هفته,  07 فروری 2026ء
یہ خدا ہے یا پولیس ؟ ڈرتے کیوں ہو

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

یہ خدا ہے یا پولیس ؟ ڈرتے کیوں ہو

آج میں تمہیں ایک بہت ہی کڑوی مگر ضروری بات بتانے جاتا ہوں
تم لوگ خواہ کسی بھی مذہب سے ہو،
تم ہندو ہو
عیسائی ہو
یا مسلمان
تم لوگ کہتے ہو کہ تم اللہ سے محبت کرتے ہو ۔اس کی عبادت کرتے ہو۔ تمہارا دعوی ہے کہ تمہیں خدا سے پیار ہے اور تمہارے اندر سے شدید خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اللہ بھی تم سے ایسا ہی پیار کرے
لیکن میں کہتا ہوں کہ تم لوگ اللہ کی
بھگوان کی
ایشور کی
عبادت نہیں کرتے۔
تم لوگ صرف خوف کی عبادت کرتے ہو۔
وہ خوف جو تمہارے دلوں پر چھایا ہوا ہے۔
ذرا جھانکو تو سہی اپنے اندر ۔
جو لوگ مسجد، مندر اور چرچ جاتے ہیں، کیا وہ دل سے اللہ سے محبت کرتے ہیں؟ کیا وہ صحیح معنوں میں خدا کی عبادت کرتے ہیں؟
میں تم سے پوچھتا ہوں کیا تم خدا کی عبادت خوف سے کرتے ہو یا اس کی شکر گزاری کے لیے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہو؟
میں جانتا ہوں کہ تم کو خوف ہے کہ اگر اللہ کی عبادت نہ کی تو کچھ نہ کچھ ہو جائے گا
کچھ گڑبڑ ہو جائے گی،
اللہ سزا دے گا!
کہیں ٹانگ نہ ٹوٹ جائے،
کہیں کوئی بیماری نہ لگ جائے،
کہیں کوئی مالی نقصان نہ ہو جائے،
اس لیے تم مندروں کی گھنٹیاں بجاتے ہو
چرچ میں جا کے یسوع مسیح کے صلیب پر لٹکے ہوئے مجسمے کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہو
یا مسجد میں جا کے فرش پر اپنے ماتھے ٹیکتے ہو۔
کیا یہ سب کچھ تم شکر گزاری کے لیے کرتے ہو کہ جو کچھ خدا نے تمہیں دے رکھا ہے تم اس کے احسان مند ہو؟
نہیں،
بلکہ یہ خوف بچپن سے ہمارے دلوں میں ڈال دیا گیا ہے کہ ایسے نہ کرنا اللہ ناراض ہو جائے گا۔
ایسا مت سوچنا یہ گناہ ہے اس کی سزا ملے گی
کیوں ہم نے اپنی نسلوں کو، ساری انسانیت کو خدا سے محبت کرنا نہیں سکھایا؟
کیوں ان مذاہب نے لوگوں کے دلوں میں خدا کا خوف ڈال دیا ہے ؟
ڈر سے کیا عبادت ہو گی؟
جہاں ڈر ہوگا وہاں خدا کی رحمت کہاں ہوگی اور جہاں خدا ہوگا وہاں ڈر نہیں ہونا چاہیے ۔
تمہیں بچپن سے ہی کہا جائے گا کہ ایسا نہیں کرنا خدا ناراض ہو جائے گا ۔
تمہیں اٹھا کے جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔
نمازیں پڑھو
بس نمازیں پڑھو
دعا کرو
اللہ سے اچھی امید رکھو۔
میں کہتا ہوں یہ عبادت نہیں ہے یہ خوف کا سودا ہے۔ خدا تو صرف پیار ہے اور پیار میں ڈر کیسا ؟
جہاں ڈر ہوگا وہاں خدا نہیں اور جہاں خدا ہے وہاں ڈر کیسا ؟
تم سب خدا سے ڈرتے ہو کہ اگر وہ کہیں ناراض ہو گیا تو تمہاری ذرا سی ،چھوٹی سی بھی غلطی پر تمہیں گردن سے دبوچ لے گا ۔
ان پنڈ توں نے
پجاریوں نے
مولویوں نے
خدا کو خدا نہیں رہنے دیا بلکہ اسے پولیس بنا دیا ہے جو تمہاری غلطیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور تھوڑی سی بھی کوتاہی، گناہ ۔ یا غلطی پر تمہیں پکڑ لے گی ۔
تمہیں ڈر سکھایا گیا ہے بچپن سے ہی۔
اس ڈر سے نکلو
خوف کی زنجیریں توڑ دو
ڈر کی عبادت چھوڑ دو
جس خدا کی تم عبادت کرتے ہو خوف کے باعث تو وہ خدا تمہیں غموں ،تکلیفوں سے مکت کیسے کرے گا ؟
وہ تو تمہیں اور غلام بنا لے گا ۔
میرا کہنا ہے اللہ کو ڈر سے نہ جوڑو
ڈر تو من کی بیماری ہے۔
ڈر سوچنے سے پیدا ہوتا ہے اور ڈر تمہیں کبھی بھی خوشی کی
راحت کی
سکون کی
عبادت مہیا نہیں کرتا ۔
جاگو
جب تم صحیح طرح سے جاگ جاؤ گے
جب تمہیں جینے کا مزہ آئے گا تو عبادت اپنے آپ ہونے لگے گی
جب تم پھول دیکھ کر، آسمانوں پر اڑتے پرندے دیکھ کر ،
چاند، ستارے! بادل دیکھ کر خوشی محسوس کرو گے اور سب سے بڑھ کر
جب تم یہ محسوس کرو گے کہ تم زندہ ہو
اور سانس لیتے ہوئے تمہارے اندر شکر گزاری کے جذبات پیدا ہوں گے
تو یہ شکر ہی عبادت ہے
یہ سکون ہی تپسیہ ہے۔

میں پھر زور دے کر کہتا ہوں کہ اب تم نے ڈر کی عبادت نہیں کرنی
جس دن شکرانے کے نفل پڑھو گے اسی دن سے تمہیں عبادت کا مزہ آنے لگے گا
خدا پیار ہے
خدا کا تصور سکون ہے راحت ہے
خدا کو پولیس نہ بننے دو

یاد رکھنا میری یہ بات تم لوگ

مزید خبریں