اتوار,  23 جون 2024ء
فاقہ کش قوم اور ٹورزم کا فروغ۔۔۔!!

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

پاکستانی، دنیا کی عظیم ترین فاقہ کش قوم

کاش یہ حکمران اور ہمارے بادشاہ، نہیں نہیں ڈسٹٹیبلشمنٹ کہنا زیادہ بہتر رہے گا ،ہم عوام کو بھی بنی نوع انسان سمجھے

گزشتہ دنوں گندم کا جو بحران رونما ہوا اور جس میں ہماری اشرافیہ ملوث پائی گئی اور کسانوں کو جس طرح رسوا کیا گیا اور اشیائے خرد و نوش کی جس طرح اس ملک میں قلت کی گئی ایسی صورتحال میں آپ کے ساتھ ،میں بھی دکھی ہو جاتا ہوں

مطالعہ پاکستان کے ذرائع کے مطابق
ہمارے ملک کی معیشت کا 70 فیصد انحصار زراعت پر ہے
ہمارا ملک ، ایک زرعی ملک ہے
اور خدا نے اسے ہر قسم کی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے۔ یہاں پہ چار موسم ہیں، دنیا کے بہترین پہاڑی سلسلے، دریا، خوبصورت موسم، سمندر ،تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں

اب یہ تو ہو گئی مطالعہ پاکستان کی بات
جس میں ہم سب کو یہ سبق پڑھائے جاتے رہے ہیں اور آج بھی بچوں کو یہی پڑھایا جاتا ہے اور مطالعہ پاکستان کے نقشے میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے
اور یہ کہ ہمارا ملک بہترین محلے وقوع پہ واقع ہے

لیکن اس کے برعکس، حقیقی زندگی میں ہمارے ملک کے ایک طرف سے افغانی ہم پر دہشت گردی کرتے ہیں

دوسری طرف سے ایران کے بارڈر سے بلوچستان کے علاقے میں در اندازی کی جاتی ہے اور جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے
اور تیسری طرف ہمارے ابدی اور ازلی دشمن بھارت کی لائن آف کنٹرول اور سیز فائر لائن پر ہر دوسرے روز فائرنگ، جو کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے

ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ مالی حالات سے تنگ آ کر خودکشیاں کر رہے ہیں

80 فیصد لوگ، خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں

باپ اپنے بچوں کو مالی پریشانیوں کے سبب بیچنے پر مجبور ہو چکے ہیں

خواتین جسم فروشی کر کے گھر کا گزر بسر کرنے پر آمادہ ہیں
میں اکثر سوچتا تھا کہ ہمارے ملک کے معاشی حالات کو کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟

ظاہر ہے آپ بھی ایسے ہی سوچتے ہوں گے اور آپ کے پاس بھی اس کے حل موجود ہیں
پیدائش پاکستان سے لے کر ابھی تک ہمارے حکمران اور افواج ،عوام کو کچھ نہ دے سکی

میرے ذہن میں ایک ائیڈیا ہے کہ کیوں نہ ہم یہ کوشش کریں
ایک مزید کوشش کہ اس ملک کے قرض اتارنے کے لیے حکمرانوں کا ساتھ دیں لیکن اب چونکہ ہم اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے غلام ہیں اس لیے ہماری تو کسی نے سننی نہیں
لہذا اب خیال آیا ہے کہ کیوں نہ اس غربت کے چیلنج کو مواقع میں بدل کر دیکھا جائے
ایک ایسی فاقہ کش قوم، جو موت کے دہانے پر بیٹھی ہے، اگر اس سے مثبت کام لیا جائے تو ہمارے ائی ایم ایف کے قرضے اتر سکتے ہیں اور ملک کی حالات بہتر ہو سکتے ہیں
ہم دو ارب ڈالر کی بھیک مانگتے پھرتے ہیں ائی ایم ایف سے
جبکہ ہالی وڈ کی صرف ایک فلم اواتار، ایک ارب ڈالر کا بزنس دے کر جاتی ہے
لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہالی وڈ کی ایک فلم کی کمائی کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتے

اس ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالنے اور قرضے اتارنے کا ایک تیر بحدف نسخہ ہے میرے پاس
اس پاکستانی قوم کا فاقہ کشی کے پیشے سے چولی دامن کا ساتھ ہے
کیونکہ کم و بیش 90 فیصد پاکستانی ،کبھی نہ کبھی کسی دور میں، فاقہ کر چکے ہوں گے

گزشتہ کئی دہائیوں میں پیشہ ورانہ فاقہ کشی میں لوگوں کی دلچسپی غیر معمولی تیزی سے اختتام پذیر پذیر ہوئی ہے
کبھی اس سے فاقہ کش فنکار کو اپنے فن کے عظیم مظاہروں سے اچھی خاصی آمدنی ہو جایا کرتی تھی

لیکن آج کل ایسا ممکن نہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں اسے بہت معیوب سمجھا جاتا ہے
ایک وقت تھا جب فاقہ کش فنکار سارے قصبے کی دلچسپی کا مرکز ہوا کرتا تھا

اس کا ہر فاقہ کشی کا دن، دیکھنے والوں کی آتش شوق کو ہوا دیتا تھا

لوگوں کو فاقہ کش فنکار کو دیکھنے کے لیے دن میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور جانا پڑتا تھا
اور ایسے شوقین مزاج لوگ بھی ہوا کرتے تھے جو فاقہ کشی کے مظاہرے کے آخری دنوں کے لیے رعایتی ٹکٹ خرید کر اسے دیکھنے آیا کرتے تھے
یہ فاقہ کش فنکار، جو سیاہ لباس میں ملبوس، نمایاں طور پر باہر کو نکلی ہوئی پسلیوں کے ساتھ، کسی گدے پر نہیں بلکہ زمین پر بچھے تنکوں کے درمیان بیٹھا ہوتا تھا، کبھی خوش اخلاقی سے سر ہلاتا ،کبھی تھوڑی مسکراہٹ سے تماشائیوں کی جانب دیکھتا
اس کے ساتھ تماشائیوں کی سوالوں کے جواب دیتا

یا پھر کبھی سلاخوں میں سے اپنے بازو باہر پھیلاتا تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ وہ کتنا کمزور اور نحیف ہے

یہ محض فاقہ کش کے لیے ایک تکلیف دے ورزش تھی جسے متعارف کرانے کا مقصد عوام کو یہ یقین دلانے کے علاوہ کچھ نہ تھا کہ فاقہ کش، گزشتہ کئی روز سے بھوک برداشت کر رہا ہے

اور کسی بھی مجبوری کے تحت خوراک کا ایک چھوٹا نوالہ بھی نہیں لے رہا
کیونکہ یہ بات فاقہ کشی کے پیشے کے تقدس کے خلاف تھی کہ وہ کسی کی نظریں چرا کر کوئی کھانے کے چیز منہ میں ڈال لے

حالانکہ جو فاقہ کش کے پنجرے کے نگران ہوتے وہ اکثر رات کو ایک کونے میں بیٹھ کر تاش کھیلنے لگتے اور فنکار کو موقع دیتے کہ وہ چھپ چھپا کر کوئی چیز کھا پی لے
لیکن اس وقت موت کے دہانے پر بیٹھے اس شخص میں اتنی اخلاقی جرات اور قوت ایمانی تھی کہ وہ اپنے پیشے کے ساتھ دھوکہ نہیں کر سکتا تھا
اس کے باوجود تماشائیوں کو چونکہ وہ 24 گھنٹے وہاں موجود نہیں رہ سکتے تھے یہ خیال ذہن میں آتا تھا کہ شاید کسی لمحے، پنجرے میں بیٹھا یہ فنکار، چوری چھپے کچھ کھا لیتا ہوگا
لیکن صرف فنکار ہی اس حقیقت سے باخبر ہوتا ہے کہ وہی لازمی طور پر اپنی فاقہ کشی کا مکمل، تسلی بخش،اور واحد تماشائی ہے

اور یہ اجتماعی فاقہ کشی کا مظاہرہ، زیادہ سے زیادہ 40 روز تک ہی چل سکتا ہے

تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ مسلسل اشتہار بازی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں 40 روز تک شہر کے عوام کی مظاہرے میں دلچسپی برقرار رکھی جا سکتی ہے
لیکن اس کے بعد، ان کی دلچسپی کم ہونے لگتی ہے اور ایسے فنکاروں کے مظاہرے سے اور فنکار سے ان کی دلچسپی میں فرق آجاتا ہے

لہذا ایک عمومی اصول کے کے طور پر 40 دن کی وقفے کو ہی آخری حد مان لیا جائے

جب 40 روز بعد ،پھولوں سے ڈھکے ہوئے پنجرے کا دروازہ کھولا جائے تو فوجی بینڈ بجایا جائے
ڈاکٹرز فاقہ کش قوم کا جائزہ لیں
طبی معائنہ کے نتائج سے سیاحوں کو اگاہ کریں
اور سیاحوں کو بتائیں کہ اب یہ قوم، اخری سانسیں لے رہی ہے
اور اس کے بعد دیکھا جائے کہ خزانے میں سیاحوں کے باعث کتنی رقم جمع ہوئی؟

اگر آئی ایم ایف کا قرض ادا نہیں ہوتا تو یہ فقہ کشی کے مظاہر ہے، کچھ عرصہ اور بھی جاری رکھے جا سکتے ہیں

اس طرح اس قوم کو عظیم ترین فاقہ کش قوم بننے کی جو شہرت ملے گی اس کا ایک اپنا ہی لطف ہوگا
بلکہ انسانی سوچ سے ماورا مظاہرہ کر کے فاقہ کشی کے اپنے ہی ریکارڈ کو توڑنے کی شہرت اس کے علاوہ ہوگی

ہماری قوم اسٹیبلشمنٹ کے اور حکمرانوں کے ہر قسم کے ظلم و ستم برداشت کرنے کی عادی ہو چکی ہے
لہذا میں اس قوم سے توقع کرتا ہوں کہ ایک اجتماعی فاقہ کشی شروع کر کے اس ملک کے قرض اتارنے میں اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں کی مدد کریں
جہاں بیرونی دنیا سے لاکھوں کی تعداد میں سیاح یہ تماشہ دیکھنے ائیں گے اور اس ملک کے ذر مبادلہ میں اضافہ ہوگا
اس مقصد کے لیے فوری طور پر مختلف دیہاتوں، قصبوں اور شہروں کے بڑے میدانوں میں مختلف مقامات، مختص کر دیے جائیں

ایک زمانہ تھا جب فاقہ کش فنکار اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کے لیے بھوکے رہا کرتے تھے
اور جب ان کے مالک ،مظاہرے کے بعد اسے کچھ رقم معاوضے کے طور پر دیتے تو یہی پیسہ ان کے خاندان کی گزر بسر کے لیے استعمال ہوتا

میری خواہش ہے کہ یہ مظاہرہ، فوری طور پر شروع کر دیا جائے اور اس کی سوشل میڈیا اور مختلف نشریاتی اداروں کے ذریعے خوب تشہیر کی جائے

عارضی اور فوری طور پر ہم سندھ کے بھوکے، ننگے اور فاقہ کش ہڈیوں کے ڈھانچے لا کر ،تماشائیوں کے سامنے رکھ سکتے ہیں

اور اب تو سوشل میڈیا سے بھی مدد لی جا سکتی ہے کہ اس کی ڈھیر ساری پبلسٹی کریں

مزید پڑھیں: شادی شدہ زندگی اور خوشی/ ایک سعی لا حاصل

عمران خان نے سیاحت کے فروغ کے لیے بہت کام کیا اور دوسری حکمران جماعتیں بھی سیاحت پر خصوصی توجہ دیتی رہیں لیکن خاطرخواہ نتائج حاصل نہ ہو سکے

اب میں آرمی چیف سے درخواست کروں گا کہ اگر یہ قوم ،برضہ ورغبت اجتماعی فاقہ کشی کی فن کا مظاہرہ کرنے پر راضی نہ ہو، تو پھر اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے
جو نو مئی کے واقعے کے بعد، پی ٹی ائی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ کیا گیا

کیونکہ اب قرضہ اتارنے کا اس کے سوا میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News