ماسکو(روشن پاکستان نیوز) روس کے مشرقی علاقے سخالین میں آسمان پر بیک وقت دو سورج طلوع ہوتے دیکھے گئے۔ جبکہ اس سے قبل چین میں بھی 3، 5 اور 7 سورج بیک وقت طلوع ہوتے دیکھے جا چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس کے علاقے سخالین میں 2 سورج ایک ساتھ دیکھنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور ویڈیو وائرل ہونے کی وجہ واقعے کی حیرت ناکی اور عوام کی اس واقعے میں بڑھتی ہوئی حیرت اور تشویش تھی۔
سوشل میڈیا پر بعض مسلمان صارفین کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ واقعہ قیامت کی نشانی تو نہیں؟ تاہم ماہرین فلکیات اور علمائے کرام نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے حقیقت واضح کر دی۔
علمائے کرام کے مطابق اسلام میں قیامت کی نشانی کے طور پر سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ تاہم ایک ساتھ دو، تین یا اس سے زائد سورج طلوع ہونے کا کوئی ذکر قرآن و حدیث میں موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مناظر کو قیامت سے جوڑنا دینی تعلیمات کی غلط تشریح ہے۔
ماہرین موسمیات اور فلکیات کے مطابق اس مظہر کو سن ڈاگ یا پارہیلین کہا جاتا ہے۔ یہ ایک قدرتی نوری مظہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب فضا میں موجود برف کے ننھے کرسٹلز سورج کی روشنی کو مخصوص زاویئے پر منعکس کرتے ہیں۔
اس عمل کے نتیجے میں سورج کے دائیں اور بائیں روشن دھبے نمودار ہوتے ہیں۔ جو دیکھنے میں اضافی سورج معلوم ہوتے ہیں۔ یہ مظہر زیادہ تر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت دیکھا جاتا ہے۔ جب سورج افق کے قریب ہوتا ہے۔
ابتدائی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سخالین میں منفی 14 سے منفی 20 ڈگری درجہ حرارت کے باعث یہ منظر سامنے آیا۔ تاہم ماہرین نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق سن ڈاگ کا زمین کی سطح پر درجہ حرارت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اور یہ دنیا کے کسی بھی خطے اور کسی بھی موسم میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل 2020 میں چین کے شہر موہے میں تین سورج نظر آنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ جبکہ شمالی چین کے علاقے اندرونی منگولیا میں پانچ سورج دیکھنے کے دعوے کیے گئے تھے۔
اگست 2024 میں چینگڈو سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں عوام نے بیک وقت سات سورج چمکتے دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ جس نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔
ماہرین نے ان تمام واقعات کو سن ڈاگ یا بعض صورتوں میں کیمرہ لینس ریفلیکشن کا نتیجہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کا سب سے طویل سورج گرہن کب ہوگا؟ تاریخ سامنے آگئی
ماہرین کا کہنا ہے کہ نظام شمسی میں سورج ایک ہی ہے۔ اور اس کے ایک سے زائد عکس نظر آنا مکمل طور پر سائنسی اور فطری مظہر ہے۔ ایسے مناظر کو پراسرار یا قیامت سے جوڑنا محض غلط فہمیوں اور غیر ضروری خوف کو جنم دیتا ہے۔











