اتوار,  23 جون 2024ء
پاکستان چین کے تجربات سے استفادے کا خواہاں

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان چین کے تجربات سے استفادے کا خواہاں ہے شہبازشریف نے پاکستان اور چین کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے بے پناہ امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چین کی سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی سے بھر پور استفادہ کر سکتا ہے ۔میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے بیجنگ کے مضافات میں چین کی سیلیکون ویلی کے زونگ گوانکون سائنس پارک کا دورہ کیا۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور وفد کے دیگر ارکان بھی ان کے ہمراہ تھے۔وزیراعظم کو سائنس پارک میں چین کے ٹیک سٹارٹ اپ کلچر اور جدید ماحول اور جدید تحقیق کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ علاوہ ازیں ، وزیراعظم کو ٹیک سٹارٹ اپس، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے مراکز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ممکنہ تعاون اور شراکت داری پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے چین کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو سراہا اور پاکستان اور چین کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے بے پناہ امکانات کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کی سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی سے پاکستان بھر پور استفادہ کر سکتا ہے ۔

وزیرا عظم شہباز شریف کا وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ چین کا پہلا دورہ ہے۔ چین اس دورے سے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان سدا بہار تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری میں مزید پیش رفت ہو اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے ساتھ قریبی چین پاکستان تعلقات کے لئے نئے اقدامات کیے جاسکیں وزیراعظم محمد شہباز شریف چین کے صدر شی جن پنگ، وزیر اعظم لی چیانگ اور نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین سے ملاقات اور بات چیت ان کے شیڈول میں شامل ہے۔ دونوں رہنما چین پاکستان تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر ایک خاکہ تیار کریں گے۔ وزیراعظم بیجنگ کے علاوہ گوانگ ڈونگ اور شانشی کا بھی دورہ کریں گے دونوں ممالک نے اعلی سطح کے قریبی تبادلے کیے، چین پاکستان اقتصادی راہداری پر نتیجہ خیز تعاون کیا اور بین الاقوامی اور علاقائی معاملات میں مضبوط رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھا۔بی آر آئی منصوبے سے مجموعی طور پر25 ارب 40 کروڑ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری، 236000 ملازمتیں، 510 کلومیٹر ہائی ویز، اور 886 کلومیٹر کور ٹرانسمیشن نیٹ ورک بچھایا گیا جس سے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں مضبوط ہوئی۔سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت دونوں ممالک اپنے رہنماؤں کی طرف سے طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنائیں گے جس میں ترقیاتی حکمت عملی اور پالیسی کوآرڈینیشن کی مضبوطی شامل ہے جبکہ ”ایم ایل ون” کی اپ گریڈیشن، گوادر بندرگاہ اور قراقرم ہائی وے فیز 2 کی بحالی سمیت میگا پراجیکٹس پر پیش رفت کو تیز کریں گے۔ دنیا میں تجارتی روابط بڑھانے’ متبادل اور سستے روٹس مہیا کرنے اور اقوام کو بہتر کمیونیکیشن وسائل کے ذریعے جوڑنے کی تزویراتی ضرورت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے؛ چنانچہ نے والے وقت میں سی پیک کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنا آسان ہو چکا ہے۔

۔ سی پیک کو پاکستان کئی سال سے معیشت کے لیے گیم چینجر قرار دیتے آیا ہے مگر اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ وزیر اعظم کے دورہ چین میں سی پیک کے منصوبے زیر غور ائیں گےمشترکہ مفاد کے ان منصوبوں کے شراکت دار کی حیثیت سے ہمیں اپنی کارکردگی کا محاسبہ بھی کرنا چاہیے خاص طور پرسی پیک سے منسلک اکنامک زونز کے منصوبے جن سے صنعتی سرگرمیوں کی توقعات وابستہ ہیں پاک چین دو طرفہ تجارت کے باب میں ہمیں چین کو اپنی برآمدات بڑھانے کے پہلوو ں کو بھی اجاگر کرنا ہو گا سی پیک کے دوسرے فیز سے پاکستان کی تین سو کے قریب مزید مصنوعات کو چین میں ڈیوٹی فری دمدات کی لسٹ میں شامل کرلیا گیا ہے یوں لگ بھگ ایک ہزار اقسام کی مصنوعات چین کو ڈیوٹی فری بھیجی جاسکتی ہیں مگر اس معاہدے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی سی پیک سے جڑی توقعات میں بنیادی طور پر اہم تھی مگر اس سلسلے میں نمایاں پیشرفت ہنوز نظر نہیں اتی’ اسی طرح زراعت کا شعبہ یا سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز میں سرمایہ کاری کی نمایاں گنجائش کے باوجود اس جانب بھی توجہ نہیں۔ امید ہے کہ وزیراعظم کے دورہ چین میں دوطرفہ دلچسپی اور مفاد کے پہلووں پر غور کیا جائے گا تا کہ ملک میں پیداواری اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور مصنوعات سازی کی سرگرمیوں میں اضافے سے پاکستان ایک برآمدی معیشت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی کو فروغ دے گا اور عالمی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعاون کا مضبوط اشارہ بھیجے گا۔

 

دونوں ممالک کے رہنماوں کے درمیان سٹریٹجک رابطے ہمارے تعلقات کی رہنمائی کرتے ہیں۔ گزشتہ 73 سالوں کے دوران دونوں ممالک کے رہنما قریبی رشتے داروں کی طرح ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ دورہ چین کے دوران کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ مینگ فینلی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مینگ فین لی نے وزیرِ اعظم کا شینزن آنے پر خیرمقدم کیا اور انہیں شینزن کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے اور چین کی ترقی سے سیکھنا چاہتا ہے۔ہماری حکومت سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے اشتراک اور سرمایہ کاری سے ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے کوشاں ہے مینگ فینلی نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی بہت مضبوط اور گہری ہے۔ شینزن کی حکومت اور شینزن کے لوگوں کے لیے آپ کی میزبانی اعزاز کی بات ہے ۔ امید کرتا ہوں آپ کی چینی اعلی قیادت بالخصوص چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ کے ساتھ ملاقاتیں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور شراکت داری کے فروغ کے حوالے سے مفید ثابت ہوں گی۔ شینزن میں پاکستانی طلباء کی بڑی تعداد زیرِ تعلیم ہے۔ پاکستان اور شینزن کے مابین تجارت کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس سے قبل میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی و تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’پاکستان چین کے تجربات سے استفادہ کرکے برآمدات میں اضافے کا خواہاں ہے، سی پیک اعلیٰ معیار کی ترقی کے دوسرے مرحلہ میں داخل ہو رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے پاکستان کی سائنسی و تکنیکی ترقی کو فروغ ملا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ منصوبے بنائیں۔ مینگ فینلی نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی بہت مضبوط اور گہری ہے وزیراعظم نے کہا کہ ’اس دورے کے ذریعے پاکستان دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیا ن روابط کےفروغ، خصوصی اقتصادی زونز، صنعتوں کے قیام اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پاکستان کی افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے، صنعتوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں سہولت، پاکستان کی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ڈھانچہ جاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات، اخراجات میں کمی، صنعتوں کےفروغ اور سرمایہ کاروں کے لیے سہولتیں پیدا کرنے کے ذریعے قومی معیشت میں بہتری لانے کی حکومتی ترجیحات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان چین کے تجربات سے سیکھنا چاہتا ہے اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کا خواہاں ہے، اس سلسلے میں پہلا اقتصادی زون پاکستان سٹیل ملز میں قائم کیا جائے گا جسے پہلے ہی ریل نیٹ ورک سے منسلک کیا جا چکا ہے اور یہ بندرگاہ کے قریب ہے۔ انہوں نے چینی صوبوں اور کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں اور باہمی فائدے کے لیے پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کریں۔‘ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے انہوں نے چینی ٹیکسٹائل شعبہ کو پاکستان میں اپنے یونٹس قائم کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دورہ چین کے دوران وہ ہواوے کمپنی کو بھی قائل کریں گے کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے حوالہ سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے مختصر مدت کے کورسز شروع کرے تاکہ وہ اپنا کاروبار خود شروع کر سکیں اور خلیجی ممالک کے لیے اپنی خدمات مہیا کریں اور پاکستان میں واپس ترسیلات زر بھجوائیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان چین کی زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے زرعی پیداوار اور ان کی برآمدات کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ دو طرفہ تعلقات کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں اور ہماری دوستی لازوال ہے، ہمارے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے مشکل ترین وقت میں چین کی طرف سے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور کہا کہ پاکستان چین کو دنیا بھر میں اپنا سب سے قابل اعتماد دوست سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ون چائنا اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور یہ عزم ہمیشہ اٹل رہے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’2013 میں سی پیک کے آغاز کے بعد سے حاصل ہونے والی کامیابیاں سب کے سامنے عیاں ہیں۔ چین کی ترقی سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’آج چین وژن، سخت محنت اور سنجیدہ اور انتھک کاوشوں کی وجہ سے ایک عظیم قوت بن چکا ہے، چینی ماڈل کے بارے میں تمام شکوک و شبہات کو تاریخ کے شواہد نے غلط ثابت کیا ہے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ ’2013 میں اس کے آغاز کے بعد سے حاصل ہونے والی کامیابیاں سب کے سامنے عیاں ہیں۔ توانائی کے صاف اور بہتر بنیادی ڈھانچہ کے حوالہ سے تیز تر اور مفید نقل و حمل کے نیٹ ورک کے نتیجہ میں سی پیک سے پاکستان کے لیے وسیع تر ترقی کے مواقع پیدا ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ’سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں دونوں ممالک زراعت، کان کنی، محنت کش روشنی کی صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔ چین کے تعاون سے پاکستان کے پہلے سیٹلائٹ اور ملٹی مشن کمیونیکیشن سیٹلائٹ کی لانچنگ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون نے پاکستان کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو فروغ دیا ہے۔ملٹی مشن کمیونیکیشن سیٹلائٹ سے پاکستان کا موجودہ ڈیجیٹل ماحول تبدیل ہونے کی توقع ہے، پورے ملک کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ سہولیات فراہم ہوں گی، لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو گا اور ای کامرس اور آن لائن حکومتی امور اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News