اٹک جیل میں مجھے 3 سال تک خاموش بیٹھنے کی ڈیل آفر ہوئی تھی، عمران خان

راولپنڈی (روشن پاکستان نیوز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق چیئرمین عمران خان نے آرمی چیف کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’’عاصم منیر صاحب‘‘! اس ملک کے 25 کروڑعوام کے بارے میں سوچیں، تاریخ نے آپ کو معاف نہیں کرنا، یہ ملک کے مستقبل کی بات ہے، اٹک جیل میں مجھے 3 سال تک خاموش بیٹھنے کی ڈیل آفر ہوئی تھی۔

اڈیالہ جیل میں دوران عدت نکاح کیس کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو پیغام دیتا ہوں 25 کروڑعوام کے بارے میں سوچیں، یہ ملک کے مستقبل کی بات ہے، ورنہ تارآیخ آپ کو معاف نہیں کرے گی، جس طرح کا الیکشن کرانے جارہے ہیں، معیشت تباہ ہوجائے گی، مستحکم جمہوریت کے بغیر کسی ملک کی اکانومی اوپر نہیں جاتی۔

عمران خان نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ملتوی کیے کیوں کہ ہمارے لوگ ابھی چھپے ہیں، آفر ہوئی 3 سال خاموش ہوجائیں اور بنی گالا بیٹھ جائیں، میں نے وہی جواب دیا، جو حقیق آزادی کے نعرے لگانے والے کو دینا چاہئیے، یہ آفر مجھے اس وقت کی گی جب اٹک جیل میں بند تھا، اس پیغام سے اسٹیبلیشمینٹ کی شرائط سامنے آگئیں کہ باریاں باریاں کھیلوں، پہلے تم مزے لو پھر ہم مزے لیں گے۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ میں نے سائفر کیس میں 342 کے بیان پر دستحط نہیں کیا تو فیصلے میں کیسے لگایا، مطلب ہے اس کو ایڈیٹ کیا گیا، انتخابات کا نیا سسٹم ن لیگ اور الیکشن کمیشن نے ہیک کرلیا، ساری جماعتیں تیار رہیں انہوں نے پولنگ ایجنٹس کو اٹھانا ہے اور نتائج کا اعلان کردینا ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ بشری بی بی سے پوچھا تک نہیں 6 گھنٹے بٹھایا اور پھر بنی گالا لے گے، ڈیل ہوتی تو کیا وہ چل کر جیل آتیں البتہ نواز شریف کے کیسز ختم کرنا ڈیل تھی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شفاف انتخابات کے علاوہ کوئی ڈیل منظور نہیں، بولا گیا باری بعد میں دیں گے، پہلے تم اچھے بندے بنوں، جس پر میں نے جواب دیا کہ قانون سب سے بڑا ہے، بشری بی بی کو بنی گالا کے ایک کمرہ تک محدود کردیا ہے، کمرے کے شیشے بند کرکے اندھیرا کردیا گیا، ادھر سے تو جیل میں بہتر ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تیسری دنیا اسی لیے بنی کہ طاقتور قانون کے اوپر ہے، 60 سال سے اوقتدار میں بیٹھی کلاس کے سارے پیسے باہر ہیں، جس دن زرداری سے کہوں گا مجھے بچا لو وہ قیامت کا دن ہوگا، شہباز شریف اور باجوہ کا قریبی تعلق ہے، خواجہ آصف، باجوہ کے سسر کے ساتھ بیٹھا رہتا تھا، اس کا بیان دیکھ لیں، باجوہ کو بتایا تھا فوج میں مداخلت نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کی طرف سے 3 کروڑ روپے لے کر ٹکٹ دینے کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا، ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے رجسٹر اندر نہیں لانے دیا گیا،کیسے ٹکٹوں پر مشاورت کروں۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے شیخ ریحان کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ جنونی کارکن تھا، بہت افسوس ہوا، ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔

سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ میں نے مینار پاکستان جلسے میں بھی کہا تھا کہ 3 سال چپ رہنے کی تلقین ہوئی، باجوہ نے قریشی کو بھی کہا، میں نے کہا اس میں ملک کا فائدہ ہے تو پیچھے ہٹ جاؤں گا، اگر طاقت کے زور پر پیچھے کرنا چاہتے ہو تو نہیں ہٹوں گا۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس 2 بڑی پارٹیوں سے یہی پوچھ لیں کیا کبھی اپنی فیملی میں بھی الیکشن کرایا، ورکر 8 فروری کو جہاد کے لیے نکلیں، ووٹ کے ذریعے آزادی حاصل کریں گے، امریکا اور طاقت کی غلامی کرنا چاہتے ہیں تو غلام کا کوئی مستقبل نہیں، اصل جہاد پولنگ ایجنٹس کا ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ خدا کے واسطے ملک کے 25 کروڑ لوگوں کا سوچو، جس طرح کا الیکشن کرانے جارہے ہو ملکی معیشت تباہ ہوجائے گی سیاسی استحکام ہی معیشیت مضبوط کرے گا، ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہوتاہے، اگر اس پر ملک کے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو بہتر نہیں ہے، جنرل فیض کو آرمی چیف لگانا تو میرے ذہن میں ہی نہیں تھا۔