاں کیا کرتا تھا کہ اگر میں نے رزق حرام کمایا تو میری بیوی، میری تابعدار نہ ہوگی، مجھ سے محبت نہ کرے گی، میرے بچے نافرمان ہوں گے رزق حرام کھا کے

لیکن میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہ ساری حالات تو اب بھی انسان کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

کون بیوی ہے جو رزق حلال کی وجہ سے ہی اپنے خاوند کی فرمانبردار ہوتی ہے؟

کون سے بچے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ان کے باپ نے کتنی مشقت ،کتنی محنت کر کے انہیں پالا پوسہ اورجوان کیا ہےاور وہ بھی حرام کی دولت کے بغیر؟

تو ہمارے عالموں، بزرگوں، خاندانوں کی یہ باتیں کہ رزق حلال میں بہت برکت ہوتی ہے اور بیوی، بچے آپ کے بڑھاپے کا سہارا بنتے ہیں،

یہ باتیں تو صرف جھوٹ نکلیں اورایک افواہ ثابت ہوئیں ۔

اور جو ایک تیسرا جال ڈالا گیا تھا کہ رزق حلال کھانے والے جسم پر جہنم کی آگ حرام ہے

تو اس کے بارے میں تو میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں ابھی مرا نہیں ہوں اور میں نے جہنم کی آگ بھی نہیں دیکھی

لیکن دنیا کی جہنم میں نے دیکھ لی ہے

جس دوزخ میں میں رہ رہا ہوں وہ آخرت کے عذاب سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

اگر میرے پاس دولت ہوتی تو میں عیاشی والی زندگی گزار رہا ہوتا ۔

بیوی ،بچے ،رشتہ دار، محبتیں، دوست ،سب میرا احاطہ کیے ہوئے ہوتے لیکن ایسا نہ ہوا۔

اب میں خدا سے رزق حلال کی دعا بھی نہیں مانگتا۔

آج میں دونوں ہاتھ اٹھا کے اور جھولی بھر بھر کے خدا سے دعا مانگنے جا رہا ہوں کہ

اے اللہ اگر تو ہر چیز پر قادر ہے اور جیسا کہ تو نے خود کہا ہے،

تو پھر تو مجھے حرام رزق دے۔

بہت زیادہ حرام رزق دے تاکہ میری مجبوریاں،

میری پریشانیاں ختم ہوں اور اسی حرام دولت سے میں ایک مسجد بھی تعمیر کروا دوں گا ،

دو یتیم بچوں کی شادی کروا کے

دو چار غریب لڑکوں کو پڑھائی بھی کروا دوں گا ۔

تو اے رب کائنات

جوش میں آ

اور میرے لیے حرام مال کے راستے کھول دے

آمین

مزید خبریں