اتوار,  23 جون 2024ء
امریکا سے شکست، پاکستان کرکٹ ٹیم کےساتھ ” اگر اورمگر کا کھیل شروع

کرکٹ کا ورلڈ کپ ہواور پاکستان کےخلاف اپ سیٹ نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کےساتھ اگر مگر نہ ہو، ایسا بھی ممکن نہیں ۔ اگر اورمگر کھیل کا شروع ہوگیا ہے۔

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے گروپ ’اے‘ کے میچ میں امریکا کےخلاف پاکستانی ٹیم اپنا معیاری کھیل دکھانے میں ناکام رہی, افسوس، قومی ٹیم سپر 8 مرحلہ کھیلنے کی مستحق نہیں۔

گوکہ پاکستانی ٹیم کو کم و بیش ہر عالمی مقابلے میں کم و بیش ایسی ہی صورتحال درپیش ہوتی ہے لیکن اس بات کی امید نہ تھی کہ ایک ایسے ایونٹ میں جس میں پاکستانی ٹیم کے گروپ میں بھارت کے علاوہ بقیہ نسبتاً کمزور ٹیمیں موجود ہیں، وہاں پہلے ہی میچ کے بعد پاکستان کو ایسی نازک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایسا نہیں کہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ ایسا پہلی بار ہوا ہو کہ ہمیں ورلڈ کپ میں اس طرح کی اگر مگر کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
اس سے قبل 2019 اور 2023 کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستانی ٹیم کو اسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے اور قومی ٹیم دونوں ہی مواقع پر اگلے مرحلے میں نہیں پہنچ سکی تھی۔

ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان کی نووارد ٹیموں کے ہاتھوں کی بھی طویل تاریخ ہے جہاں 1999 کے ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش، 2007 کے ورلڈ کپ میں آئرلینڈ سے قومی ٹیم ہار گئی اور اس مرتبہ پاکستان نے امریکا کے ہاتھوں ہار کر اپنی ناپسندیدہ روایت کوجاری رکھا

 

ٹی20 ورلڈ کپ میں گزشتہ روز ڈیلس میں کھیلے گئے میچ میں امریکا نے پاکستان کو دلچسپ مقابلے کے بعد سپر اوور میں اپ سیٹ شکست سے دوچار کیا تھا اور اس پہلے ہی میچ میں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کی اگلے مرحلے تک رسائی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

ورلڈ کپ میں پاکستان کو اپنا اگلا میچ 9 جون کوٹورنامنٹ کی فیورٹ بھارتی ٹیم سے ہے, پاکستانی ٹیم اور بھارتی ٹیم کی موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی اگلے میچ میں فتح دیوانے کا خواب معلوم ہوتی ہے۔ اگرپاکستانی ٹیم اگلے میچ میں کامیاب رہتی ہے تو پھر تو اس کے اگلے مرحلے تک رسائی کے امکانات روشن رہیں گے لیکن بھارت کے خلاف بھی شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کے پہلے ہی راؤنڈ سے اخراج کا خطرہ پیدا ہو جائے گا کیونکہ پھر پاکستان کو امریکا اور آئرلینڈ جیسی ٹیموں کے میچوں کے نتائج پر انحصار کرنا ہو گا۔ بھارت کی موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے ان کی تو اگلے مرحلے میں رسائی یقینی نظر آتی ہے ایسے میں گروپ میں دوسری پوزیشن اور سپر ایٹ مرحلے پر رسائی کے لیے پاکستان کا مقابلہ امریکا اور آئرلینڈ کی ٹیموں سے ہو گا۔ پاک بھارت میچ کے بعد ممکنہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے معاملہ رن ریٹ پر جانے کا قوی امکان ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو امریکا کی ٹیم کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کی بھی دعا کرنا ہو گی۔ بھارت کے بعد پاکستان کا اگلا مقابلہ کینیڈا سے ہو گا اور اس میچ میں پاکستان کو بڑے مارجن سے جیتنے کی کوشش کرنا ہو گی اور اس کے بعد آئرلینڈ کو بھی لازمی بڑے مارجن سے ہرانا ہو گا۔
اگر پاکستانی ٹیم دو میچ جیت جاتی ہے اور آئرلینڈ کی ٹیم بھی امریکا کو شکست دے دیتی ہے اور پاکستان، امریکا اور آئرلینڈ کی کینیڈا کے خلاف ممکنہ فتح کے بعد راؤنڈ میچز کے اختتام پر تینوں ٹیمیں دو، دو میچ جیت چکی ہوں گی اور ایسی صورت میں بہتر رن ریٹ کی حامل ٹیم ہی آگے جا سکے گی۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ قومی ٹیم کو ٹی20 ورلڈکپ میں اس طرح کی صورتحال یا کسی کمزور ٹیموں کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست ہوئی ہو بلکہ 2022 میں کھیلے گئے گزشتہ ورلڈ کپ میں زمبابوے نے پاکستانی ٹیم کو شکست سے دوچار تھا لیکن اس کے بعد پاکستانی ٹیم نے شاندار انداز میں واپسی کرتے ہوئے ایونٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کی تھی جہاں اسے انگلینڈ نے شکست دے کر چیمپیئن بنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے گروپ ’اے‘ کے میچ میں نوآموز امریکا نے پاکستان کو سپر اوور میں 5 رنز سے شکست دی۔ پاکستان نے پہلے کھلیتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 159 رنز بنائے، جواب میں امریکا کی ٹیم بھی 3 وکٹوں کے نقصان پر اتنے ہی رنز بنا سکی، اس طرح میچ کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا۔ پاکستان کی جانب سے سپر اوور محمد عامر نے کرایا جو مہنگا ثابت ہوا اور امریکا نے 18 رنز بنا کر پاکستان کو 19 رنز کا ہدف دیا، جواب میں قومی ٹیم صرف 13 رنز ہی بنا سکا، اس طرح شاہینوں کو 5 رنز سے شکست ہو گئی۔ اس میچ میں کپتان بابر اعظم 43 گیندوں پر 44 رنز، شاداب خان نے 25 بالز پر 40 رنز اور شاہین آفریدی 16 گیندوں پر 23 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ نو آموز ٹیم کے ہاتھوں تجربہ کار ٹیم کی شکست پر پاکستانی شائقین نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور کپتان بابر اعظم، اعظم خان سمیت دیگر کھلاڑیوں پر سخت تنقید کی۔ سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر نے ایکس پر ایک ویڈیو میں کہا کہ ’ہم نے 1999 کے ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش سے ہارنے والی تاریخ دہرائی ۔

پاکستان کی جانب سے سپر اوور محمد عامر نے کرایا جو مہنگا ثابت ہوا شاہین آفریدی نسیم شاہ محمد عامر حارث رؤف کی تیز گیند بازی مکمل طور پر بے نقاب ہوگئی,امریکا سے شکست سے پہلے آثار تو انگلینڈ اور آئرلینڈ کے خلاف شکستوں نے ظاہر کردیے تھےلیکن سب پُرامید تھے کہ پاکستانی ٹیم نے سبق سیکھ لیا ہوگاکوالیفائنگ راؤنڈ میں ناکامی کے باوجود میزبان ملک ہونے کی حیثیت سے ٹورنامنٹ میں شامل ہونے والی ٹیم امریکا نے اس ٹیم کو شکست دی جسے چیمپیئن بننے کی دوڑ میں فیورٹ سمجھا جارہا تھا۔ وہ ٹیم جس کے لیے چیئرمین کرکٹ بورڈ بڑے بڑے دعوے کررہے تھے، وہی ٹیم اپنے پہلے ہی میچ میں چاروں شانے چت ہوگئی۔ٹیم جس ڈگر پر چل پڑی ہے، اس سے ایسے ہی نتائج سامنے آئیں گے۔ ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹ سے قبل ٹیم 25 ڈالرز میں آٹو گراف اور 100 ڈالرز میں میٹ اپ بیچ رہی تھی۔ یعنی پوری ٹیم کی توجہ پیسے کمانے پر تھی جوکہ کھیل سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔ اس پورے معاملے میں سینئر منیجر وہاب ریاض آگے آگے نظر آئے۔ کس کا کتنا حصہ ہے اور کہاں کہاں منافع جائے گا یہ تو نہیں معلوم لیکن 18ویں نمبر کی ٹیم سے شکست کھا کر قومی کرکٹ ٹیم نے پوری قوم کو مایوس کیا ہے۔ اس شکست کا جتنا مذاق پڑوسی ملک میں بنایا جارہا ہے، اس کی خبر شاید حکومت کو ہے ہی نہیں۔شکست میں جتنا حصہ حارث رؤف، افتخار احمد اور اعظم خان نے ڈالا اتنا ہی بابر اعظم بھی اس شکست کے ذمہ دار ہیں جن کی خراب کپتانی کی وجہ سے میچ ہاتھ سے نکلا کیونکہ جب ایک باؤلر زیادہ تر فل پچ گیند کرواتا ہے تو اس پر لانگ آف نہ لینا حد درجہ حماقت تھی۔ ڈیلس میں جس خفت اور توہین نے پاکستان ٹیم کو اپنے جال میں جکڑا، اس نے اگلے میچز کے لیے پاکستان ٹیم کے حوالے سے امیدیں ختم کردی ہیں۔ اس شکست کو پاکستانی کرکٹ شائقین برسوں بھلا نہیں سکیں گے۔پاکستان ٹیم کی اگلی منزل اب نیویارک ہے جہاں بھارتی ٹیم ہمارا انتظار کررہی ہے۔

 

نیویارک پچ پر جتنے بھی میچ کھیلے گئے، ٹیموں نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا نیویارک گراؤنڈ کی پچ پر اس قدر تنقید ہورہی ہے کہ آئی سی سی کو اپنا وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا۔ انگلینڈ کے مائیکل وان نے تو اسے تاریخ کا سب سے بھونڈا مذاق قرار دیا، دوسری طرف ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن جیسے سنجیدہ ماہرین بھی ایسی پچ کو زیادتی کہہ رہے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ جس نے اس پچ پر پہلا میچ کھیلا، اس کے کپتان نے تو اسے کرکٹ کی خودکشی قرار دیا۔ بھارتی کپتان روہیت شرما جو اپنی بذلہ سنجی کے لیے مشہور ہیں انہوں نے اسے ’پانی پر کھیلنا‘ کہہ دیا۔ پچ پر پہلا میچ سری لنکا اور ساؤتھ افریقہ کے درمیان ہوا تو لگا کہ جیسے پچ نے بلے بازوں کے ہاتھ باندھ دیے ہوں۔ دونوں کے مختصر اسکور نے پچ کی بے اعتنائی ظاہر کی۔ دوسرا میچ جب بھارت اور آئرلینڈ کے درمیان ہوا تو پچ میں ڈبل پیس تھا جس کے باعث گیند بلے پر نہیں آرہی تھی۔ پچ کا سب سے اہم مسئلہ اس کی مٹی کا گراؤنڈ کی مٹی سے ملحق نہ ہونا ہے جس کے باعث مٹی میں کہیں کہیں ڈھیریاں بن گئیں اور کہیں خلا۔ ایک اچھی پچ کم ازکم دو سال تک رول کی جاتی ہے جب کہیں اس میں یکساں باؤنس آتا ہے۔ آئی سی سی کا دعویٰ ہے کہ 34 ہزار افراد کی نساؤ گراؤنڈ ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ اسٹیڈیم ہے اور اس کا پورا خرچہ صرف ایک میچ کی آمدنی سے نکل جائے گا۔ 9 جون کی صبح جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی تو ٹکٹس اور اشتہاری بورڈز سے گراؤنڈ کی تعمیر کا خرچہ پورا ہو ہی جائے گا۔ بلیک مارکیٹ میں 200 ڈالرز کے ٹکٹ کی قیمت 20 ہزار ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔ آئی سی سی ٹکٹس کی فروخت میں ہمیشہ لاپروائی برتتا ہے جس سے شائقین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گزشتہ ورلڈ کپ اور ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کھیلنے والی بھارتی ٹیم کو دونوں دفعہ آسٹریلیا نے دھول چٹائی تھی موجودہ ٹیم اگرچہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور توانا نظر آتی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر چند دنوں قبل ختم ہونے والے آئی پی ایل کے کسی بھی شہسوار کو بھارتی سیلکٹرز نے ٹیم میں شامل نہیں کیا۔ ٹیم میں وہ تمام کھلاڑی شامل ہیں جو آئی پی ایل میں معمولی کارکردگی دکھا پائے۔

 

سیلکٹرز نے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے ہرشل پٹیل اور سب سے زیادہ رنز کرنے والے رتو راج گائیکواڈ کو ٹیم میں شامل نہیں کیا ٹیم کی جان تو کوہلی ہی ہیں لیکن روہیت شرما اور رشبھ پنٹ وہ کھلاڑی ہیں جن کی برق رفتار اننگز کچھ بھی کرسکتی ہے۔ بھارت نے اوپننگ میں نیا تجربہ کیا ہے اور کوہلی اب بطور اوپنر کھیل رہے ہیں۔ اگرچہ وہ آئرلینڈ کے خلاف جلدی آؤٹ ہوگئے تھے لیکن وہ بھرپور فارم میں ہیں جبکہ مڈل آرڈر میں سوریا کمار یادو اور ڈوبے ہوں گے۔ سوریا کمار کی جارحانہ بیٹنگ تو ہم دیکھتے رہتے ہیں لیکن اگر ہارڈک پانڈیا اور رشبھ پنٹ نے بھی اچھا کھیل پیش کیا تو پاکستان ٹیم کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ بھارت، نیویارک کی پچ کا مزاج دیکھتے ہوئے سراج کو بھی میدان میں اتار سکتا ہے جبکہ جسپریت بمراہ اور ارشدیپ سنگھ دیگر فاسٹ باؤلرز ہوں گے۔ ارشدیپ نے گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پہلی گیند پر بابر اعظم کو آؤٹ کرکے شہرت حاصل کی تھی۔بھارت بہ ظاہر زیادہ مضبوط اور متوازن نظر آرہی ہے لیکن اس کا اصل نمونہ ہم میچ کے دن دیکھیں گے کہ جہاں بھارت کی اصل طاقت اس کی بیٹنگ ہوگی,پاکستان کے لیے یہ میچ انتہائی اہم ہے۔ پاکستان ایک شکست کے بعد گروپ میں دھڑام سے نچلے درجے پر آچکا ہے اور اب اس کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر پاکستان بھارت کو شکست دے دیتا ہے تو وہ گروپ میں واپس آجائے گا بہ صورت دیگر پاکستان کو کینیڈا اور آئرلینڈ سے جیت کے ساتھ ساتھ امریکا کی شکست کے لیے دعا کرنا ہوگی۔ امریکا جس کے 4 پوائنٹس ہیں، ایک اور جیت اسے ویسٹ انڈیز کی فلائٹ میں بٹھادے گی جبکہ پاکستان کو لاہور کی۔ بھارت سے میچ ہمیشہ روایتی گرم جوشی سے بھرپور اور کانٹے دار ہوتا ہے۔ پاکستان نے اب تک آئی سی سی ایونٹس میں صرف دو بار بھارت کو شکست دی لیکن اس دفعہ پاکستان بہت زیادہ پُر امید تھی لیکن امریکا سے شکست نے تمام دعوے کھوکھلے ثابت کردیے ہیں۔پاکستان کی اس میچ کے لیے حکمت عملی یہ ہوگی کہ اگر پاکستان ٹاس جیت جاتا ہے تو پہلے باؤلنگ کرکے ایک ہدف طے کرکے کھیلا جائے۔

جبکہ پاکستان فیصلہ کرچکا ہے کہ اوپننگ بابر اور رضوان ہی کریں گے جبکہ عثمان خان ون ڈاؤن کھیلیں گے۔ عثمان ڈیلس میں ناکام ہوئے لیکن انہوں نے اوول میں انگلینڈ کے خلاف بہتر بیٹنگ کی تھی۔ فخر زمان چوتھے نمبر پر اور افتخار احمد پانچویں پر کھیلیں گے۔ شاداب خان جو ڈیلس میں بہتر فارم میں نظر آئے، وہ چھٹے نمبر پر کھیلیں گے جبکہ پاکستان کے لیے سب سے اہم فیصلہ ابرار احمد کی شمولیت ہوگی۔ گزشتہ میچز میں نیویارک کی پچ پر ڈبل پیس نے سب کو ششدر کردیا۔ یہ زمان خان کے لیے آئیڈیل پچ ہے۔ تاہم پیس اٹیک میں پاکستان کے نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، محمد عامر اور حارث رؤف ہوں گے۔

 

پچ پر ڈبل پیس ہونے کے باعث عامر کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ امریکا سے شکست کے باعث شاید نیویارک میں اعظم خان کی جگہ صائم ایوب ٹیم کا حصہ ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس پوزیشن پر بلے بازی کریں گے۔ ممکن ہے عثمان خان نیچے کھیلیں اور صائم ایوب ون ڈاؤں آئیں۔ پاکستان کو عماد وسیم کے نہ ہونے سے پریشانی کا سامنا ہے، اگر وہ فٹ ہوگئے تو صائم کی جگہ عماد وسیم ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ پاک-بھارت میچ میں سب کی نظریں فخر زمان اور رشبھ پنٹ پر ہوں گی۔ دونوں میں فلک شگاف شاٹ لگانے کی زبردست صلاحیت ہے۔ فخر زمان کی قسمت نے اگر ساتھ دیا تو مرد میدان بن سکتے ہیں، جبکہ بدقسمتی سے ان کی اصل بیٹنگ پوزیشن پر قبضہ ہوچکا ہے اور اب وہ مڈل آرڈر کا خلا پُر کررہے ہیں۔ امریکا سے شکست کے بعد یہ گروپ میچ پاکستان کے لیے فیصلہ کن بن چکا ہے۔ بھارت کے خلاف میچ پاکستان کے لیے ڈو اور ڈائے ہے اگر دونوں ٹیموں کو دیکھتے ہوئے پیش گوئی کی جائے تو بھارتی ٹیم مضبوط نظر آرہی ہے لیکن پاکستان ٹیم کو چھپے رستم کہا جاتا ہے جو کسی بھی وقت بازی پلٹ سکتی ہے۔ اس کا فیصلہ اتوارکو ہوگا۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News