پی ٹی آئی کی کالعدم قیادت کا انٹرا پارٹیز انتخابات سے پیچھے ہٹنا خوش آئند ہے، اکبر ایس بابر

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی کالعدم قیادت کا انٹرا پارٹیز انتخابات سے پیچھے ہٹنا خوش آئند ہے،اگر یہ غیر قانونی عمل جاری رہتا تو پارٹی کے ڈی لسٹ ہونے کا خطرہ تھا،پی ٹی آئی ایک خوبصورت خواب تھا جو آج ایک ڈراؤنی حقیقت بن چکی ہے،ورکرز کی امانت کو ورکرز کے حوالے کرنا چاہتے ہیں،پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بلا کا چھننا قانون کے مطابق ہے، حالات ثابت کر رہے ہیں کہ ہم نے جو جدوجہد شروع کی وہ ٹھیک ہے ، فارن فنڈنگ کیس میں یہ جھوٹے ثابت ہوئے،حریک انصاف میں ایک ایسی قیادت ہو جو قوم کو بنانے پر توجہ دے، نوجوانوں کی زبان پر گالی اور ہاتھ میں ڈنڈا نہ ہو اور ان ہی بنیادی اصولوں کی بنیاد پر پارٹی بنائی گئی تھی،پی ٹی آئی کا دشمن نہیں بلکہ سب سے بڑا دوست ہوں، پارٹی کا شیرازہ بکھر چکاایک مصالحتی راستے پرچلنے کی ضرورت ہے،بانی چیئرمین کو پیشکش کر رہا ہوں کہ آئیںآپس میںمل بیٹھ کر ایک فریم ورک بنائیں۔

اکبر ایس بابر نے ان خیالات کا اظہار پارٹی کے دیگر بانی اراکین محمود خان، نورین فاروق، محمد مزمل سندھو، بلال اظہر رانا و دیگر کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،اکبر ایس بابر کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کالعدم قیادت کی طرف سے انٹرا پارٹی انتخابات کے نام پر ناٹک رچانے کی کوشش کی گئی تاہم بعد ازاں ان انتخابات کو موخر کرنا خوش آئند ہے کیونکہ اگر نئے انٹراپارٹی الیکشن کے نام پریہ عمل جاری رہتا تو پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا اور پارٹی ڈی لسٹ ہونے کا خطرہ تھا،ہم اس کوشش میں ہیں کہ پی ٹی آئی کو ایک جمہوری ادارہ بنایا جائے،ایک ایسا ادارہ جو قانون سے بالاتر نہ ہوایک ایسی قیادت ہو جو قوم کو بنانے پر توجہ دےایک ایسی قیادت جو نوجوانوں کی زبان پر گالی اور ہاتھ میں ڈنڈا نہ دےیہ وہ بنیادی اصول تھے جس کے تحت پارٹی بنائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک خوبصورت خواب تھا جو ڈراونی حقیقت بن چکا ہے،ہم نےپہلے بھی مطلع کیا تھا کہ ہم انٹراپارٹی کا مقابلہ کریں گےہم نے ایک پٹیشن بھی تیار کرلی تھی،قبضہ گروپ پارٹی کی یہ آخری کوشش تھی جس سے پی ٹی آئی ڈی لسٹ بھی ہوسکتی تھی، پاکستان تحریک انصاف کی تمام قیادت قانونی طور پر کالعدم ہوچکی ہے،جماعت میں ایک ویکوم ہے جسے پورا کرنے کے لیے ہم نے ایک نیشنل کانفرنس بلائی جس میں پی ٹی آئی کے بانی اراکینشریک تھے،حالات ہر روز ثابت کر رہے ہیں کہ ہم نے جو جدوجہد شروع کی وہ ٹھیک ہے،ہم پربڑے الزامات لگے کردار کشی کی گئی لیکن ہم ڈٹے رہے8،سال تک چلنے والےفارن فنڈنگ کیس میں یہ جھوٹے ثابت ہوئے،انٹراپارٹی الیکشن کے حوالے سے بھی ہم سرخرو ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا کہ یہ انٹراپارٹی الیکشن کے نام پر دھوکہ ہواہے،پی ٹی آئی آج تباہی کے دہانے پر ہے،کئی نوجوان پراپیگنڈا متاثرین ہیںجنہیں معصوم سمجھتا ہوں،کچھ لوگ سمجھتے ہیں میں پی ٹی آئی کا دشمن ہوں مگر میں پی ٹی آئی کا سب سے بڑا دوست ہوں،آج پہلی دفعہ سب کے سامنے ایک پیشکش کرنے لگا ہوں5سال سے زائد عرصہ گزر چکا کوئی انٹراپارٹی الیکشن نہیں ہوئےپارٹی پر تازہ ترین حملہ آور افراد کی میں نے نشاندہی کی ،اب ہم نے آگے جانا ہے پارٹی کا شیرازہ بکھر چکاایک مصالحتی راستے پرچلنے کی ضرورت ہے،پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو پیشکش کر رہا ہوں،بانی چیئرمین تین نمائندے اور ایک وکیل کو نامزد کریںہم تین نمائندے اور ایک وکیل نامزد کریں گےیہ آپس میں بیٹھ کر ایک فریم ورک بنائیں،سوشل میڈیا اور سیاست میں آج جھوٹ بکتا ہے،ہم کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کر رہےبنیادی اصول طے کیےجائیں جس میں جتنا بھی وقت لگے،حالات بہت آگے جا چکے، نقصان بہت ہوچکا،مجھے ورکرز کو دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے وہ اندھی تقلید میں کیسے چلے گئے، میں صرف اللہ کی ذات کے آگے سر جھکاتا ہوںلیڈرشپ کو بہت کچھ سہنا پڑتا ہے،مجھ سے لوگ رابطہ کرکے کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو بچا لیں۔