پیر,  16 فروری 2026ء
کیا آپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے ؟
میری جینے کی تیاری تو دھری رہ گئی

سید شہریار احمد
تحریر: ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

کیا آپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے ؟

کوئی نعمت ہمیں راحت نہیں دیتی
کوئی خوشی باعث سکون نہیں ہے
آپ نے یہ مثال تو سن رکھی ہوگی
دل خون کے آنسو روتا ہے
میں نے بھی سن رکھی تھی۔
آپ کے پاس ہزار نعمتیں ہوں لیکن ایک کمی ،صرف ایک خرابی ،ان ہزاروں خوشی کا باعث بننے والی نعمتوں کو بہا کر لے جاتی ہے ۔
آپ کے پاس بڑا گھر ہے، گھر پر آسائش چیزوں سے بھرا پڑا ہے
لیکن پھر بھی آپ خوش نہیں ہیں، کیوں؟
آپ کے ماشاءاللہ بچے ہیں، سب اچھے ہیں
بہترین سکولوں میں پڑھ رہے ہیں
آپ ذمہ داری سے ان کے اخراجات اٹھا رہے ہیں لیکن دلی سکون ناپید ہے۔
دیکھ لیجئے آپ کہ آپ کے بچے ماشاءاللہ خوبصورت ہیں
اور سب سے بڑھ کر، سب سے بڑی نعمت یہ کہ وہ تندرست بھی ہیں۔
کسی کو کوئی ایسی بیماری لاحق نہیں جو جان لیوا ہو ،کوئی اپاہچ نہیں ہے، کسی کو کوئی اندرونی یا بیرونی جسمانی بیماری نہیں پھر بھی آپ خدا کا شکر بجا نہیں لا پاتے ۔
آپ اپسیٹ اور اداس رہتے ہیں۔
آپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے ۔
آپ اچھے کپڑے پہن کر اچھا محسوس نہیں کرتے۔
مہنگے ریسٹورنٹ میں جا کر اچھا کھانا بھی آپ کو لزیذ نہیں لگتا ، کیوں ؟
آپ دیکھتے ہیں کہ سماج میں ایک اچھی حیثیت رکھتے ہیں
جب آپ دنیا داری میں ہوتے ہیں تو لوگ آپ کی عزت کرتے ہیں
آپ سے بات کرنا، آپ سے ملنا انہیں اچھا لگتا ہے، وہ آپ سے مرعوب ہوتے ہیں ،آپ کی دنیاوی کامیابیوں کی بنا پر آپ سے متاثر بھی ہیں
اس کے باوجود آپ نوٹس کرتے ہیں کہ آپ ان کی ستائش پر خوش نہیں ہیں اور پھر اداس ہوتے ہیں۔
یہ اداسی، پریشانی ہر وقت آپ کو گھیرے رکھتی ہے
یہ افسردگی، یہ مایوسی آپ کے دامن گیر رہتی ہے۔

آپ کا دل پھر خون کے آنسو روتا ہے

جب آپ کام کاج سے فارغ ہو کر سارے دن کی تگودو کے بعد گھر کی راہ لیتے ہیں تو جوں جوں آپ گھر کے قریب آتےہیں توں توں آپ کے بلڈ پریشر، آپ کی جسمانی ہیت اور آپ کی بلڈکیمسٹری میں تبدیلی آتی رہتی ہے، کیوں؟

یہ آپ جانتے ہیں، اگر نہیں جانتے تو میں بتاتا ہوں۔ کیونکہ آپ کی ازدواجی زندگی خوشگوار نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ گھر جائیں گے تو کسی نہ کسی بات پر شریک حیات سے بحث ہو جائے گی۔
پھر بحث، لڑائی اور چیخ و پکار تک پہنچ جائے گی۔
پھر وہی منحوسیت آپ پر چھا جائے گی۔
ساری نعمتیں، آپ کی دولت، آپ کا گھر، آپ کی پڑھی لکھی اولاد، آپ کے تندرست بچے، آپ کا سٹیٹس ،سب زمیں بوس ہو جائے گا۔ آپ کی شخصیت مسمار ہو جائے گی۔ صرف زوجین کے رویے کی وجہ سے۔
بس یہی تو مشکل ہے آپ لوگوں کی کہ آپ اس مشکل سے نکل نہیں پاتے ۔
جو چالاک مرد ہیں وہ اپنی خوشیوں کا انتظام گھر سے باہر کر لیتے ہیں اور جو چالاک نہیں ہیں، سیدھے ہیں وہ بحث مباحثے میں الجھے رہتے ہیں اور تکرار ہوتی رہتی ہے۔
لڑائی ہوتی رہتی ہے۔
شوگر ہوتی رہتی ہے
بلڈ پریشر ہوتا رہتا ہے
لیکن میں نے ایک اور چیز بھی جانی ہے۔
جو مرد حضرات گھریلو پریشانیوں سے تنگ آ کر اپنی جنسی لذت کا انتظام باہر کر لیتے ہیں وہ بھی بہت عرصے تک اس مسرت کو سنبھال نہیں پاتے۔
لیکن ایک طرح سے کچھ عرصے کے لیے ہی سہی اپنی گھریلو تکلیف دہ زندگی کو بھول جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ بیوی دکھ سکھ کے ساتھی ہوتی ہے لیکن بارہا دیکھا گیا ہے کہ بیوی صرف سکھ کے ساتھی ہوتی ہے ۔
دکھ میں وہ آپ کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے ۔یہ ضروری نہیں کہ وہ طلاق لے کر آپ سے الگ ہو جائے لیکن یہ ضرور ہے کہ مشکل وقت میں وہ آپ کی زندگی اجیرن کر دے گی۔
اگر کسی کو زعم ہے کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ ہر حال میں گزارا کر سکتی ہے تو میں ان کو ایک صلاح دیتا ہوں
صرف دو تین ماہ کے لیے گھر کا خرچہ بند کر کے دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ کیا وہ آپ کے دکھ کی ساتھی ہے؟
بس یہی ایک ٹیسٹ ہے عورت کا۔
صرف ماں ایک ایسی ہستی ہے دنیا میں جو آپ کے دکھ کے ساتھی ہے۔
اس کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں جو دکھوں میں آپ کے ساتھ ہو۔
کچھ عرصہ پہلے ایک تحقیقاتی رپورٹ پڑھی تھی۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ گوروں کی تحقیقات کرنے کا اپنا ایک علیحدہ اور منفرد انداز ہے۔
ایک لڑکیوں اور لڑکوں کے گروپ نے لگ بھگ 20 سال تک اس سماجی رویے پر تحقیقات کیں کہ ازدواجی زندگی کے انسان کی خوشی پر اور اطمینان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
اس میں سائنس دانوں، دفاعی افسران! ڈاکٹرز، سیاست دان ،نامور کھلاڑیوں، فلم سٹارز کو منتخب کیا گیا اور ان سے ان کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے سوالات ہوئے۔
پھر یہی سوال نامہ 10 سال بعد انہی منتخب کردہ لوگوں کے سامنے رکھا گیا اور اس کے پھر دس سال بعد یہی طریقہ اپنایا گیا۔ کئی سال کی تحقیق کے بعد یہ ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ ارب پتی لوگوں ،سرمایہ کاروں،سیاست دانوں ۔ فلم سٹارز ،ٹاپ کے کھلاڑیوں کی کامیابی ان کی گھریلو زندگی کی کامیابی پر منحصر تھی ۔انہوں نے بتایا
کہ دنیا کی ہر سہولت میسر ہونے کے باوجود بھی وہ اپنی زندگی سے خوش نہیں تھے کیونکہ ان کے اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہ تھے۔
لہذا ثابت ہوا کہ جب آپ کی اپنی شریک حیات کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو دنیا کی ہر نعمت، ہر خوشی، ہر سٹیٹس، ہر مقام ،آپ کے کسی کام کا نہیں ہے۔
اور آپ کے لیے زندگی صرف ایک عذاب ہے، ایک تکلیف ہے، ایک پریشانی ہے۔
اس حوالے سے گرو رجنیش نے مجھے بہت اچھا مشورہ دیا تھا
اور یہی مشورہ میں اپ کو دیتا ہوں۔
گروجنیش نے کہا تھا کہ اگر اچھی زندگی گزارنا چاہتے ہو
اطمینان والی ،سکون والی، تو تکلیفوں اور پریشانیوں سے بھاگو نہیں، انہیں قبول کر لو،انہیں اپنا ساتھی بنا لو۔
ان پریشانیوں کو ،ان تکلیفوں کو اپنے ساتھ بٹھا لو، اپنے ساتھ انگیج کر لو، اپنے کمرے میں رکھو، اپنے صوفے پہ اپنے ساتھ بٹھاؤ، کھانے کے ٹیبل پہ اس کے ساتھ انجوائے کرو ،ان سے باتیں کرو۔
اپنی پریشانیوں کو، مصیبتوں کو ،عذابوں کو اپنا شریک حیات بنا لو تو تمہارے غم کی انٹینسٹی کم ہو جائے گی۔
اب خون کے انسو رونے سے بہتر ہے
کہ گرو رجنیش کی اس تجویز پر عمل کیا جائے۔

کیا خیال ہے آپ کا؟

مزید خبریں