دوستی محض وقت گزارنے کا نام نہیں ہوتی، یہ خیال کی ہم سفری، فکر کی ہم آہنگی اور دل کی ہم کلامی کا نام ہے۔ کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ گفتگو محض بات چیت نہیں رہتی بلکہ ایک فکری سفر بن جاتی ہے۔ میرا ایک ایسا ہی دوست ہے جس کے ساتھ حال ہی میں میری ایک طویل اور یادگار نشست ہوئی۔ اس نشست کا مرکز میری وہ کتاب بنی جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے: “میرے سرورِ کائنات ﷺ کے آباء و اجداد”۔
ہم دونوں ایک خاموش سی شام میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ اور کتاب کی خوشبو فضا میں ایک خاص وقار پیدا کر رہی تھی۔ دوست نے کتاب کو ہاتھ میں لیا، اس کے سرورق پر نظر ڈالی اور مسکراتے ہوئے بولا:
“یہ عنوان ہی دل کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، لگتا ہے آپ نے تاریخ کو عقیدت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔”
میں نے جواب میں کہا کہ یہ کتاب محض تاریخ نہیں، یہ میرے ایمان، محبت اور عقیدت کا اظہار ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ اس کتاب کو لکھتے ہوئے میرا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ اس مقدس سلسلے کی عظمت کو اجاگر کرنا تھا جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعلق ہے۔
میں نے دوست کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ کے آباء و اجداد محض قریش کے سردار نہیں تھے بلکہ اپنے اپنے وقت کے عظیم ولی، صاحبِ کردار اور توحید پرست انسان تھے۔ وہ ایسے دور میں اللہ کی وحدانیت پر قائم رہے جب چاروں طرف شرک، بت پرستی اور جاہلیت کا غلبہ تھا۔ ان ہستیوں کا سب سے نمایاں وصف یہی تھا کہ انہوں نے کبھی بتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔
دوست نے غور سے سنتے ہوئے سوال کیا:
“کیا واقعی نبی کریم ﷺ کے تمام آباء و اجداد توحید پر قائم تھے؟”
میں نے پورے یقین اور سکون کے ساتھ جواب دیا کہ تاریخ کے مستند حوالوں سے یہی بات سامنے آتی ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ وہ خاندان تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر منتخب فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ایک پاک پشت سے دوسری پاک پشت میں منتقل ہوتا رہا، اور ایک پاک رحم سے دوسرے پاک رحم تک یہ نورِ نبوت سفر کرتا رہا۔
بات آگے بڑھی تو میں نے اسے بتایا کہ نبی کریم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب محض قریش کے سردار نہیں تھے بلکہ متولیٔ کعبہ بھی تھے۔ خانۂ کعبہ کی خدمت ان کے خاندان کو وراثت میں ملی تھی، اور یہ خدمت محض انتظامی نہیں بلکہ روحانی ذمہ داری تھی۔ حضرت عبدالمطلب کی زندگی توحید، وقار اور اللہ پر کامل بھروسے کی عملی تصویر تھی۔
میں نے خاص طور پر نبی اکرم ﷺ کے والد گرامی کے نام پر بات کی۔ میں نے دوست کو بتایا کہ آپ ﷺ کے والد کا نام عبداللہ رکھا گیا، اور یہ نام خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ خاندان اللہ کی بندگی کو اپنی پہچان سمجھتا تھا۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ اپنے بچوں کے نام بتوں سے منسوب کرتے تھے، وہاں “عبداللہ” جیسا نام رکھنا ایک واضح پیغام تھا۔
دوست نے بڑی دلچسپی سے سنا اور پھر پوچھا:
“کتاب میں حج کے بارے میں بھی کچھ لکھا ہے؟”
میں نے اسے بتایا کہ نبی کریم ﷺ کے آباء و اجداد کا حج حدودِ حرم کے اندر ہوتا تھا۔ وہ ان رسومات سے دور رہتے تھے جن میں شرک یا جاہلیت کی آمیزش تھی۔ ان کا عبادت کا تصور خالص اللہ کی رضا کے لیے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے برگزیدہ بندوں میں شامل فرمایا۔
میں نے کہا کہ یہ خاندان پاکیزگی میں اپنی مثال آپ تھا۔ مکہ کے سردار ہونے کے باوجود ان کی زندگی سادگی، دیانت اور اخلاق کی اعلیٰ مثال تھی۔ اقتدار اور عزت نے کبھی ان کے کردار کو آلودہ نہیں کیا۔ وہ طاقتور بھی تھے اور متقی بھی، امیر بھی تھے اور عاجز بھی۔
دوست نے گہری سانس لی اور کہا:
“ایسی کتابیں آج کے دور میں بہت ضروری ہیں۔ لوگ نبی کریم ﷺ سے محبت تو کرتے ہیں، مگر ان کے خاندانی پس منظر اور اس نورانی سلسلے سے کم واقف ہیں۔”
اس کی بات سن کر مجھے اطمینان محسوس ہوا کہ میرا مقصد پورا ہو رہا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں چاہتا تھا کہ نئی نسل یہ سمجھے کہ نبی اکرم ﷺ اچانک ایک عام ماحول سے نہیں آئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے صدیوں پہلے اس عظیم ہستی کے لیے ایک پاک، معزز اور توحید پرست خاندان کی تیاری فرمائی۔
ہماری گفتگو طویل ہوتی چلی گئی۔ کبھی تاریخ کے حوالے آتے، کبھی عقیدت کی بات ہوتی، اور کبھی موجودہ دور کی فکری الجھنوں کا ذکر۔ آخر میں دوست نے کتاب بند کی، میری طرف دیکھا اور کہا:
“یہ کتاب محض مطالعہ نہیں، یہ ایمان کی تجدید ہے۔”
اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ دوستی کا اصل حسن یہی ہے: ایک دوسرے کے فکر و یقین کو مضبوط کرنا۔ میں اور میرا دوست اس شام خاموش ضرور ہوئے، مگر ہمارے دلوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نورانی خاندان کی عظمت پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہو چکی تھی۔











