منگل,  21 مئی 2024ء
نیشنل بک فاؤنڈیشن کتب بینی کے فروغ کا قومی ادارہ

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

اچھا ہوا آپ سب لوگ یہیں مل گئے
آج میں آنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن جیسا کہتے ہیں کہ ہر کام میں اللہ کی بہتری ہوتی ہے تو یہاں سے گزرتے ہوئے موڈ بن گیا کہ چلو یہاں تھوڑی دیر کانفرنس ہی اٹینڈ کر لوں.میں اپ لوگوں کے چند منٹ لوں گا۔ آج اپ سب مخیر حضرات اچھے موڈ میں ہیں اور آپ نے حسب عادت لاکھوں، کروڑوں روپے کی انفرادی طور پر ڈونیشن بھی کی ہے .

دیکھیے میں کسی کے کہنے پر کچھ نہیں لکھتا۔ جب دل میں فیلنگ ہو تو قلم اٹھاتا ہوں
پھر اکثر لوگ ناراض بھی ہو جاتے ہیں کہ میں ان کے کہے ہوئے پر نہیں لکھتا
پہلے آپ سے بات کر لوں حضرات ،پھر اس موضوع پر کچھ لکھوں گا جو میں کہنا چاہتا ہوں
ارے آپ تو ایک سیلولر کمپنی کے ایم ڈی ہے نا؟

اور آپ سر ،بزنس گروپ کے چیئرمین

اور جناب آپ کو تو لوگ صورت سے ہی پہچانتے ہیں کہ اپ کا سکولوں کا جال پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے،

تو کیوں نہ اپ اس کار خیر میں حصہ ڈال کر تعلیم کے سفیر کے طور پر کام کریں

کیوں کیا خیال ہے آپ کا ؟

میں بات کرنا چاہتا ہوں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے حوالے سے، جس نے کتب بینی کے فروغ کے لیے کئی ذمہ داریاں اٹھا رکھی ہیں۔ مثلا آدھی قیمت پر کتب کی فروخت، کتب میلے اور ایگزیبیشن کا انعقاد۔
اب جن مسائل کی طرف میں اہل ثروت کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ مالی مسائل ہیں جن کا سامنا اس ادارے کو گزشتہ کئی برسوں سے ہے۔ گزشتہ ادوار میں تو پھر بھی ممکن تھا کہ حکومتوں کی طرف سے کسی حد تک اس قومی اہمیت کے ادارے کو کوئی مالی مدد مل جاتی تھی لیکن موجودہ دور میں تو ویسے ہی ہر وزارت اور ڈویژن کے پاؤں لڑکھڑا رہے ہیں اور وہ اپنا ہی بوجھ نہیں سنبھال پا رہی تو ایسے میں درخواست اپ سے ہے کہ کم از کم سال میں ایک دفعہ جہاں اپ نے چیرٹی کیے اور بہت سے پروگرام بنا رکھے ہوتے ہیں اس قومی کتب میلے کو بھی سپانسر کر لیا کریں.

ایک طرف ادارے کی مشکلوں میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور دوسری طرف اپ کے پوسٹرز ،فلائرز اسلام آباد کی شاہراہوں، چوراہوں پر ہواؤں سے لہرائیں گے تو اپ کے ادارے کی بھی کئی روز تک پبلسٹی ہوتی رہے گی.

ایم ڈی نیشنل بک فاؤنڈیشن کب تک حکومت کو دیکھتے رہیں گے ،دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جو تعلیم کے فروغ اور لوگوں میں پڑھائی کے رجحان کو بڑھاوا دینے کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں
کیونکہ
تعلیم ہے تو سب کچھ ہے

اپنی آخرت اور ہماری دنیا بہتر کرتے جائیے جناب

اپنے اپنے اداروں کی تشہیر کے موقع سے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے سٹال ہولڈر سے لے کر نمائش گاہ کی انتظامیہ تک، چائے پانی کے بندوبست سے لے کر ٹرانسپورٹ ارینجمنٹ کرنے والوں تک، سبھی مالی منفعت سے لطف اندوز ہوتے ہیں سوائے اس ادارے کے جس نے اپنے کندھوں پر عظیم و شان نمائش کا اہتمام کرنے کی ذمہ داری لے رکھی ہے اور گزشتہ 10 برسوں سے یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھا رہا ہے۔ میں حکومت سے اس لیے اپیل نہیں کر رہا کہ اس کی تمام وزارتوں ، اداروں اور ان کے سربراہوں کا دھیان کبھی بھی عوامی فلاح و بہبود اور علمی اور شعوری ترقی پر مرکوز نہ ہوا ہے کیونکہ اگر عوام کو علم و شعور مل گیا تو پھر وہ اپنے لٹیرے حکمرانوں اور اشرافیہ سے سوال کریں گے اس لیے عوام کا لاعلم اور جاہل رہنا ہی ان کے لیے مفید ہے.

کتنے کتنے جید اور معروف سکالر اور ادیب اس ادارے کے سربراہ رہے ہیں اور انہوں نے خلوص دل سے اپنی بہترین صلاحیتیں نیشنل فاؤنڈیشن کی ترقی کے لیے صرف کر دی جن میں افتخار عارف صاحب، احمد فراز صاحب، فتح محمد ملک، معروف شاعر ادیب اور نقاد ڈاکٹر انعام الحق جاوید اس ادارے کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری لیتے رہے ہیں.

نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ،اپنے پرنٹنگ پریس سے ان کی تصنیفات ارزاں نرخوں پر چھاپنا، مختلف علاقائی اور بین الاقوامی زبانوں کے تراجم و ترویج اور ترقی میں اہم کردار ادا کرنا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر سال کتب میلے کا اہتمام کرنا جس پہ پورے پاکستان سے بک سیلرز اور پبلشرز اپنے سٹال لگا کر علم کے فروغ کا باعث بنتے ہیں.

ان سب کاوشوں کے باوجود عوام تک مزید سستی کتب بینی میں حائل رکاوٹ ،فنڈز کی کمی ہے۔ آپ مخیر حضرات جو اس وقت اس موقع پہ موجود ہیں سے گزارش ہے کہ اپ ہر سال لاکھوں، کروڑوں روپیہ غریبوں اور مساکین میں ان کی ضروریات زندگی پر صرف کرتے ہیں تو اگر اس میں سے 10 فیصد بھی عوام میں کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانے کے لیے خرچ کریں تو غالب امکان ہے کہ اج سے 10 سال بعد قوم کی فکری اور شعوری سطح بہت بلند ہو چکی ہوگی.
یہاں میں اپ کو متاثر کرنے کے لیے کسی مغربی فلاسفر کی بات یا صوفیا کرام کے اقوال زریں سنا سکتا ہوں لیکن
علامہ محمد اقبال کے اس شعر پر اکتفا کروں گا کہ

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News