اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ہالی وڈ کے سپر اسٹار ٹام کروز نے اپنے 40 سالہ کیریئر پر روشنی ڈالتے ہوئے زندگی کے اہم اسباق شیئر کیے اور بتایا کہ کس طرح انہوں نے 600 ملین ڈالر کی بڑی سلطنت قائم کی۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق حال ہی میں ٹام کروز نے اپنی نئی فلم ”مشن امپاسبل“ کی تشہیر کے سلسلے میں ٹیکساس میں ”دی اسکول آف ہارڈ ناکس“ کے ساتھ ایک یوٹیوب انٹرویو میں شرکت کی۔
اس انٹرویو میں کروز نے بتایا کہ انہیں سالوں تک کامیابی کی راہ پر قائم رکھنے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے، انہوں نے وہ اصول و ضوابط شیئر کیے جو ان کو 600 ملین ڈالر کی مالیت تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوئے۔
یوٹیوبر ”اسکول آف ہارڈ ناکس“ کے ساتھ اپنی گفتگو میں کروز نے اپنی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اپنے جذبے اور مسلسل محنت کو قرار دیا۔ ”یہ میرا پیشہ نہیں، یہ میری شناخت ہے“، انہوں نے کہا۔
کروز کے مطابق، فلمسازی صرف ایک کیریئر نہیں بلکہ ایک جنون ہے، جس میں وہ انسانیت، علم اور کہانی سنانے کی محبت کو اپنانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپنے اندر کی سچائی پر قائم رہنے سے وہ اپنی فلمی ٹیم کے ساتھ بڑے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ”مجھے علم حاصل کرنے اور اسے عملی طور پر اپنے اہداف اور اپنی ٹیم کے اہداف کے لیے استعمال کرنے کا جنون ہے۔ میں سیکھنے اور کہانی سنانے دونوں سے گہرا لگاؤ رکھتا ہوں۔“
یہ سب جانتے ہیں کہ ٹام کروز اپنی فلموں میں خطرناک اسٹنٹس خود ہی انجام دیتے ہیں، چاہے وہ ہوائی جہاز سے لٹکنا ہو یا بلند عمارتوں سے چھلانگ لگانا۔ ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا انہیں ایسے جان لیوا مناظر کے دوران خوف محسوس ہوتا ہے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں خوف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کروز کے مطابق ”خوف ایک نامعلوم احساس ہے اور یہ احساس مجھے اچھا لگتا ہے کیونکہ یہ مجھے کچھ نیا سیکھنے پر اکساتا ہے۔“
کروز نے کہا۔ ان کے مطابق، خوف کا سامنا کرنے کے لیے کئی سالوں کی تحقیق اور تیاری ضروری ہے۔ اگر کوئی چیز میرے لیے حقیقی نہ ہو تو میں اسے خود جاننے اور آزمانے کی کوشش کرتا ہوں اور جب ایسا کرتا ہوں تو میرا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ ہاں، جوش باقی رہتا ہے، مہم جوئی کا جذبہ برقرار رہتا ہے۔ مجھے ایک پرجوش اور مہماتی زندگی چاہیے، اور یہی میری خواہش ہے۔
مزید پڑھیں: ہالی ووڈ کی ٹیم پاکستان کی خوبصورتی اوررنگین ثقافت پر فلم بنانےکی خواہاں
کروز نے اپنی کامیابی کا راز اپنی ٹیم ورک کو بتایا۔ ان کے مطابق، کسی بھی خطرناک اسٹنٹ کو حقیقی بنانا محض ایک دن کا کام نہیں، بلکہ اس میں برسوں کی تربیت، ٹیکنالوجی اور کمال کی تیاری شامل ہوتی ہے۔ کروز کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ مہم جوئی اور خطرات کو پسند کرتے ہیں لیکن اصل خوشی اپنے ساتھی فنکاروں اور فلمی عملے کے ساتھ مل کر خوابوں کو حقیقت میں بدلنے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابی کا سفر بچپن ہی سے شروع ہوا تھا۔ چاہے کوئی چھوٹا کام ہو یا بڑا، ان کی کوشش ہمیشہ یہ رہی کہ اسے اعلیٰ معیار پر انجام دیں۔
کروز نے نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایسا علم حاصل کریں جو عملی فائدہ دے۔ ان کے نزدیک خواب دیکھنے اور انہیں پانے کی جدوجہد میں خوف کی کوئی گنجائش نہیں۔
ان کا فلسفہ ہے کہ زندگی کو دوسروں کے لیے جینا ہی اصل کامیابی ہے، ”اپنے خوابوں کا پیچھا کرتے رہو اور جو علم آپ کی زندگی اور دوسروں کی زندگی میں بہتری لا سکتا ہو، وہ حاصل کرو۔“