هفته,  17 جنوری 2026ء
دنیا 6G کی منتظر، کمرسر 3G کو ترستا ہے

کمرسر کے افق سے
تحریر: محمد مدثر حسین خٹک
(ای میل: mudasserhussain890@gmail.com)

آج جب ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں سانس لے رہے ہیں، دنیا ایک “گلوبل ولیج” کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کا یہ عالم ہے کہ انسان چاند سے آگے مریخ پر کمندیں ڈال رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک تو کجا، ہمارے آس پاس کی دنیا اب 5G سے نکل کر 6G ٹیکنالوجی کی طرف گامزن ہے۔ لیکن صد افسوس! ضلع کے پسماندہ مگر اہم علاقے “کمرسر” کے مکین آج بھی پتھر کے دور جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں انٹرنیٹ تو دور کی بات، اپنے پیاروں سے سادہ فون کال پر بات کرنا بھی ایک عذاب سے کم نہیں۔

اس کالم کے توسط سے میں اربابِ اختیار اور خاص طور پر ٹیلی کمیونیکیشن کے ذمہ داران کی توجہ یونین کونسل 12 (UC-12) کمرسر کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ یہ وہ بدقسمت علاقہ ہے جو ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی پاکستان کی بہت ساری بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، لیکن سب سے سنگین مسئلہ “مواصلاتی رابطے” (Communication Gap) کا ہے۔

علاقے میں نصب ٹیلی نار (Telenor) کے ٹاورز کی کارکردگی انتہائی ناقص اور سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ کمپنی کے اشتہارات میں تو بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جہاں دنیا پلک جھپکتے ہی ہزاروں میل دور رابطہ کر لیتی ہے، وہاں کمرسر کے عوام کو “ہیلو” کہنے کے لیے بھی سگنلز کی تلاش میں بھٹکنا پڑتا ہے۔

یوسی 12 کے رہائشیوں کے لیے انٹرنیٹ ایک بنیادی ضرورت ہے، عیاشی نہیں۔ طلباء کو آن لائن تعلیم، نوجوانوں کو روزگار کی تلاش اور فری لانسنگ، اور عام شہریوں کو ملکی و غیر ملکی رابطوں کے لیے انٹرنیٹ کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن یہاں 3G سروس بھی اس قدر سست ہے کہ ایک معمولی سا پیغام بھیجنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں، جبکہ 4G کی رفتار کا تو تصور ہی محال ہے۔ اکثر اوقات سگنلز مکمل طور پر غائب ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ایمرجنسی کی صورت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کیا کمرسر کے باسی اس ملک کے شہری نہیں؟ کیا ہمیں ڈیجیٹل پاکستان کی سہولیات سے استفادہ کرنے کا کوئی حق نہیں؟ ہماری حکومتِ وقت، پی ٹی اے (PTA) حکام اور خاص طور پر ٹیلی نار کمپنی کی انتظامیہ سے پرزور اپیل ہے کہ کمرسر (UC-12) میں مواصلاتی نظام کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ علاقے میں موجود ٹاورز کی فنی خرابیوں کو دور کیا جائے اور ان کی رینج میں اضافہ کیا جائے۔ انٹرنیٹ کی رفتار کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق 4G یا ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ پر منتقل کیا جائے۔ سگنلز کے اس دیرینہ مسئلے کوحل کر کے عوام کی بے چینی ختم کی جائے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری یہ آواز صدا بہ صحرا ثابت نہیں ہوگی اور متعلقہ حکام جلد از جلد کمرسر کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

مزید خبریں