اتوار,  31  اگست 2025ء
پاکستان کی معاشرتی تباہی اور دہشت گردی کا آغاز
پاکستان کی معاشرتی تباہی اور دہشت گردی کا آغاز

تحریر: داؤد درانی

پاکستان کی تاریخ میں کئی ایسے موڑ آئے جنہوں نے اس کے سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی ڈھانچے کو گہرائی سے متاثر کیا، لیکن سب سے خطرناک اور دور رس اثرات رکھنے والا موڑ 1979ء میں آیا، جب پاکستان نے امریکہ کے ایما پر افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ اس جنگ کو “افغان جہاد” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ جنگ پاکستان اور افغانستان کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

اس وقت امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کا مقصد صرف ایک تھا: سوویت یونین کو شکست دینا اور سرد جنگ میں برتری حاصل کرنا۔ پاکستان کو فرنٹ لائن ریاست کے طور پر استعمال کیا گیا۔ امریکہ نے اسلحہ، پیسہ اور تربیت فراہم کی، جبکہ پاکستان نے اپنی سرزمین، خفیہ ادارے اور عوامی جذبات کو اس مقصد کے لیے وقف کیا۔ اس وقت کے حکمرانوں نے اس فیصلے کو اسلام اور آزادی کے نام پر عوام کے سامنے پیش کیا، لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ ایک جغرافیائی و سیاسی کھیل تھا جس میں پاکستان محض ایک مہرہ بن کر رہ گیا۔

اس جنگ کے فوری اثرات انتہائی خطرناک ثابت ہوئے۔ کلاشنکوف کلچر پاکستان میں عام ہوگیا۔ پہلے جن شہروں میں اسلحہ کھلے عام نظر نہیں آتا تھا، وہاں بھی ہر گلی اور محلے میں جدید ترین ہتھیار پہنچ گئے۔ اسی کے ساتھ ہی ہیروئن کا کاروبار بھی بے تحاشا پھیل گیا، جس نے نوجوان نسل کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔ منشیات اور اسلحے کا یہ امتزاج جرائم کی ایک نئی لہر لے آیا، جو آج بھی ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

انتہا پسندی ایک اور مہلک تحفہ تھا جو اس جنگ نے ہمیں دیا۔ مذہبی شدت پسندی کو اس جنگ کے دوران باقاعدہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مدرسوں میں مخصوص نظریے کی تعلیم دی گئی، جہاد کے نام پر نوجوانوں کو جنگ کے لیے تیار کیا گیا اور برداشت، رواداری اور امن کے وہ اصول جو پاکستانی معاشرت کی خوبصورتی تھے، آہستہ آہستہ دم توڑنے لگے۔ فرقہ واریت نے جڑیں مضبوط کیں، اور معاشرہ مختلف گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا دشمن بننے لگا۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ اور یورپ اپنے مقاصد حاصل کرکے سکون سے بیٹھ گئے۔ وہ دنیا کی واحد سپر پاور بن گئے، لیکن پاکستان اور افغانستان میدان جنگ کے ملبے تلے دبے رہ گئے۔ لاکھوں لوگ مہاجر کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے، معیشت برباد ہوگئی، اور دہشت گرد تنظیمیں جڑ پکڑ کر ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئیں۔

آج بھی اس جنگ کے اثرات ہمارے ملک پر گہرے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات، انتہا پسندی، جرائم اور منشیات کا پھیلاؤ اسی دور کا نتیجہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب ان زخموں سے نجات حاصل کریں گے؟ بدقسمتی سے ابھی کوئی واضح جواب نظر نہیں آتا، کیونکہ ان مسائل کی جڑیں ہمارے سیاسی، معاشرتی اور تعلیمی نظام میں گہری ہوچکی ہیں۔

یہ تاریخ کا ایک تلخ سبق ہے کہ کسی اور کی جنگ میں شمولیت اختیار کرنے سے وقتی فائدہ تو شاید مل جائے، لیکن اس کے طویل مدتی نقصانات نسلوں تک بھگتنا پڑتے ہیں۔ پاکستان کو اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنی خودمختاری اور معاشرتی استحکام کو محفوظ رکھنے کا واحد راستہ اپنے فیصلے خود کرنا اور دوسروں کے جیوپولیٹیکل کھیل کا مہرہ نہ بننا ہے۔

مزید خبریں