اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) اور عالمی کھلاڑیوں کی تنظیم ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن (WCA) کے درمیان کھلاڑیوں کے حقوق پر نیا تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
مسئلہ بنیادی طور پر نام، تصویر اور مماثلت (NIL) کے حقوق، اور دیگر کمرشل و ڈیٹا سے متعلق شرائط پر ہے۔
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ آئی سی سی نے کئی ممالک کے کھلاڑیوں کو جو اسکواڈ پارٹیسپیشن ٹرمز بھیجے ہیں، وہ 2024 میں دونوں تنظیموں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق نہیں ہیں۔ ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ نئی غیر منظور شدہ شرائط کھلاڑیوں کے لیے استحصالی نوعیت کی ہیں اور ان کے حقوق کمزور کرتی ہیں۔
آئی سی سی نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا کہ 2024 کا معاہدہ صرف آٹھ ممبر بورڈز (آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، ساؤتھ افریقہ، ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور اسکاٹ لینڈ) پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ باقی بورڈز اس کے پابند نہیں۔
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق، معاہدہ تمام باڈی سے منسلک کھلاڑیوں کے لیے قانونی طور پر لازم ہے چاہے وہ اس ورلڈ کپ میں کھیل رہے ہوں یا نہیں۔
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سی ای او ٹام موفات نے کھلاڑیوں کو بھیجے گئے میمو میں آئی سی سی اور 2024 معاہدے کے درمیان آٹھ اہم اختلافات کی نشاندہی کی، جن میں میڈیا شوز، کمرے تک رسائی، کھلاڑی کا ڈیٹا، لائسنسنگ، NIL حقوق اور ڈسپیوٹ ریزولوشن شامل ہیں۔
موفات کے مطابق آئی سی سی کی شرائط میں کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی NIL کسی بھی تیسرے فریق کو لائسنس کریں، اور قومی بورڈ ہر استعمال کی منظوری دے۔ جبکہ 2024 کے معاہدے میں یہ حقوق محدود تھے اور ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے ذریعے کھلاڑی اپنی شرائط طے کر سکتے تھے۔
ٹی 20 ورلڈکپ: بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کا فیصلہ قبول کرلیا
ڈیٹا کے استعمال میں بھی واضح فرق ہے: آئی سی سی کے ورژن کے مطابق “بورڈ کی اجازت سے ڈیٹا کمرشلائز کیا جا سکتا ہے”، جبکہ 2024 کے معاہدے میں کھلاڑی خود ڈیٹا کے مالک ہیں اور ان کی منظوری ضروری ہے۔ مزید برآں،آئی سی سی کے ورژن میں کھلاڑی شرائط پر دستخط کیے بغیر بھی “شرائط قبول شدہ” سمجھے جائیں گے، جب کہ 2024 معاہدے میں ہر ایونٹ کے لیے الگ دستخط ضروری ہیں۔
موفات نے کہا کہ آئی سی سی اور ممبر بورڈز نے جان بوجھ کر 2024 کے تحفظات ہٹا دیے اور کھلاڑیوں کی کمزور اور کم معاوضہ والی گروپس کو غیر منظور شدہ شرائط کے تحت کھیلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے کھلاڑیوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے 2024 معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔











