بدھ,  18 فروری 2026ء
برطانیہ میں رمضان کے چاند پر اختلاف
کالم میں اور میرا دوست

کالم: میں اور میرا دوست

تحریر: ندیم طاہر

میں اور میرا دوست، دونوں کا تعلق پنجاب کی زرخیز دھرتی سے ہے۔
بچپن سے لے کر جوانی تک ہماری زندگی کے بیشتر اہم لمحات مشترک رہے۔ رمضان آتا تو ہم اکٹھے روزے رکھتے، سحری میں ایک دوسرے کو جگاتے، افطاری میں ایک دوسرے کے گھر جا پہنچتے اور عید کی نماز بھی شانہ بشانہ ادا کرتے۔ ہمارے لیے چاند کا نظر آنا صرف فلکیاتی واقعہ نہیں بلکہ خوشی، وحدت اور روحانی وابستگی کی علامت تھا۔

پھر وقت نے کروٹ لی اور ہجرت کا سفر شروع ہوا۔ میں یورپ کے ملک اٹلی جا پہنچا۔ کچھ عرصہ بعد میرا دوست بھی وہیں آ گیا۔ پردیس کی تنہائی میں ہم ایک دوسرے کا سہارا بنے رہے۔ اٹلی کی فضا میں بھی ہم نے وہی روایت برقرار رکھی رمضان اکٹھا، عید اکٹھی۔ پردیس میں اپنے وطن کی یادیں تازہ رکھنے کا ایک ذریعہ یہی تھا کہ ہم مذہبی اور سماجی مواقع پر ساتھ رہتے۔

کچھ سال بعد میرا دوست برطانیہ منتقل ہو گیا۔ زندگی کی دوڑ نے ہمیں وقتی طور پر جدا کیا، مگر دوستی کی ڈور قائم رہی۔ پھر قدرت نے ایسا انتظام کیا کہ میں بھی برطانیہ آ گیا، اور حسنِ اتفاق یہ کہ ہم دونوں ایک ہی شہر مانچسٹر میں مقیم ہو گئے۔ ہمیں لگا کہ اب تو پردیس میں بھی وہی پرانی فضا بحال ہو جائے گی وہی مشترکہ سحریاں، وہی اکٹھی افطاریاں، وہی ایک دن کا روزہ اور ایک دن کی عید۔
مگر برطانیہ میں معاملہ مختلف نکلا۔
برطانیہ میں مختلف مساجد اور تنظیمیں رمضان اور عید کے چاند کے تعین کے لیے مختلف طریقۂ کار اپناتی ہیں۔ کوئی مقامی رویت کو بنیاد بناتا ہے، کوئی سعودی رویت کو، اور کوئی سائنسی حساب کتاب پر انحصار کرتا ہے۔ میرا دوست جس مسجد میں نماز ادا کرتا ہے، وہاں اعلان ہوا کہ کل پہلا روزہ ہوگا۔ جبکہ میں جس مسجد میں نماز پڑھتا ہوں، وہاں اعلان کیا گیا کہ روزہ پرسوں سے ہوگا۔
ہم دونوں ایک ہی شہر میں رہتے ہیں، ایک ہی وطن سے آئے ہیں، ایک ہی عقیدے کے پیروکار ہیں
لیکن اس سال ہمارا رمضان ایک دن کے فرق سے شروع ہوگا۔
یہ فرق بظاہر صرف چوبیس گھنٹوں کا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بڑی کہانی چھپی ہے

امت واحدہ کی تقسیم کی کہانی۔

میرا دوست اس بات پر زیادہ پریشان نہیں کہ ہم دونوں کے روزے مختلف دن سے شروع ہوں گے۔ وہ کہتا ہے کہ “یہ فقہی اختلاف ہے، اس میں وسعت ہے، ہر ایک اپنے عالم اور اپنی مسجد کے مطابق عمل کرے۔” بات بظاہر درست بھی ہے۔ اسلام میں اختلافِ رائے کی گنجائش موجود ہے،

اور صدیوں سے مختلف فقہی آراء ساتھ ساتھ چلتی آئی ہیں۔

لیکن میرے دل میں ایک کسک ہے۔
تکلیف اس بات کی نہیں کہ میں ایک دن بعد روزہ رکھوں گا اور وہ ایک دن پہلے۔ تکلیف اس بات کی ہے کہ ہم ایک امت ہو کر بھی ایک دن پر متفق نہیں ہو پاتے۔ جب ہم ایک ہی شہر، ایک ہی ٹائم زون، اور ایک ہی آسمان تلے رہتے ہوئے بھی چاند پر متفق نہیں ہو سکتے تو دنیا کو وحدت کا پیغام کیسے دیں گے؟

قرآن ہمیں “امتِ واحدہ” کہتا ہے۔ ہمارا کلمہ ایک، قبلہ ایک، نبی ایک، کتاب ایک تو پھر ہمارے تہوار الگ الگ کیوں؟

برطانیہ جیسے ملک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہاں اتحاد کی ضرورت اور بھی زیادہ ہے۔ یہاں ہماری پہچان اجتماعی ہے۔ جب مقامی میڈیا یہ خبر نشر کرتا ہے کہ “مسلمانوں کا رمضان آج سے شروع” اور ساتھ ہی یہ بھی کہ “کچھ مسلمان کل سے روزہ رکھیں گے”، تو ایک تاثر ابھرتا ہے کہ شاید ہم خود اپنے بنیادی معاملات پر بھی متفق نہیں۔

یورپ کے تمام ممالک میں مسلمان کمیونٹی نے مشترکہ پلیٹ فارم قائم کیے ہیں جہاں مختلف مسالک اور تنظیمیں مل بیٹھ کر متفقہ اعلان کرتی ہیں۔ اس سے کم از کم ایک ملک میں بسنے والے مسلمان ایک ہی دن روزہ رکھتے اور عید مناتے ہیں۔ اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟

مانچسٹر جیسے شہر میں، جہاں مساجد کی تعداد بھی زیادہ ہے اور مسلمان آبادی بھی قابلِ ذکر، کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک مرکزی رویتِ ہلال کونسل قائم کی جائے؟

ایسی کونسل جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، ماہرینِ فلکیات اور کمیونٹی کے نمائندے شامل ہوں۔ جو مقامی اور عالمی معلومات کو سامنے رکھ کر ایک متفقہ فیصلہ کریں، اور سب اس پر عمل کریں۔
یہ صرف فقہی مسئلہ نہیں، یہ سماجی اور نفسیاتی مسئلہ بھی ہے۔

سوچیں، ایک ہی گھر میں اگر باپ ایک دن روزہ رکھے اور بیٹا دوسرے دن، تو بچوں کے ذہنوں پر کیا اثر پڑے گا؟

جب اسکول میں مسلمان بچے آپس میں بات کریں اور کوئی کہے کہ “میرا پہلا روزہ آج ہے” اور دوسرا کہے “میرا کل تھا”، تو ان کے ذہنوں میں کیا سوالات جنم لیں گے؟

ہماری نئی نسل پہلے ہی شناخت کے بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف مغربی معاشرہ، دوسری طرف اپنی مذہبی و ثقافتی روایات۔ ایسے میں اگر ہم بنیادی مذہبی معاملات میں بھی واضح اور متحد نہ ہوں تو نوجوان کنفیوژن کا شکار ہوں گے۔
میں اپنے دوست سے بحث نہیں کرتا۔ وہ اپنی مسجد کے ساتھ ہے، میں اپنی مسجد کے ساتھ۔ ہم دونوں نیت کے سچے ہیں۔ ہم دونوں اللہ کی رضا چاہتے ہیں۔ لیکن دل کے کسی کونے میں یہ خواہش ضرور ہے کہ کاش ہم پھر سے وہی بچپن والے دن لوٹا سکیں جب چاند نظر آتا تو پورا گاؤں خوشی سے گونج اٹھتا، اور کوئی یہ نہیں پوچھتا تھا کہ تم نے کس کے اعلان پر روزہ رکھا۔

ہمارا اختلاف دشمنی نہیں، مگر ہماری تقسیم کمزوری ضرور ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ کی مسلم کمیونٹی مل کر ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دے جو تمام مساجد اور تنظیموں کو ایک میز پر بٹھائے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر اجتماعی اعلان ایک ہو۔ روزہ ایک دن، عید ایک دن۔ کم از کم ایک ملک کے اندر تو ہم متحد نظر آئیں۔
شاید یہ عمل آسان نہ ہو۔ شاید اس میں وقت لگے۔ شاید کچھ لوگ اپنی روایت چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوں۔ مگر اگر نیت اتحاد کی ہو تو راستہ نکل آتا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ اس سال بھی میرا دوست کل روزہ رکھے گا اور میں پرسوں۔ ہم ایک دوسرے کو فون کریں گے، ایک دوسرے کو “رمضان مبارک” کہیں گے دو مختلف دنوں میں۔ لیکن میری دعا ہے کہ آنے والے برسوں میں جب ہم مانچسٹر کی کسی مسجد میں کھڑے ہوں تو اعلان ایک ہو، چاند ایک ہو، اور ہماری صفیں بھی ایک ہوں۔
کیونکہ اصل خوبصورتی صرف چاند کے نظر آنے میں نہیں، بلکہ دلوں کے جُڑ جانے میں ہے۔

مزید خبریں