اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) بابر اعظم: ڈراپ، آؤٹ یا ریلیز، دال میں کچھ کالا ہے؟ کیا بابر اعظم کو ریلیز کیا گیا ہے یا ‘باعزت راستہ’ دیا گیا ہے؟
آسٹریلیا کی پچز پر جس طرح پاکستان کا یہ اسٹار بلے باز بے بس نظر آیا، اس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے، سڈنی سکسرز کے اہم ترین میچ سے ٹھیک پہلے بابر کا یوں ٹیم چھوڑنا کیا یہ محض اتفاق ہے یا پرفارمنس کا دباؤ؟
بابر اعظم کے لیے بی بی ایل کا یہ سیزن کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا، پہلے سست اسٹرائیک ریٹ پر تنقید ہوئی، پھر بڑا اسکور بنانے میں ناکامی، اور حد تو تب ہو گئی جب اپنے ہی پارٹنر اسٹیو اسمتھ کے ساتھ وہ ‘ایک رن’ کی کنٹرورسی سامنے آئی جب اسمتھ نے رن لینے سے ہی انکار کردیا، ایسا لگا جیسے اس ایک رن کے بعد بابر کھیلنا ہی بھول گئے ہوں، رہی سہی کسر مارک وا نے پوری کر دی جنہوں نے سرِ عام بابر کو ڈراپ کرنے کا مطالبہ کر ڈالا۔
بابر کے اعداد و شمار کسی بھی بڑے کھلاڑی کے لیے پریشان کن ہیں، رنز کا پہاڑ بمقابلہ ریت کی دیوار دیکھیں تو ڈیوڈ وارنر نے صرف 8 میچز میں 433 رنز جڑے جبکہ بابر 11 میچز میں محض 202 رنز بنا پائے وارنر کے 38 چوکوں کے مقابلے میں بابر کے پاس صرف 19 چوکے ہیں اور اگر چھکوں کی بات کریں تو فن ایلن 37 چھکوں کے ساتھ ٹاپ پر ہیں جبکہ بابر صرف 3 چھکے لگا کر 50 بلے بازوں سے بھی نیچے دبے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: انڈر 19 ایشیا کپ :بابراعظم نے جیت کا کریڈٹ کسے دیا؟
اسٹرائیک ریٹ کا المیہ یہ ہے کہ جہاں بی بی ایل کے بیٹرز 150 سے 200 کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیل رہے ہیں وہیں بابر کا اسٹرائیک ریٹ 103.06 پر ہی سانسیں لیتا رہا بابر اعظم اس سیزن کے 11 میچز میں سے 7 بار ڈبل فیگر میں بھی داخل نہیں ہو سکے اور ان میں سے 5 بار تو وہ 2 رنز سے آگے کی باری بھی نہیں کھیل پائے۔
اگرچہ بابر اور سڈنی سکسرز دونوں نے ایک دوسرے کو مسکراتے ہوئے الوداع کہا لیکن کیا یہ واقعی ایک خوشگوار علیحدگی ہے؟ ایک ایسے کھلاڑی کو جو رنز بنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہو اہم میچ سے پہلے ‘ریلیز’ کرنا کیا یہ ڈراپ کرنا نہیں ہے؟











