هفته,  05 اپریل 2025ء
’اے جنت نظیر وطن تجھ پر تیرا سپوت قربان ہونے سے کبھی دریغ نہیں کریگا‘

پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی خبر سن کر پوری قوم سوگوار تھی۔ انکے گھر اور خاندان غمزدہ اور افسردہ ۔ انکے بال بچے ویران و آنسو بھری آنکھوں سے بوڑھے والدین کپکپاتے ہونٹ اور لرزتے ہاتھوں سے اکھڑی ہوئی سانسوں سے کبھی درودیوار کو دیکھتے کبھی انکی بچپن، لڑکپن اور جوانی کے حسین و خوبصورت ترین ماضی کو یاد داشتوں میں آنے سے، انکی شریک حیات اپنے اجڑے اور بے ثمر مستقبل اور خوبصورت ترین ماضی کے جھروکوں میں اور کبھی اپنے تباہ حال مستقبل کی تاریکی میں اور انکے بچے اپنے سروں سے شفقت و محبت بھرے ہاتھوں کی پدرانہ لمس اور بابا و ابو کے لفظوں تک سے محروم کبھی اپنوں کے کندھوں سے سر لگائے سسکیوں اور آہوں سے بھرے جذبات ۔۔۔ ماتم بھری فضا میں حیران پریشان ۔۔۔ عزیز و اقارب کی کی تسلیاں آنکھوں سے آنسوؤں کی جڑی ۔۔۔ لاشوں کے بارے میں قسم قسم کے وسوسوں اور شکوک و شبہات کہ چہرے بھی دیکھ سکینگے یا پھر ۔۔۔۔۔۔۔ یا صرف بند بکسے کو دیکھ کر دلوں کو تسلی کہ ہاں یہی میرے عزیز از جاں و جھاں کی لاش ہے۔ جبکہ ذہن لامتناہی شکوک و شبہات کا شکار ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی دل کی گواہی اور ذہنی آمادگی کہ ہاں ہاں ۔۔ یہی میرا بھائی، یہی میرا، بیٹا، ہاں یہی میرا میاں اور ہاں یہی میرا والد محترم ۔۔ ہاں ہاں ہاں ۔۔۔ ہاں فوجی جوانوں کے کندھوں پر سوار شاہ سوار ، ملک و قوم۔کا بہادر نڈر جان نثار۔ ملک و قوم کا افتخار منوں مٹی تلے اپنے حقیقی رب کے سپرد کیا جا رہا ہے ۔ اس ملک و قوم کی خاطر جسکے لئے اس نے جوانی ہی میں قسم کھا کر یہ عہد کیا تھا ۔ کہ اے جنت نظیر وطن تجھ پر تیرا سپوت قربان ہونے سے کبھی دریغ نہیں کریگا ۔ چاہے جلتی ہوئی آگ یا سمندر میں کیوں نہ کھودنا پڑے ۔ جان کی بازی لگانا اور میرے وطن تیری عظمت پر آنچ نہ آنے دینا میرا فرض اولین اور تیرا یہ قرض آج میں نے چکا دیا ہے۔ جسکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ اللہ کی راہ میں جان دینے والے کو مردہ مت کہو۔ بلکہ وہ زندہ ہےاور تم نہیں جانتے۔

مزید خبریں