اسلام آباد (کرائم رپورٹر) وفاقی دارالحکومت کے علاقے تھانہ سبزی منڈی کی حدود میں ایک مبینہ بڑی واردات سامنے آئی ہے جہاں متاثرہ خاندان کے مطابق پولیس اہلکاروں اور سادہ لباس افراد نے کارروائی کرتے ہوئے 8 افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ کروڑوں روپے کی نقدی اور سامان بھی قبضے میں لے لیا گیا۔
متاثرہ تاجر عاطف عباسی کے مطابق یہ واقعہ ایک پرانے مالی تنازع کا شاخسانہ ہے جو نعمان قریشی نامی شخص کے ساتھ گزشتہ ڈھائی سال سے جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023 میں چینی کی خریداری کے لیے 9 کروڑ 21 لاکھ روپے ایڈوانس ادا کیے گئے تھے، تاہم مبینہ طور پر سامان فراہم نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب مخالف فریق کی جانب سے بھاری مالی دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
خاندان کے ایک اور فرد نے الزام عائد کیا کہ مالی لین دین کے دوران سٹے اور جوئے جیسے معاملات بھی سامنے آئے جن کے باعث تنازع شدت اختیار کر گیا۔
اے این ایف کا مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 7 ملزمان گرفتار
متاثرین کے مطابق پولیس نے دکان پر چھاپہ مار کر سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ ضائع کیا، سیف میں موجود تقریباً ساڑھے تین کروڑ روپے نکال لیے اور حساب کتاب کا ریکارڈ بھی تحویل میں لے لیا۔ بعد ازاں قریبی ہوٹل سے خاندان کے بزرگوں سمیت دیگر افراد کو بھی لے جایا گیا۔
اغواء یا حراست میں لیے گئے افراد میں خاندان کے پانچ افراد اور دکان کے تین ملازمین شامل بتائے جاتے ہیں۔
متاثرہ خاندان نے مزید الزام لگایا کہ ان کے گودام سے دالوں اور چاول کا کروڑوں روپے مالیت کا اسٹاک بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ ایک سب انسپکٹر پر خاص طور پر کارروائی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب پولیس حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ متاثرہ خاندان نے وزیر داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
حکام کی جانب سے مؤقف سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔











