تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان(ریٹائرڈ)
نان فائلر کے لیے میمز سے باہر بھی ایک دنیا ہے جیسے کرنل ابرار خان کے قلم نے آپ تک پہنچانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی ہے۔۔۔
سلیم احمد جو تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے ماسٹر کی ڈگری کے حامل ہیں اور پچھلے چھ سال سے ایک پرائیویٹ فرم میں سپروائزر کی ڈیوٹی پوری لگن اور ایمانداری سے سر انجام دے رہے ہیں۔
وہ کراچی کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں۔ اپنی تنخواہ کے حساب سے وہ بغیر لفٹ والی چار منزلہ عمارت کی آخری منزل پہ ہی رہ سکتے ہیں۔ ان کے بیمار اور پیرانہ سال والدین صرف اسپتال جانے کے لیے ہی گھر سے باہر نکلتے ہیں۔
سلیم احمد کی قلیل سی تنخواہ سے انکم ٹیکس کی کٹوتی کے بعد جو تنخواہ ان کے ہاتھ میں آتی ہے اس کا بڑا حصّہ گھر کے کرائے، بجلی، گیس اور پانی کے بلوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ وہ شدید گرمی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کرتے ہیں۔ اور موجودہ حالات میں گیس کی بندش کے باعث ایل پی جی کا سلنڈر بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کا خرچہ تو ایک طرف اس سلنڈر کو چوتھی منزل تک پہنچانا ہی کسی معرکے سے کم نہیں۔
سلیم احمد کے بچے گھر کے نزدیک جس اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اس کی فیس کے ادائیگی اور کتابوں کا خرچہ جب تنخواہ سے نکالا جاتا ہے تو اس کے بعد ان کے پاس صرف پریشانی ہی بچتی ہے۔
مزید پڑھیں: کیا کیس ہے؟
بیمار والدین اپنی بیماری اور درد کو چھپا کر بچوں پہ مزید خرچوں کا بوجھ نہیں ڈالتے۔۔۔
سیر و تفریح کیا ہوتی ہے یہ تو وہ کب کے بھول ہی چکے ہیں۔ بچوں کی سب سے بڑی تفریح کمرے کی کھڑکی سے نیچے نظر آنے والا منظر ہی ہوتا ہے۔
شام کو بجلی کی بچت کے لیے گھر کی ساری روشنیاں اور پنکھے بند کر وہ ایک ہی کمرے کی کھڑکی کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔
دال اور سبزی کو مختلف طریقوں سے پکا کر منہ کا ذائقہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ گھر میں چینی کا استعمال یہ کہہ کر نہیں کیا جاتا کہ یہ صحت کے لیے اچھی نہیں۔ گوشت سے بھی تو کولیسٹرول زیادہ ہو جاتا ہے۔ تربوز کو سرخ رنگ کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں گویا وہ مضرِ صحت قرار پایا۔ آم سے جگر پہ گرمی ہو جاتی ہے۔۔۔
مہینے کی پہلی تاریخ سے دس تاریخ تک فلیٹ کا کرایہ، مینٹیننس چارجز، دودھ کا بل، اسکول کی فیس، بجلی، پانی اور گیس کے بل دینے کے بعد اگلے بیس دن گزارنے کا فن صرف سلیم احمد اور ان جیسے ناجانے کتنے ہی اور پاکستانیوں کو ہی آتا ہے۔۔۔
حکومت کی طرف سے مہیاء کی گئی سہولیات جس میں مفت بجلی و گیس کے یونٹس، یورپی ممالک کے اسپتالوں میں علاج کی سہولت، 24 گھنٹے صاف اور میٹھے پانی کی فراہمی، کیمرج اسکولوں جیسے میعاری اسکولوں میں بچوں کی مفت تعلیم کے باوجود یہ سلیم احمد جیسا طبقہ نان فائلر ہے۔ کیونکہ سلیم نان فائلر ہے باوجود اس کے کہ حکومت نے ان کو تمام تر بنیادی سہولیات مہیاء کی ہوئی ہیں، اس لیے سلیم احمد اور اس جیسے تمام نان فائلر حضرات کو اس جرم کی سزا تو ملنی ہی چاہیے۔۔۔لہٰذا حکومت کو ان کی وہ کھڑکی بند کر دینی چاہیے جہاں سے سلیم احمد کے بچے مفت کی تفریح کرتے ہیں۔