مجھے نہ نکالا جاتا تو کوئی بے روزگار نہ ہوتا۔نواز شریف

حافظ آباد (شوکت علی وٹو) نواز شریف نے کہا ہے کہ کئی سال کے بعد آج میں حافظ آباد کے لوگوں سے مخاطب ہو رہا ہوں ،حافظ آباد سے مجھے بہت پیار ہے ،جس محبت سے نوازا میرے لئے جذبات پر قابو پانا مشکل ہے ،آپ کے اور میرے درمیان جو دل میں پیار ہے وہ جاگ رہا ہے2017میں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نکال دیا گیا ،بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اس لئے وزیر اعظم کی چھٹی کر دی گئی ،2017میں 5ججز نے بیٹھ کر نواز شریف کوفارغ کردیا ،مجھے نہ نکالا جاتا تو آج حافظ آباد میں سب کے پاس باعزت روزگار ہوتا ، مجھے نہ نکالا جاتا تو کوئی بے روزگار نہ ہوتا ۔

جمعرات کو حافظ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ میرا مشن ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج حافظ آباد آکر کئی سال پہلے کی یادیں تازہ ہوگئی ہیں، مجھے حافظ آباد اور یہاں کے لوگوں سے بڑا پیار ہے، آپ سے بات کرتے ہوئے جذبات پر قابو نہیں پایا جارہا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ 2017 میں مجھے بیٹے سے تنخواہ نا لینے پر نکالا گیا، اگر مجھے نا نکالا جاتا تو آج حافظ آباد میں سب کے پاس روزگار ہوتا، ہر گھر خوشحال ہوتا، ہر گھر میں روشنی کے چراغ جل رہے ہوتے، کاروبار ہوتا، کاشتکار خوشحال ہوتے، یہ بجلی، گیس کے بل مہنگے نا ہوتے، روٹی آج بھی 4 روپے کی ملتی۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر مجھے جعلی مقدمات میں پھنسایا نا جاتا تو پاکستان کا مقام اونچا ہوتا، پاکستان ایک منفرد مقام حاصل کر چکا ہوتا، ترقی عروج پر ہوتی اور ہم ایشین ٹائیگر بن چکے ہوتے۔انہوں نے بتایا کہ اس ملک میں دہشتگردی تھی، لوگ ایک دوسرے کا گلہ کاٹتے تھے، بجلی کی قلت تھی، روز بم پھٹتے تھے، تو اس ملک میں ان سب کا خاتمہ کس نے کیا؟