تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
مرنے کی خوشی/ ایک دلچسپ کہانی
کہانی ذرا لمبی ہے لیکن ہے مزے کی۔
یہ کہانی بھی ہے اور سچا واقعہ بھی کہ کس طرح ایک قتل، کئی گھروں کے لیے خوشی کا باعث بنتا ہے۔
آپ جان سکیں گے کہ ایک قتل کی واردات کتنے گھرانوں کا چولہا جلاتی ہے۔
شروع میں آپ سنیں گے کہ شہر میں مختلف پیشہ وروں کی بیگمات اپنے شوہروں سے رو رو کر گلہ کرتی ہیں۔
ایک بیگم کہتی ہے میں تنگ آگئی ہوں تمہاری شاعری سے۔ اس سے گھر کا خرچہ نہیں چلتا۔
دوسری کہیں اور اپنے خاوند سے مخاطب ہے۔
بس اس زندگی سے دل اچاٹ ہو گیا ہے میرا، سب کچھ چھوڑ کر چلی جاؤں گی، اب تو حد ہو گئی۔
کسی اور مقام پر کسی اور وقت بیوی اپنے مجازی خدا سے شکوہ کرتی ہے۔
اپنے بچوں کو ساتھ لے کر جا رہی ہیں اس گھر سے، سنی ہے میری بات تم نے؟
کہیں کوئی زوجہ نوحہ کناں ہے۔
میری جوانی برباد ہوئی،کتنی امیدوں کو دل میں سما کر شادی کی تھی تمہارے ساتھ۔
ادھر شریک حیات اپنے پتی سے کہتی ہے کہ مصیبتوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے مجھے تمہارے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے، مجھ جیسی خاتون اور اس قدر ذلت کی زندگی، کتنی بد نصیب ہوں میں ۔
اس شہر میں جا بجا ایسے واقعات ہو رہے ہیں جہاں بیویاں اپنے شوہروں سے نالاں ہیں،
آنسو بہاتی ہیں۔
اپنے میکے جانے کی دھمکیاں دیتی ہیں۔
چھوڑ جانے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔
دوسری طرف
شاعر اپنی بیوی سے کہتا ہے،
میری جان تم اس بات کا کھلم کھلا بتا کر مجھے شرمندہ کیوں کر رہی ہو کہ میں اپنے آپ کو نابغہ عظیم سمجھتا ہوں۔ اگر خود کو نابغہ عظیم سمجھ لیا تو اس میں کیا برائی ہے؟ میری جان آنسو پونچھ لو، یہ سچ ہے کہ میں بہت ذہین انسان ہوں ،کبھی کوئی ایسا موقع آیا تو میں بہت ہی اچھی شاعری کروں گا اور میری شاعری کے کئی زبانوں میں تراجم ہوں گے،لاکھوں کی تعداد میں میرے کلام بکیں گے۔
جلاد اپنی بیوی کو جواب دیتا ہے۔
رو مت جان میری، کام ٹھیک نہیں چل رہا ،میں خود تو لوگوں کو زبردستی پھانسی نہیں دے سکتا، اگر عدالتیں پھانسی کی سزا نہ سنائیں گی تو میں اپنی طرف سے کسی کو پھانسی کے تختے پر کیسے لٹکا سکتا ہوں؟ کیا میں کسی سڑک پر سے گزرنے والے کو پکڑ کے پھانسی دے دوں؟انتظار کرو میری زوجہ، اچھا وقت بھی آئے گا۔ آج کل تو حکومت اور ججز، مجرموں کو پھانسی دینے کے خلاف ہیں۔کب تک ہم یہی تکلیف کے دن دیکھیں گے ؟بہت جلد یہ مشکل وقت ختم ہو جائے گا۔ حوصلہ کرو میری جان۔
کہیں کسی جگہ گورکن اپنی بیوی سے التجا کرتا ہے۔
میں تو ایک بیچارہ گورکن ہوں، کونسے یہاں سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر لگے ہیں جو میں نخرے کر ریا ہوں کہ کسی کو دفناوں گا نہیں ۔
بس کچھ دنوں سے اگر کوئی حادثہ رونما نہیں ہوا اور اس نے کسی کی جان نہیں لی ہے سڑک پہ، تو اس میں میرا کیا قصور؟
تم مجھے معاف کرو اور میرے آگے آنسو نہ بہایا کرو۔
صحافی اپنی بیوی سے مخاطب ہوتا ہے۔
دیکھو رونا نہیں۔ ٹھیک ہے؟ ٹھیک ہے نا ؟بالکل خاموش ہو جاؤ۔
تم ٹھیک کہتی ہو کہ میں تمہیں خوشیاں نہیں دے سکا لیکن تم میری صلاحیتوں کو نہیں جانتی۔ میں اس سیکرٹری کے کام سے چھٹکارا حاصل کر کے ایڈیٹر بننا اور پھر اخبار کا مالک بننا چاہتا ہوں لیکن یہ سب ایک ایسے غیر معمولی حادثے سے منسلک ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر میں سب کو اپنا جوہر دکھا سکوں اور دوسرے اخباروں سے سبقت لے سکوں۔
اگر کہیں کوئی ہوائی جہاز گرتا ہے،
خوفناک سیلاب آئے ، کہیں دہشت انگیز زلزلہ یا پھر بہت ہی سسپنس والا قتل ہو تو پھر دیکھنا میں کس طرح اس کو خوبصورتی سے اخبار میں چھاپوں گا اور سال کے بہترین صحافی کا ایوارڈ حاصل کروں گا،
میری طرح سرخی تو کوئی بھی نہیں لگا سکتا۔
اب اس میں ہماری قسمت کا قصور ہے کہ چاروں طرف امن ہے۔ کہیں کوئی ایسا حادثہ نہیں ہو رہا جس کو میں تروڑ مروڑ کر اپنے اخبار کی زینت بناؤں۔
تو میری جان انتظار
فقط انتظار
اچھا وقت جلد ہی آئے گا۔
پولیس آفسر نے اپنی بپتا سنائی
میں بھی چاہتا ہوں اچھا کیس لوں جس میں چیلنج ہو، اسے حل کروں اور پولیس ڈیپارٹمنٹ میں میرا نام ہو ،مجھے اچھا عہدہ ملے، میں صرف سپریڈینڈنٹ بن کر ریٹائر ہونا نہیں چاہتا، میں چیف آفیسر بننا چاہتا ہوں ،مجھے اپنے میرٹ کے مطابق بہت بڑے اور سنسنی خیز قسم کے ڈاکے یا چوری کی وارداتیں چاہیں ،قاتلانہ حملے چاہیں ،ایک ایسا خفیہ راز چاہیے جس کا سراغ لگا کر مجھے ایوارڈز ملیں،ترقیاں دی جائیں اور وہ وقت جلدی آئے گا ۔تو پریشان نہ ہو۔
اسی طرح کسی جگہ ڈاکٹر اپنی بیوی کو سمجھا رہا ہے۔
مجھے تمہاری مفلسی کا بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کیا کروں؟ میرے کلینک میں امیر لوگ نہیں آتے ،ایک غریب سی بستی میں میرا کلینک ہے جہاں مفلس لوگ ہی آتے ہیں اور وہ بھی اتنی فیس نہیں دے پاتے جس سے ہم بڑی گاڑی اور بڑا گھر خرید سکیں حالانکہ میں تو چاہتا ہوں کہ نہ ہی میرا مریض مرے اور نہ ہی شفایاب ہو تاکہ میں اس سے آہستہ آہستہ پیسے کماتا رہوں۔
بس ابھی تو گزر اوقات ہو رہی ہے، کبھی کوئی ایسا امیر آیا تو اس سے ٹیسٹوں اور دوائیوں کے ذریعے ڈھیروں روپے کمائیں گے اور تم اچھے اچھے کپڑے بنانا۔
ایسے میں کہیں کوئی وکیل اپنی بیوی سے کہتا ہے۔
رکو ابھی مت جاؤ ،اس قدر طیش میں کیوں آگئی ہو؟ سوری میری جان آج کل کوئی کیس نہیں آ رہے، کاروبار مندا جا رہا ہے۔ لوگوں نے شاید ایک دوسرے کو دھوکہ دینا اور حملہ کر کے قتل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میں تو بہت بڑے کیسوں کا وکیل ہوں، صرف ایک معمولی طلاق کا مقدمہ آنے سے ہزار درجے بہتر ہے کہ ایک جائیداد کا مقدمہ آ جائے۔
کروڑوں کے مقدموں کی وکالت چاہیے مجھے تو، اچھے اچھے کیسز لڑوں اور اخباروں میں میرے بارے میں خبریں چھپیں، میری شہرت ہو اور پھر تم عیش و آرام کی زندگی گزارو جان من۔
بات ذرا لمبی ہے،
کہنے کا مقصد یہ تھا کہ بیگمات تو سب کی ایک ہی جیسی ہوتی ہیں
صرف ان کی شکلیں فرق ہوتی ہیں
اب آپ دیکھیے کہ صرف ایک واردات
صرف ایک واردات سے ان سب لوگوں کے گھروں کے چولہے جلیں گے ۔
ان سب لوگوں کے چہروں پہ خوشیاں آئیں گی۔
صرف ایک قتل سے ان سب بیگمات کا رونا دھونا ختم ہوگا اور ان کے شوہروں کو سکون نصیب ہوگا ۔
اب میں آپ کو کہانی سناتا ہوں۔
ایک بڑے وڈیرے اور دیہاتیوں کے مابین اختلاف کچہری تک پہنچ گیا تھا۔ وڈیرہ اپنی وراثت کے کاغذات دکھا کر عدالت میں اپنی ملکیت ثابت کر رہا تھا جبکہ دیہات کے لوگ کئی سال سے کرائے کے طور پر ایک پھوٹی کوڑی بھی اس کو دیے بغیر اسی کی زمینیں استعمال کر رہے تھے۔ وڈیرہ جو کہ ایک امپورٹر تھا اور اس کی فیبرک مل تھی چاہتا تھا کہ گاؤں خالی کرا لے ،زمینوں پر جدید قسم کی کھیتی باڑی کی مشینیں نصب کرے۔
اس سے اس کو اور ملک کو فائدہ پہنچنے کا یقین تھا۔
دوسری طرف جاہل گاؤں والوں کو اس حقیقت کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ جو شخص ہاتھوں میں کاغذ کے پلندے اٹھا کر اچانک نمودار ہوا ہے یہ آدمی ان کے کھیتوں کو جس پر وہ کئی پشتوں سے حل چلا رہے ہیں کتنا نقصان پہنچانے والا ہے۔
وڈیرے نے کاغذات وکیل کو دے دیے تھے اور وکیل کے ہاتھ میں رجسٹری تھی اس کا مطلب تھا کہ سارا گاؤں اس وڈیرے کا ہی ہے۔
گاؤں کے لوگ رجسٹری کا مطلب نہ سمجھتے تھے، مقدمہ طول پکڑتا جا رہا تھا۔
اس انتظار کا نتیجہ یہ ہوا کہ مقدمہ کی طوالت کی وجہ سے اس وڈیرے کا موڈ خراب رہنے لگا ۔
موڈ خراب رہنے لگا تو اس کے معدے میں السر کا مرض شدت پکڑتا گیا ۔
السر نے شدت پکڑی تو اس کے ساتھ وڈیرے کی شوگر ہائی ہوئی اور بلڈ پریشر بھی ہائی ہوا ۔
اب اس وڈیرے کا راستہ کئی دنوں سے مریضوں کے لیے ترسنے والے اسی ڈاکٹر کے کلینک جا پہنچا، وہی ڈاکٹر جو نہ اپنے مریض کو مارنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسے شفایاب دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ مریض کے نسخے پر مہنگی اور درآمد شدہ دوائیں لکھتا رہا اور پھر دوا ساز کمپنی جو صرف ٹوتھ برش ،ٹوتھ پیسٹ اور ڈسپرین بیچ کر گزارا کر رہی تھی مہنگی مہنگی دوائیاں بیچنے لگی اور اس کا بھی کچھ کاروبار چل پڑا ۔
اب اتنی جانی مانی ہستی کا علاج کرنے سے اس ڈاکٹر کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی تھی۔
مقدمہ لمبا تھا ،وکیل کیس جیت گیا۔دو فیصد کے حساب سے بے شمار دولت ملی اور شہرت بھی۔
دوسری طرف وہ دیہاتی جو سمجھ رہے تھے کہ ان کے ساتھ بہت حق تلفی ہو گئی ان میں سے ایک دیہاتی نے اپنی ناسمجھی اور جہالت کے سبب دولت مند آدمی پر قاتلانہ حملہ کیا اور اس پر چھری کے کئی وار کیے کیونکہ وڈیرے نے تو ان کی زمینیں چھین لی تھیں نا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دیہاتی جو کہ جاہل تھا اس کے باوجود قاتلانہ حملے کو اس نے اس طریقے سے کیا کہ کسی کو بھی اس کا پتا نہیں چلا ۔
اب وہ پولیس آفیسر جو چیف آفیسر بننا چاہتا تھا اور جس کی ترقی اٹک رہی تھی اس نے قتل کی تفتیش کی ذمہ داری قبول کی۔
عزم کا مظاہرہ کیا اوردیہاتی کو گرفتار کیا۔
اس کے بعداسےسرٹیفکیٹس ملے ،ایوارڈز ملے اور ترقی بھی۔
وہ صحافی جو سیکرٹری کا کام کرتے ہوئے اکتا چکا تھا سب سے سبقت لے جانے کے چکر میں اس نے اس قاتل کا انٹرویو کیا، اخبار میں خبریں شائع کیں، فالو اپ دیے ۔
پھر اس جرنلسٹ کو جرنلسٹ آف دی ایر کا ایوارڈ ملا اور وہ اخبار کا ایڈیٹر بنا ۔
دوسری طرف لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والوں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور کتنے دنوں سے کام کے منتظر جلاد نے بھی موقع ملنے کی خوشی میں مجرم کے گلے میں پھانسی کا پھندا لگایا اور اپنا معاوضہ پایا
اس موقع پر گورکن بھی بہت خوش تھا اور اس کی بیوی بھی کیونکہ دو قبریں کھودی گئی تھیں، ایک قاتل کی اور ایک مقتول کی۔
یہ چونکہ ایک بڑا واقعہ تھا اخبارات اور رسائل میں خبریں چھپتی رہی تھیں کہ ایک وڈیرے کو ایک معمولی دیہاتی نے قتل کر دیا ہے۔ خبریں چھپیں،تحریریں لکھی گئیں،تصویریں اور کارٹون چھپے، بحث و مباحثے ہوئے اور وہ جو شاعر اپنی عظیم تخلیق کا انتظار کر رہا تھا جو کہ روح تڑپا دینے والی ہو ،وہ اس واقعے کا ہی جیسے منتظر تھا۔ اس نے دل کو چھو لینے والے اس واقعے کی ایک عظیم رزمیہ داستان لکھی اور اس داستان نے شاعر کو عظیم بنا دیا۔
کتاب لاکھوں کی تعداد میں بکی اور کئی زبانوں میں ترجمہ ہوئی ۔
اس عظیم شاعر کی کامیابی کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام ہوا ۔
ملک کے سارے نامورلوگ مدعو کیے گئے جن میں یہ مذکورہ
ڈاکٹر،دواساز،وکیل،صحافی ،جلاد،گورکن ،اور پولیس سپرٹینڈنٹ جو کہ ڈپٹی چیف آف پولیس بن گیا تھا موجود تھے۔
ان سب کی بیویوں کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں
اور سب اپنے شوہروں پر فخر کر رہی تھیں
ہے نا مزے کی کہانی











