اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی نے ٹیلی فون کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایران اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران پر ہونے والے حالیہ بلاجواز حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کے فوری خاتمے پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں قیامِ امن کا خواہاں ہے اور موجودہ بحران کے پرامن اور مذاکراتی حل کے لیے سفارت کاری کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایران کے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملے، بحرین، ریاض، کویت، ابوظبی نشانہ
دوسری جانب تہران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ ہو چکا ہے، ہم وہاں موجود پاکستانیوں کو وطن واپس بھیج رہے ہیں۔
تہران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے بیان میں کہا ہے کہ ہم نے پہلے ہی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجا ہے، تہران اور گردونواح میں پاکستانیوں کی تعداد کم ہے۔
انہوں کہا ہے کہ یہاں زیادہ تر پاکستانی وہی ہیں جو مستقل سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں، پاکستانی سفیر نے بتایا ہے کہ پاکستانی سفارتی عملے کے اہلخانہ کو بھی واپس بھیج رہے ہیں۔ زیادہ تر ایران میں مقیم پاکستانی سیستان کی طرف رہتے ہیں۔











