کراچی(روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں بجلی کے نام پر صارفین سے کھربوں روپے کے نقصان کی قیمت کیسے وصول کی جا رہی ہے رپورٹ میں ہوشربا انکشاف۔
پائڈ نامی پاکستانی ادارے نے ملک میں بجلی کے بلوں کے نام پر کھربوں روپے کے نقصان کی قیمت عوام سے وصول کیے جانے کی ہوشربا رپورٹ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بجلی کے نرخ میں کئی گنا اضافہ بجلی بنانے کی لاگت پر نہیں بلکہ محض قرضوں کی ادائیگی اور مختلف سرچارجز پر مشتمل ہے۔
پاکستان میں بجلی کے بل صارفین کے لیے کسی سزا سے کم نہیں۔ پائڈ نامی ادارے کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں بجلی کا سرکلر ڈیٹ اب 26 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اور اس پورے قرضے کی قیمت براہِ راست غریب صارفین سے وصول کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر 4.48 کلو کوکین اسمگلنگ کی کوشش ناکام
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بجلی کا شعبہ اب محض ایک مالی بحران سے زیادہ سماجی و معاشی نا انصافی میں تبدیل ہو چکا ہے۔
پائڈ کی تحقیق کے مطابق قومی سطح پر بجلی کے اوسط ٹیرف میں تین گنا اضافہ ہوا، مگر اس ٹیرف کا 30 سے 35 فیصد حصہ بجلی بنانے کی لاگت نہیں بلکہ محض قرضوں کی ادائیگی اور مختلف سرچارجز پر مشتمل ہے۔
ملک میں غریب 40 فیصد گھرانوں کے بل میں غیر پیداواری اخراجات کا حصہ 60 فیصد تک ہے، جبکہ امیر کے بل میں یہی حصہ صرف 30 فیصد رہ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے نرخ اب ایک مالیاتی ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہ سرکلر ڈیٹ ملک میں غربت کو مزید گہرا کر دے گا۔











