اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)اسلام آباد پولیس نے مساجد انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے لیے دیئے گئے مراسلے پر جواب جاری کر دیا۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں عبادت کے اوقات میں کم از کم ایک سکیورٹی گارڈ تعینات کیا جائے، سکیورٹی گارڈ کو اسلحہ مسجد کی حدود میں رکھنے کی اجازت ہو گی۔

وزیرا‏عظم شہبازشریف کا مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے شہدا کے ورثا کو 50 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان

مسجد کے داخلی و خارجی راستوں اور اردگرد پارکنگ کی اجازت نہیں ہو گی، مساجد، امام بارگاہوں میں داخل اور نکلنے کیلئے ایک ہی راستہ ہو گا۔ مساجد کے مین گیٹ کے باہر ریڑھی بانوں ، گداگر، ٹوپیاں اور دیگر اشیاء کی فروخت پر پابندی ہو گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد میں مشکوک شخص، سرگرمیوں یا مشکوک سامان کی فوری اطلاع دی جائے ، مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ تمام ہدایات پر فوری عمل کریں، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہو گی۔