اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ دنیا کے اہم ترین مذاکرات اسلام آباد میں ہو رہے ہیں، جو سفارتی محاذ پر بڑی جیت ہے، پاکستان کو ملنے والی پذیرائی سمیٹنا مشکل ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے “اسلام آباد ٹاکس” کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بڑی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت مثبت ڈپلومیسی کا مرکز بن چکا ہے ، ہرطرف سے پاکستان کوپذیرائی مل رہی ہے، پاکستان کوملنےوالی پذیرائی سمیٹنامشکل ہوگیا ہے اور سفارت کاری کےحوالے سے پاکستان کاقدبڑھ رہاہے
شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے اہم ترین مذاکرات اسلام آباد میں ہو رہے ہیں، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میز پاکستان نے خود تیار کی ہے، جہاں دونوں فریقین اپنا موقف پیش کریں گے، ان مذاکرات میں جی سی سی (GCC)، مصر، ترکیہ اور چین بھی شامل ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کیلئے پاکستان پہنچ گئے
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دونوں فریقین کا اعتماد حاصل کر رکھا ہے اور کئی ممالک بیک ڈور چینلز کے ذریعے پاکستان کے ذریعے پیغامات پہنچاتے رہے ہیں۔
شیری رحمان نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا اسرائیل خطے میں امن نہیں چاہتا اور اس کی خواہش ہے کہ جنگ جاری رہے، لبنان پر اسرائیلی حملوں کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، تاہم لبنان نے براہ راست بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو ایک مثبت قدم ہے۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ ماحول میں سیز فائر (جنگ بندی) کو مستقل امن معاہدے میں بدلنا ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے طویل المدتی اعتماد سازی ضروری ہے۔
رہنما پیپلز پارٹی نے بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس پورے عمل میں بھارت کا رویہ تنگ نظری پر مبنی رہا ہے، بھارتی تجزیہ کار خود اعتراف کر رہے ہیں کہ انہیں سفارتی محاذ پر شکست ہوئی ہے، بھارت نے کبھی بھی امن کے لیے پاکستان کے ساتھ راستہ نہیں کھولا، جبکہ پاکستان ہمیشہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا آیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے سیز فائر سے متعلق دعووں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ فریقین کی حمایت کے بغیر سیز فائر ممکن نہیں ہوتا، ورنہ جنگ جاری رہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معرکہ حق میں سب نے پاکستان کی عسکری طاقت دیکھی اور اب دنیا پاکستان کی سفارتی طاقت کی معترف ہے۔











