اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی،بے ضابطگیوں،بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ٹھپ کی جانے والی انکوائری کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے۔اس کرپشن کے مرکزی کردار تین عہدوں پر براجمان ایکٹنگ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور اس شعبے کے دیگر ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے جن پر طویل عرصے تک ایک ہی عہدے پر براجمان ہونے اور بدعنوان سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔سی ڈی اے نے متعلقہ شعبے سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور سیکورٹی اینڈ ویجیلنس کی جانب سے ٹھپ کی جانے والی انکوائری کا ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق،تین عہدے رکھنے والے گریڈ 16کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو گزشتہ 16 سے 18 سال سے ایک ہی شعبہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ میں ہی برقرار رکھا گیا ہے جو سی ڈی اے کی روٹیشن پالیسی کی خلاف ورزی ہے روٹیشن پالیسی کے تحت کوئی بھی افسر تین سال سے زیادہ ایک ہی عہدے پر نہیں رہ سکتا لیکن گریڈ سولہ کے ایکٹنگ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی مسلسل تعیناتی نے سوالات کو جنم دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر سینیٹیشن عدیل کو ملازمین سے مبینہ بھتہ وصولی اور کم ملازمین کی موجودگی میں باقی ملازمین کے کوٹے کی تنخواہ ہڑپ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا متعلقہ شعبہ نے ویڈیو ثبوت اور بیانات میں ایکٹنگ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی مبینہ سرپرستی کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس پر مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سی ڈی اے کے مختلف سیکٹرز، جیسے جی نائن،جی ایٹ،جی سکس،جی سیون اور دیگر میں صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ایکٹنگ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ان کے ساتھیوں کی بدعنوانیوں کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے ان الزامات کے تحت ان افسران نے منظور شدہ تعداد سے کم ملازمین رکھ کر اضافی تنخواہ ہڑپ کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ سے صفائی کی صورتحال انتہائی خراب ہو گئی ہے اور کئی علاقوں میں گندگی پھیل رہی ہے۔ایک اور سنگین الزام یہ ہے کہ سینیٹیشن ٹرانسپورٹ میں فیول چوری کی جاتی ہے مختلف سیکٹرز اور کوڑا کرکٹ ڈمپنگ گراؤنڈز سے فیول کی چوری کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں اور اس بارے متعلقہ تھانہ میں متعدد مقدمات بھی درج ہیں تاہم ان الزامات پر ابھی تک کوئی فیصلہ کن کارروائی عمل میں نہیں آئی۔سی ڈی اے کے متعلقہ حکام نے اس پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے تاہم پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ان سوالات کے جوابات فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ایکٹنگ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کو عہدوں سے ہٹایا جا سکتا ہے اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور ریکارڈ آنے کے بعد انکوائری کو حتمی شکل دی جائے گی۔اس ضمن میں رابطہ کرنے کے باوجود اور سوالنامہ ارسال کرنے کے باوجود سی ڈی اے ترجمان اور متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے جواب دینے کے بجائے راہ فرار اختیار کر لی ہے جس سے ان کی پیشہ ورانہ سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
نور پور شاہاں ماڈل ویلج: عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے افسران کی سخت سرزنش











