راولپنڈی (کرائم رپورٹر)سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی کی ہدایات کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ راولپنڈی پولیس اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے جوائنٹ سپیشل پکٹس قائم کر دی گئی ہیں، جہاں راولپنڈی پولیس کے سینکڑوں افسران و اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی ملک طارق محبوب اور ایس پی پوٹھوہار نے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کے ہمراہ جوائنٹ پکٹس کا دورہ کیا، سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور ڈیوٹی پر موجود نفری کو مستعدی کے ساتھ فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ بین الصوبائی شاہراہوں، موٹروے، جی ٹی روڈ اور تمام ملحقہ لنک روڈز پر پکٹنگ مکمل طور پر آپریشنل ہے، جبکہ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی اور سنیپ چیکنگ جاری ہے۔ ٹرانسپورٹ اڈہ جات، بسوں، ویگنز اور مسافروں کی سخت نگرانی اور چیکنگ کی جا رہی ہے۔
سی پی او سید خالد محمود ہمدانی نے حساس مقامات کے گرد و نواح میں سرچ، سویپ اور کومبنگ آپریشنز میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔ شہر بھر میں امام بارگاہوں، مساجد، گرجا گھروں اور دیگر اہم و حساس مقامات پر مربوط سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایلیٹ فورس، ڈولفن سکواڈ، محافظ سکواڈ اور تھانوں کی موبائلز مسلسل پٹرولنگ کر رہی ہیں، جبکہ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے اہم شاہراہوں اور مقامات کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ جاری ہے۔ سی پی او نے تمام سپروائزری افسران کو فیلڈ میں تعینات نفری اور ڈیوٹیز کی سخت نگرانی اور باقاعدہ سپرویژن یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
دریں اثنا سی پی او سید خالد محمود ہمدانی کی زیر صدارت پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم سکیورٹی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ایس ایس پی آپریشنز، ڈویژنل ایس پیز، ایس پی ہیڈکوارٹرز، ایس پی سکیورٹی، امام بارگاہوں کے متولین، مساجد انتظامیہ، ممبران امن کمیٹی، علماء کرام اور صدر انجمن تاجران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں امام بارگاہوں، مساجد اور دیگر اہم تنصیبات کی سکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات پر اتفاق کیا گیا۔ سی پی او نے ہدایت کی کہ مین انٹری پوائنٹس پر چیکنگ کا نظام مزید مؤثر بنایا جائے، سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ یقینی ہو، مورچوں اور روف ٹاپ پر سکیورٹی ڈیوٹی لازمی تعینات کی جائے اور انتظامیہ پولیس کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ سکیورٹی گارڈز بھی رکھے۔
علاوہ ازیں سی پی او کی ہدایت پر کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران 39 مقدمات درج کر کے 43 افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ گزشتہ تین روز میں مجموعی طور پر 120 مقدمات درج کر کے 136 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ کارروائیاں تھانہ نصیرآباد، ویسٹریج، واہ کینٹ، کینٹ، ایئرپورٹ، صدر بیرونی، دھمیال، چونترہ، کہوٹہ، جاتلی اور کلر سیداں کے علاقوں میں کی گئیں۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کرایہ داروں اور ملازمین کی رجسٹریشن لازمی کروائیں، کیونکہ اندراج نہ کروانا قابلِ سزا جرم ہے۔
پتنگ بازی کے خلاف بھی مؤثر کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے دوران 3 افراد کو گرفتار کر کے 1100 سے زائد پتنگیں اور 46 ڈوریں برآمد کی گئیں۔ پولیس کے مطابق پتنگ بازی ناقابلِ ضمانت جرم ہے اور اس خونی کھیل میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
مزید کارروائیوں میں تھانہ سول لائنز پولیس نے ایک ہفتہ قبل دو افراد کے قتل میں ملوث دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان نے ذاتی رنجش پر فائرنگ کر کے شہریوں کو قتل کیا تھا اور واردات کے بعد فرار ہو گئے تھے۔ پولیس نے ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا، جنہیں ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت پیش کیا جائے گا۔
اسی طرح پیشہ ور گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران 29 روز میں شہر بھر سے 315 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں مرد، خواتین اور خواجہ سرا شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق پیشہ ور گداگر نہ صرف ٹریفک میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ کئی دیگر جرائم میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔
راولپنڈی پولیس نے منشیات اور ناجائز اسلحہ کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے 3 افراد کو گرفتار کر کے 15 لیٹر شراب اور اسلحہ بمعہ ایمونیشن برآمد کر لیا۔ گرفتار افراد کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
راولپنڈی پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔











