تحریر: ندیم طاہر
میرا دوست بڑا ہی سنجیدہ مزاج اور دردِ دل رکھنے والا انسان ہے۔ اکثر شام کو جب ہم دونوں ملاقات کرتے ہیں تو ملکی حالات پر بات چیت ضرور چھڑ جاتی ہے۔ آج وہ بڑی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے بولا:
“یار! حالیہ دنوں میں پاکستان کے حالات کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے اللہ ہم سب سے ناراض ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی آفت نازل ہو رہی ہے۔ کبھی بادل ٹوٹ کر سیلاب بن جاتے ہیں، کبھی زمین لرز اٹھتی ہے اور زلزلے سے بستیاں اجڑ جاتی ہیں۔ اور کبھی وبائیں ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔”
میں نے ان کی بات کو غور سے سنا اور جواب دیا:
“ہو سکتا ہے یہ اللہ کا ناراض ہونا ہی ہو، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اللہ کیوں ناراض ہوتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ظلم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خون سفید ہو چکا ہے۔ رشتوں میں تقدس باقی نہیں رہا۔ چھوٹی چھوٹی بات پر جھگڑے، معمولی سی رنجش پر قتل و غارت، اور ہر دوسرے دن انتقام کی آگ میں انسانیت کو جلاتے دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ ہم اچھے معاشرے میں جی رہے ہیں؟”
دوست نے آہ بھری اور کہا:
“تم بالکل درست کہتے ہو۔ پہلے زمانے میں لوگ غربت کے باوجود ایک دوسرے کا سہارا بنتے تھے۔ بھائی بھائی کا دکھ درد بانٹتا تھا۔ گلی محلے کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن آج؟ آج تو لوگ اپنے سگے بھائی کو دھوکہ دے دیتے ہیں۔ چند سکوں کے لالچ میں رشتے توڑ دیتے ہیں۔”
میں نے بات آگے بڑھائی:
“ہاں! آج ہمارے دل پتھر کے ہو گئے ہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ایک دن ہمیں بھی قبر میں جانا ہے، حساب دینا ہے۔ ہم دنیا کے عارضی فائدے کے لیے دائمی زندگی کو برباد کر رہے ہیں۔ رشوت، کرپشن، جھوٹ، فریب، ملاوٹ اور دھوکہ دہی جیسے گناہ ہمارے روزمرہ کے معمولات بن گئے ہیں۔ اور یہ سب کچھ دیکھ کر لگتا ہے کہ اللہ کی ناراضی کی شکل میں ہمیں یہ مصیبتیں سہنی پڑ رہی ہیں۔”
میرا دوست خاموش ہو گیا، پھر ذرا توقف کے بعد بولا:
“لیکن کیا ہم سب قصوروار ہیں؟ کیا سب ہی برے ہیں؟”
میں نے کہا:
“نہیں! سب برے نہیں ہیں۔ اچھے لوگ آج بھی موجود ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ برائی نے اتنی جڑیں پکڑ لی ہیں کہ اچھائی دب گئی ہے۔ ظلم و زیادتی کا شور اس قدر بڑھ گیا ہے کہ نیکی کی آواز سنائی نہیں دیتی۔”
ہم دونوں کی کچھ دیر خاموشی کے بعد
میں نے پھر گفتگو شروع کی:
“یہی وجہ ہے کہ معاشرتی زوال ہمارے گھروں تک آ پہنچا ہے۔ اولاد والدین کی نافرمان ہو گئی ہے۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کرتے ہیں، لیکن بچے بڑے ہو کر ان ہی کو بڑھاپے میں تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ شادی بیاہ جیسے مقدس رشتے بھی دولت، جہیز اور دکھاوے کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔”
دوست نے کہا:
“بالکل! پہلے رشتے پیار، قربانی اور اخلاص پر قائم ہوتے تھے۔ اب یہ رشتے پیسے اور نمود و نمائش کے محتاج ہو گئے ہیں۔”
میں نے کہا:
“یہی تو اصل المیہ ہے۔ جب کسی قوم کے رشتے کمزور ہو جائیں، جب بھائی بھائی کا سہارا نہ رہے، جب باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو پرایا سمجھنے لگے، تو سمجھ لو کہ اس قوم کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں۔ پھر وہ قوم بڑے سے بڑا ایٹمی ہتھیار رکھ لے، ترقی کے دعوے کر لے، لیکن اخلاقی طور پر وہ تباہ ہو چکی ہوتی ہے۔”
دوست نے پھر ایک سوال کیا:
“تو پھر حل کیا ہے؟ کیا ہم صرف روتے رہیں؟ کیا حالات کبھی بہتر نہیں ہو سکتے؟”
میں نے کہا:
“حل تو ہے، لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہمیں اپنی اصلاح سے آغاز کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنے دلوں کو نرم کریں، دوسروں کا حق مارنا چھوڑ دیں، رشتوں کا تقدس بحال کریں، تو حالات ضرور بہتر ہوں گے۔ اللہ نے قرآن میں واضح فرمایا ہے کہ وہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔”
میرے دوست نے گہری سانس لی اور کہا:
“ہاں، شاید یہی بات ہم سب بھول گئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات بدل جائیں، مگر ہم خود بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں مگر اپنی ذات کا احتساب نہیں کرتے۔”
میں نے کہا:
“بالکل! اگر ہم میں سے ہر شخص یہ طے کر لے کہ وہ صرف اپنی اصلاح کرے گا، تو دیکھنا پورا معاشرہ بدل جائے گا۔”
گفتگو کا اختتام اس بات پر ہوا کہ ہم دونوں نے عہد کیا کہ کم از کم اپنی حد تک ہم نیکی کے راستے کو اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ شاید یہی چھوٹا سا قدم کل ایک بڑے انقلاب کی بنیاد بن جائے۔
نتیجہ
آج پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے، وہ محض معاشی یا سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہیں۔ قدرتی آفات ہمیں بار بار یہ احساس دلا رہی ہیں کہ اللہ کی ناراضی کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم ظلم کو ختم کریں، عدل قائم کریں اور رشتوں کا تقدس بحال کریں۔ جب ہم ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے، تبھی اللہ کی رحمت ہمارے شاملِ حال ہوگی۔